میں گلزادی بلوچ کے وکلاء کی ٹیم کا حصہ رہی ہوں، اور اس مقدمے کی کارروائی نے میرے سامنے ایک بنیادی اور نہایت سنگین قانونی سوال کھڑا کیا ہے: کیا کسی شخص کو اس وقت عمر قید کی سزا دی جا سکتی ہے جب اس کے خلاف پیش کی گئی اہم شہادت کو دفاع نے مؤثر جرح کے ذریعے چیلنج ہی نہ کیا ہو؟
گلزادی بلوچ کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ لیکن اس فیصلے کی بنیاد میں وہ گواہی بھی شامل ہے جو ایسے مرحلے پر ریکارڈ کی گئی جب دفاع کی جانب سے کوئی وکیل موجود نہیں تھا۔ یہ معاملہ محض طریقۂ کار کی ایک معمولی خامی نہیں۔ کسی بھی منصفانہ عدالتی کارروائی میں دفاع کا حق، وکیل کی مؤثر معاونت، اور گواہوں پر جرح کا موقع بنیادی قانونی تقاضے ہیں۔
جرح کا مقصد صرف گواہ سے سوالات کرنا نہیں ہوتا۔ جرح وہ قانونی ذریعہ ہے جس کے ذریعے عدالت کے سامنے پیش کی گئی شہادت کو جانچا اور پرکھا جاتا ہے۔ گواہ کے بیان میں موجود تضادات، اس کی یادداشت، مشاہدے کی صلاحیت، بیان کے پس منظر اور ممکنہ مفادات جیسے پہلو جرح کے ذریعے سامنے آتے ہیں۔ اسی عمل کے ذریعے دفاع کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ استغاثہ کے مقدمے کو چیلنج کرے اور عدالت کے سامنے یہ واضح کرے کہ کسی بیان کو محض اس لیے درست اور قابلِ اعتماد نہیں مانا جا سکتا کہ وہ ریکارڈ پر موجود ہے۔
اگر کسی اہم گواہی کو دفاع کی مؤثر موجودگی اور جرح کے بغیر ریکارڈ کیا جائے، تو اس شہادت کی قابلِ اعتماد حیثیت اور اسے سزا کی بنیاد بنانے کے قانونی جواز پر لازماً سوال اٹھتا ہے۔ جو الزام دفاع کے سامنے مؤثر طور پر پرکھا ہی نہ گیا ہو، اسے بلاجواز قطعی سچ تصور نہیں کیا جا سکتا۔
کسی بھی مقدمے میں الزام ثابت کرنے کی ذمہ داری استغاثہ پر ہوتی ہے۔ ملزم پر یہ ذمہ داری نہیں کہ وہ محض الزام کی موجودگی کو غلط ثابت کرے۔ اسی لیے دفاع کا حق بنیادی اہمیت رکھتا ہے: عدالت کو فیصلہ صرف الزام کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس الزام اور اس کے ثبوت کو قانونی طور پر پرکھنے کے بعد کرنا ہوتا ہے۔
اس مقدمے میں ایک دوسرا بنیادی سوال عدالت کی غیر جانب داری سے متعلق بھی پیدا ہوتا ہے۔
میں نے خود اس مقدمے کی کارروائی دیکھی، اور میرے مشاہدے میں عدالت کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے سے قبل ایسے ریمارکس سامنے آئے جنہوں نے عدالتی غیر جانب داری اور پہلے سے ذہن بن جانے کے بارے میں سنجیدہ خدشات پیدا کیے۔ عدالت کا فرض صرف یہ نہیں کہ آخر میں غیر جانب دار فیصلہ تحریر کرے؛ عدالتی غیر جانب داری پورے مقدمے کی کارروائی میں نظر آنی چاہیے۔
ایک منصفانہ عدالت وہ ہے جو استغاثہ اور دفاع، دونوں کو مؤثر طور پر سنے، شواہد کو کھلے ذہن کے ساتھ پرکھے، اور حتمی نتیجے تک پہنچنے سے پہلے کسی ایک فریق کے مؤقف کو حتمی حقیقت نہ سمجھے۔
اگر کسی فریق کے پاس یہ معقول بنیاد ہو کہ عدالت نے شواہد کی مکمل جانچ سے پہلے ہی اپنی رائے ظاہر کر دی تھی، تو یہ صرف تاثر کا مسئلہ نہیں رہتا؛ یہ عدالتی عمل کی منصفانہ حیثیت سے متعلق ایک سنجیدہ قانونی سوال بن جاتا ہے۔
اسی لیے اس مقدمے میں اپیل کو محض ایک رسمی مرحلہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ اپیل کی عدالت کے سامنے سوال صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ نچلی عدالت نے کس بنیاد پر سزا سنائی، بلکہ یہ بھی جانچا جانا چاہیے کہ کیا گلزادی بلوچ کو ابتدا ہی سے منصفانہ اور مؤثر عدالتی کارروائی کا وہ حق حاصل تھا جو قانون اور انصاف دونوں کا تقاضا ہے؟
کیونکہ انصاف صرف نتیجے کا نام نہیں۔ انصاف اس پورے عمل کا نام ہے جو نتیجے تک پہنچاتا ہے۔
اگر دفاع کو اہم شہادت کے وقت مؤثر نمائندگی حاصل نہ ہو، اگر گواہ کے بیان کو جرح کے ذریعے پرکھنے کا حقیقی موقع نہ دیا جائے، اور اگر عدالت کے طرزِ عمل سے اس کی غیر جانب داری پر سنجیدہ سوالات پیدا ہوں، تو پھر یہ جائز طور پر پوچھا جا سکتا ہے کہ آیا سزا ایک مکمل اور منصفانہ عدالتی عمل کا نتیجہ تھی یا نہیں۔
گلزادی بلوچ کا حق صرف یہ نہیں تھا کہ اس کے خلاف مقدمہ چلایا جائے۔ اس کا حق یہ تھا کہ اس کے خلاف مقدمہ قانون کے مطابق، غیر جانب دار عدالت کے سامنے، مؤثر دفاع اور مکمل جرح کے مواقع کے ساتھ چلایا جائے۔ ہم اسی بنیادی قانونی نکتے کو ہر متعلقہ عدالت کے سامنے اٹھائیں گے۔
سزا کا وجود بذاتِ خود منصفانہ عدالتی کارروائی کا ثبوت نہیں ہوتا۔ پہلے یہ طے ہونا ضروری ہے کہ سزا تک پہنچنے والا پورا عمل قانونی تقاضوں، دفاع کے حق، جرح کے اصول اور عدالتی غیر جانب داری کے معیار پر پورا اترتا تھا یا نہیں۔
گلزادی بلوچ کو محض سزا نہیں، منصفانہ سماعت کا حق حاصل تھا۔ اور اگر وہ حق مؤثر طور پر فراہم نہیں کیا گیا، تو یہ سوال پوری قانونی قوت کے ساتھ اٹھنا چاہیے کہ آخر جس شخص کو منصفانہ طور پر سنا ہی نہ گیا ہو، اس کے خلاف سنائی گئی سزا کو کس بنیاد پر برقرار رکھا جا سکتا ہے؟
#ReleaseBYCLeaders
“She asked if I had any news about Dr. Mahrang’s release. I told her I didn’t.”
In Balochistan’s decades-long crisis of enforced disappearances, Amma Zargul has buried two sons and a daughter to state violence and impunity—yet for sixteen years, she has refused to stop demanding her third son’s return.
https://t.co/MT8CE13ZZf
As Dr. Mahrang’s sister and a lawyer in Balochistan, I am watching our justice system be completely weaponized against her, Sibghatullah Shah Ji, and other BYC’s leaders. I need the world to see the facts of how this system is working together to silence us.
For 16 months, BYC leaders have been detained and slapped with over 50 fabricated cases. They were put through 28 days of unconstitutional faceless trials in an Anti-Terrorism Court (ATC). My sister and other BYC leaders boycotted this secret trial, so the state forced its own lawyers on them against their will and handed down a baseless life imprisonment sentence.
But look at how the courts actually played us,
On June 20, 2026, our lawyers filed a Constitutional Petition in the High Court. We challenged the severe bias of the ATC Judge, Muhammad Mubeen. We asked the court to immediately stop the secret trials, remove this judge, and move the cases to an open court.
We pleaded for an urgent hearing on June 22. Instead of listening, the Chief Justice hastily rejected our urgent plea, leaving a note saying "there is no urgency," and pushed the date to June 29.
Shockingly, just 30 minutes after the Chief Justice rejected our plea, Judge Mubeen rushed to announce the life sentences!
It gets worse. When our defense lawyers reached the High Court on June 29 for the rescheduled hearing, they found out our petition was quietly removed from the list entirely. Without giving a single reason, the court delayed our petition by two whole months.
What does this two months delay mean? It means the exact same biased judge we challenged is being given complete freedom to continue running secret trials for the remaining cases! We have absolutely zero trust in him.
This is no longer just a legal dispute. It is crystal clear that the state and the judicial system are working hand-in-hand to punish the BYC leadership at any cost. They are using the disguise of the law to crush human rights and political resistance in Balochistan because they are terrified of how united and aware our people have become.
We will not be silenced by this judicial oppression. I urge international human rights organizations and the world to stop turning a blind eye to Balochistan. Please raise your voices against this mockery of justice!
#ReleaseBYCLeaders
The 320 signatories to Monday’s letter to Pakistan’s Chief Justice deliver a stark warning: “History will judge not only the military establishment but also the judges who enabled its excesses.” The letter argues that “by allowing its halls to be used for political score-settling, the judiciary has also become a victim of these proceedings,” and therefore it cannot evade responsibility for upholding the life sentences imposed on Dr. Mahrang Baloch and Sibghatullah Baloch via faceless trials.
سید بی بی بلوچ کی گرفتاری شرمناک عمل ہے، بلوچستان پولیس اب ریاستی بلوچ نسل کش اداروں کا براہِ راست حصہ بن چکی ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رکن سید بی بی کے خلاف جاری ریاستی کارروائیاں اس حقیقت کا واضح ثبوت ہیں کہ ریاست اختلافِ رائے سے اس قدر خوفزدہ ہو چکی ہے کہ اب ایک بیوہ ماں اور اس کے معصوم بچوں کو بھی اپنی انتقامی سیاست کا نشانہ بنا رہی ہے۔ یہ صرف ایک فرد کے خلاف کارروائی نہیں، بلکہ انسانی وقار، بنیادی آزادیوں اور بلوچ عوام کی اجتماعی سیاسی آواز پر حملہ ہے۔
سید بی بی کو یکم جولائی کی رات ساڑھے نو بجے بغیر کسی قانونی جواز کے حراست میں لیا گیا اور تقریباً 24 گھنٹے بعد رہا کر دیا گیا۔ تاہم رہائی کے بعد دوبارہ فون کر کے انہیں طلب کیا گیا۔ رہائی کے تقریباً آدھے گھنٹے بعد، جب وہ گھر پہنچی، ریاستی فورسز نے انہیں فون کر کے دوبارہ پیش ہونے کو کہا۔ سید بی بی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ ابھی پولیس کی تحویل سے واپس آئی ہیں، اس لیے اس وقت نہیں آ سکتی، صبح حاضر ہوں گی۔ اس پر سی ٹی ڈی اہلکاروں نے انہیں گرفتاری کی دھمکی دی۔ اس دھمکی کے بعد وہ اپنے چھوٹے بچوں کے ساتھ گھر سے نکلیں اور کوئی دوسری محفوظ جگہ نہ ملنے کے باعث پوری رات اپنے شوہر کی قبر کے سرہانے، قبرستان میں پناہ لینے پر مجبور ہوئی۔ ایک بیوہ ماں کا اپنے معصوم بچوں کے ہمراہ خوف اور عدم تحفظ کے عالم میں قبرستان میں رات گزارنا اس ریاستی جبر کی سنگینی کو بے نقاب کرتا ہے۔
سید بی بی گزشتہ ایک سال سے ہر ہفتے سی ٹی ڈی کے دفتر میں پیش ہوتی رہی ہیں، اس کے باوجود ان کے خلاف مسلسل ہراسانی، دھمکیوں اور دباؤ کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔ گزشتہ شب ان کے گھر پر پولیس نے دھاوا بولا، توڑ پھوڑ کی، اور اس کے بعد ان کی والدہ کے گھر بھی گئی، جہاں ان کے بھائی کو جبری گمشدہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ رات قبرستان میں پناہ لینے کے بعد سید بی بی جب گھر پہنچی تو گھر کی حالت دیکھ کر اور اپنے رشتہ داروں کو ہراساں کیے جانے کے خلاف تربت پریس کلب پہنچی ، جہاں انہوں نے پریس کانفرنس کی۔
اس کے بعد وہ خود سی ٹی ڈی دفتر گئی تاکہ انویسٹی گیشن کے لیے پیش ہوں، مگر وہاں انہیں گرفتار کر کے 3-MPO کے تحت ایک ماہ کے لیے تربت سینٹر جیل منتقل کر دیا گیا۔
یہ اقدامات واضح کرتے ہیں کہ ریاست قانون کو انصاف کے لیے نہیں بلکہ اختلافی آوازوں کو دبانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ ایک سیاسی کارکن اور ایک بیوہ ماں کو بار بار نشانہ بنانا نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ بلوچستان میں جاری ریاستی جبر کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی سید بی بی کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کرتی ہے اور واضح کرتی ہے کہ اگر ان کی جان، سلامتی یا صحت کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کی مکمل ذمہ داری متعلقہ ریاستی اداروں اور حکام پر عائد ہوگی۔
ہم ایک کٹھن دور میں جی رہے ہیں۔ صرف ایک ٹویٹ کی بنیاد پر لوگوں کو سزائیں دی جا رہی ہیں، انہیں دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور ہراساں کیا جا رہا ہے۔ ویسے انکو سمجھ کیوں نہیں کہ ایک ٹویٹ پر آنے والا ردِعمل خود اس ٹویٹ سے کہیں زیادہ کسی ادارے کی ساکھ اور وقار کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کا آواران دورہ بھی سرکاری فوٹو سیشن سے آگے نہ بڑھ سکا۔آواران کے عوام کو ایک بار پھر صرف تقاریر سننے کو ملیں، ترقی نہیں حکومت کے پاس وسائل کی کمی کا رونا تو ہےمگر عوام کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کاکوئی منصوبہ نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایسے دوروں کا عوام کو کیا فائدہ؟
وزیراعلیٰ بلوچستان پسماندہ ضلع آواران کے جرگے میں تو پہنچ گئےمگر عوام کیلئے نہ کسی نئے ترقیاتی منصوبے کااعلان کیا، روزگار، تعلیم، صحت یا بنیادی انفراسٹرکچر پر کوئی واضح پالیسی سامنے نہ آئی آواران جیسے محروم ضلع کو محض رسمی دورےکی نہیں،بلکہ عملی اقدامات،ترقیاتی منصوبوں کی ضرورت ہے
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بی وائی سی کے دیگر رہنماؤں کے خلاف مقدمہ پہلے ہی سے طے شدہ تھا۔ عدالتی کارروائی محض ایک فارملٹی کے سوا کچھ نہیں تھی۔ نہ کوئی ٹھوس ثبوت پیش کیا گیا اور نہ ہی ایسا کوئی جرم ثابت کیا گیا جس کی بنیاد پر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ جی کو عمر قید کی سزا سنائی جاتی۔ یہ فیصلہ ریاستی بوکھلاہٹ کے سوا کچھ نہیں۔
بی وائی سی کے قانونی وکلاء اور جیل میں قید رہنماؤں نے پہلے ہی دن سے ریاست کی جانب سے مقرر کردہ نام نہاد کونسل کو مسترد کر دیا تھا کیونکہ وہ ان کی مرضی اور رضامندی کے بغیر مقدمے کی پیروی کر رہا تھا۔ یہ ایک ایسا مقدمہ تھا جس میں ریاست نے خود کارروائی چلائی، کونسل بھی اسی کی مقرر کردہ تھی، گواہ بھی اسی کے زیر اثر تھے اور فیصلہ بھی اسی کی مرضی کے مطابق سنایا گیا۔
فیس لیس اور اسپیڈی ٹرائل کے بعد اب وہی ریاستی کونسل، جس نے بی وائی سی کے لیگل وکلاء اور جیل میں قید بی وائی سی کے رہنماؤں کی مرضی کے بغیر ان کی نمائندگی کی، اسے ریاست کی جانب سے بڑے عہدوں سے نوازا جا رہا ہے۔ غیر منصفانہ فیصلے کے بعد سید اقبال شاہ کو ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان تعینات کیا جانا اس بات کو واضح کرتا ہے کہ عدالتی نظام کس حد تک بوسیدہ ہو چکا ہے۔
#ReleaseBYCLeader
#FairTrialForBYCLeaders
کل رات گئے کر اچی میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مرکزی رہنما سمی دین بلوچ کے گھر پر پولیس و خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں نے چھاپا مارا۔ چھاپے کے دوران ان کے گھر کے دروازے توڑے گئے، گھر میں تھوڑ پھوڑ کی گئی گھر میں موجود تمام قیمتی سامان چوری کرلیا گیا، کتابیں ضبط کی گئیں اور اہلِ محلہ کو ہراساں کیا گیا۔
سمی دین بلوچ ایک جبری گمشدگیوں سے متاثرہ خاندان ہونے کے ساتھ جمہوری سیاسی کارکن ہیں اور ان کی سرگرمیاں کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ان کے خالی گھر پر اس نوعیت کی کارروائیوں کا مقصد انہیں خوفزدہ کرنا، دباؤ میں لانا اور ان کی آواز کو خاموش کرنے کی کوشش کرنا ہے۔
ہم سمجھتے ہے کہ یہ کارروائی صرف سمی دین بلوچ کے خلاف نہیں، بلکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی پوری قیادت کے خلاف جاری وسیع ریاستی جبری اقدامات کا تسلسل ہے۔ بی وائی سی کے رہنماؤں کو مسلسل گرفتاریوں، چھاپوں، ہراسانی اور مختلف نوعیت کے دباؤ کا سامنا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد ان آوازوں کو خاموش کرنا ہے جنہوں نے بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، جبری گمشدگیوں اور ریاستی جبر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کیا ہے۔
سمی دین بلوچ گزشتہ سترہ برسوں سے اپنے جبری گمشدہ والد، ڈاکٹر دین محمد بلوچ، کی بازیابی کے لیے آواز بلند کرتی رہی ہیں۔ وہ نہ صرف اپنے والد بلکہ تمام جبری لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کے لیے امید، استقامت اور مزاحمت کی ایک علامت بن چکی ہیں۔
سترہ برس کی جدوجہد نے انہیں خاموش ہونا نہیں بلکہ ظلم کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہونا سکھایا ہے۔یہ کارروائیاں شاید خوف پھیلانے کے لیے ہوں، مگر سمی دین بلوچ اُن افراد میں سے ہیں جنہوں نے صرف خوف کے سائے میں جینا نہیں بلکہ اس کا مقابلہ کرنا سیکھا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے ہتھکنڈے محض ریاست کے ان عزائم کا عیاں کرتی ہے جو وہ بلوچ نسل کشی کے لیے طے کرچکا ہے۔
ایسے اقدامات شہری آزادیوں، نجی زندگی کے تقدس اور بنیادی انسانی حقوق کے حوالے سے سنگین سوالات کو جنم دیتے ہیں، جن کا جواب متعلقہ حکام پر لازم ہے
بلوچستان کے سیاسی اور انسانی حقوق کے مسائل کاجواب بہتان تراشی نہیں، بلکہ آئین، قانون اور شفاف تحقیقات/انصاف ہیں۔ انصاف کو غداری میں بدلنے کی روایت جمہوریت نہیں بلکہ فسطائیت کی علامت ہے۔
آج ہم ایک پُرامن احتجاج کرنے جا رہے تھے، لیکن ہمارے وہاں پہنچنے سے پہلے ہی پولیس اور ریاستی اداروں کے اہلکار بڑی نفری میں پہنچ چکے ہیں۔ ہمیں خدشہ ہے کہ وہ ہمارے پُرامن احتجاج کو سبوتاژ کرنے کے لیے ہم پر لاٹھی چارج یا گرفتاریاں کر سکتے ہیں۔ یہ اس بات کی عکاسی ہے کہ ریاست پُرامن احتجاج سے بھی خوف زدہ ہے۔
ہم واضح کرتے ہیں کہ ہمارا یہ احتجاج مکمل طور پر پُرامن ہوگا۔ اگر احتجاج میں شریک کسی بھی فرد کو کوئی نقصان پہنچا یا کسی بھی قسم کا تشدد کیا گیا تو اس کی ذمہ داری پولیس اور انتظامیہ پر عائد ہوگی۔
ہم کوئٹہ میں موجود تمام افراد سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ برما ہوٹل، کوئٹہ پہنچ کر ہمارا ساتھ دیں اور ریاستی تشدد اور جبر کے خلاف پُرامن جدوجہد کا حصہ بنیں۔ ہم تمام مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہماری آواز دنیا تک پہنچانے کے لیے ریاستی تشدد اور جبر کے خلاف میڈیا میں ہماری آواز بنیں۔
#ReleaseBYCLeaders
ہم نے جب بھی پُرامن طریقے سے جدوجہد کرنے کی کوشش کی، ہماری آوازوں اور سیاسی رہنماؤں کو دبانے کی کوشش کی گئی۔ ہم نے جب بھی انصاف کے حصول کے لیے عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹایا، ہمیں ناانصافی اور جبر کے سوا کچھ نہیں ملا۔ ہم نے جب بھی اپنی آواز دنیا تک پہنچانے کی کوشش کی، ہماری آوازوں کو خاموش کرنے کی کوشش کی گئی۔ اب اگر ہمارے ساتھ کوئی کھڑا ہے تو وہ بلوچ قوم ہے، جس کے حوصلے، ہمت اور دلیری یہ ثابت کرتی ہے کہ ریاست ہم پر ظلم کے پہاڑ کیوں نہ توڑ دے، ہمیں ہر حال میں اپنے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھنی ہوگی۔
آج یہ ظلم اور جبر کی داستان صرف ایک فرد یا خاندان تک محدود نہیں بلکہ آج ہر بلوچ اسی ناانصافی اور جبر کے سائے تلے زندگی گزار رہا ہے۔ اظہارِ رائے کی آزادی کا حق، پُرامن طریقے سے زندگی گزارنے کا حق، حتیٰ کہ یہاں جینے اور سانس لینے کا حق بھی ہم سے چھینا جا رہا ہے۔ اب اس نظام میں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ بلوچ قوم کرے تو کیا کرے؟
پُرامن سیاست، منصفانہ ٹرائل اور پُرامن احتجاج کا حق نہ صرف عالمی اصولوں کا حصہ ہے بلکہ ریاست کے اپنے قوانین میں بھی تسلیم شدہ ہے۔ مگر ہم نے جب بھی پُرامن طریقے سے اپنے حقوق کے لیے جدوجہد اور مزاحمت کا راستہ اختیار کیا، ہمیں تشدد، لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑا۔
میں ایک بات واضح کرنا چاہتی ہوں کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہ جی صبغت اللہ کو عمر قید کی سزا سنانا، وہ بھی بغیر کسی واضح اور ٹھوس ثبوت و شواہد کے، بلوچ قوم کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ ریاستی عدالتی نظام میں بلوچ عوام کے لیے انصاف کی کوئی گُنجائش نہیں ہے۔
مگر ہم یہ مقدمہ بلوچ عوام کے سامنے رکھتے ہیں کہ اب انصاف کی یہ جنگ بلوچ عوام اور قوم کو لڑنی ہوگی۔ ہمیں متحد ہو کر اس جبر کے خلاف پُرامن طریقے سے مزاحمت جاری رکھنی ہوگی۔ ہمیں اپنی پُرامن جدوجہد کو مضبوط کرنا ہوگا تاکہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں بیٹھے حکمرانوں کو معلوم ہو کہ ظلم، تشدد اور جبر کے باوجود ہم متحد ہو کر اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہیں۔
کل جو سب کی آواز تھے، کل جو ہر متاثرہ خاندان کے شانہ بشانہ کھڑے رہے، کل جنہوں نے دن رات ایک کر کے بلوچ عوام کے لیے جدوجہد کی، آج وہ ہماری جدوجہد اور ہماری آوازوں کے منتظر ہیں۔
کل جس نے کہا تھا کہ: “میں رہوں یا نہ رہوں، یہ تحریک آپ کی امانت ہے۔”
تو آئیں، ہم انہیں جیل میں یہ احساس دلائیں کہ آپ کی امانت ہم نے اپنے سینوں سے لگا کر محفوظ رکھی ہوئی ہے اور آخری دم تک اس تحریک کو انصاف، آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کے لیے پُرامن جدوجہد کے ذریعے جاری رکھیں گے۔
بلوچ عوام کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ مزاحمت ہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے ہم اپنی بنیادی انسانی حقوق کی جدوجہد جاری رکھ سکتے ہیں۔
ریاست کو یہ جاننا چاہیے کہ آپ جتنا زیادہ ہم پر جبر کریں گے، ہم اتنا ہی مضبوط ہو کر ابھریں گے۔ آپ جتنا ہمیں دبانے کی کوشش کریں گے، ہم اتنی ہی ثابت قدمی کے ساتھ پُرامن مزاحمت کریں گے۔ آپ جتنے لوگوں کو قید کریں گے، اتنے ہی لوگ اپنے حقوق کے لیے آگے آتے رہیں گے، یہاں تک کہ ظلم کی طاقت ہمارے حوصلوں کے سامنے کمزور پڑ جائے گی۔
#ReleaseBYCLeaders
The peaceful protest organized by the families of detained BYC leaders at Burma Hotel, Sariab, Quetta, was met with a heavy crackdown by Quetta Police.
Several peaceful protesters were arrested. As of now, the whereabouts of many of those detained remain unknown, raising serious concerns for their safety and well-being.
The right to peaceful assembly and freedom of expression must be respected. The families’ call for justice was answered with force, and those taken into custody should be accounted for immediately.
We demand that the authorities disclose the whereabouts of all detained protesters, ensure their safety, and uphold their legal rights.
#ReleaseBYCLeaders
ریاستی اداروں اور پولیس انتظامیہ نے ہمارے پُرامن احتجاج پر کریک ڈاؤن کیا، مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا گیا اور گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔ ہمارے بہت سے ساتھیوں کو پولیس نے جبراً گرفتار کرکے اپنے ساتھ لے گئی، جن میں عورتیں بھی شامل ہیں، جن کے بارے میں ہمیں کوئی معلومات نہیں ہیں جبکہ درجنوں مظاہرین کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور زخمی کیا گیا۔ پُرامن ہونے کے باوجود یہ ریاست ہم پر لاٹھیاں برسا رہی ہے۔
ہمارا احتجاج اب بھی سریاب میں جاری ہے۔ ہم ایک بار پھر کوئٹہ کے باشعور عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ آئیں، ہمارا ساتھ دیں اور ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہ جی صبغت اللہ کے خلاف من گھڑت اور جھوٹے مقدمات کی بنیاد پر سنائی گئی عمر قید کی سزا کے خلاف مزاحمت کریں۔
ہم التجا کرتے ہیں کہ ریاستی جبر اور تشدد کو دنیا کے سامنے لانے کے لیے ہماری آواز بنیں، میڈیا میں ہمارا ساتھ دیں اور جہاں بھی ممکن ہو، نکلیں اور اپنی جدوجہد جاری رکھیں۔ ہم ایک بار پھر واضح کرتے ہیں کہ ریاست تشدد کے بل بوتے پر ہماری اس پُرامن احتجاج کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ہمیں خدشہ ہے کہ تمام مظاہرین کے خلاف دوبارہ کریک ڈاؤن کیا جائے گا اور انہیں بھی لاٹھی چارج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
@EUPakistan@KaroblisR@HRCP87@UNinPak@amnestysasia@MunizaeJahangir@TIME@UNHumanRights@BBC100women@AusHCPak@NLinPakistan@FrontLineHRD@HamidMirPAK@VeengasJ
#ReleaseBYCLeaders
#StopStateTerrorism
Witness the peaceful assembly of Baloch women. Do their traditional shawls look like body armour? Do their cardboard placards look like ammunition? If a state fears paper signs, who is the one living in terror?
@francescam63@UN_PGA@MaryLawlorhrds@UN_Women