اپنے سیاسی قائد، سیاسی استاد اور فکری رہنما شہید چیئرمین زبیر بلوچ کی پہلی برسی کے موقع پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔آپ کی فکر، جدوجہد اور سیاسی تربیت ہمیشہ ہمارے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔
شہیدجسمانی طور پر ہم میں نہیں، مگر اپنی فکر اور جدوجہد میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
سرخ سلام
ہمارے عزیز دوست فضل یعقوب بلوچ کے بھائی انصاف الحق لمفوما کینسر میں مبتلا ہیں اور پانچ معصوم بچوں کے کفیل ہیں۔ علاج کے لیے تقریباً 50 لاکھ روپے درکار ہیں، جبکہ خاندان اپنے تمام وسائل خرچ کر چکا ہے۔
#SaveInsafUlHaq#Balochistan#ShareThisPost@ZahoorBuledi
بلوچستان میں امن و امان کو خراب کرنے اور عورت کی عزت کو لیلام کرنا یہ سرکاری سردار کا دھندہ تھا لیکن اسماء جتک کے ساتھ جو کچھ ہوا اس زمہ دار وہی سرکاری سردارہے وقتی سہارا لینے والے سرکاری سردار اور دھندے باز کے خلاف انتظامیہ کیوں خاموش ہے یہ ریاست پر ایک اہم سوالیہ نشان ہے
گزشتہ 2 سالوں ایک مظلوم بچی اپنی عزت منگ ناموس اور خاندان کو تعفظ کے لیے قرآن پاک ہاتھ میں اٹھا کر چحلاتی رہی لیکن حکومت اور انتظامیہ ان ملزموں کے خلاف کاروائی کرنے میں بے بس ہوگئی ہے بدلے میں مظلوم بچی کو باپ کا لاش ملی 💔
@PakSarfrazbugti@HamidMirPAK
گزشتہ 2 سالوں ایک مظلوم بچی اپنی عزت منگ ناموس اور خاندان کو تعفظ کے لیے قرآن پاک ہاتھ میں اٹھا کر چحلاتی رہی لیکن حکومت اور انتظامیہ ان ملزموں کے خلاف کاروائی کرنے میں بے بس ہوگئی ہے بدلے میں مظلوم بچی کو باپ کا لاش ملی 💔
@PakSarfrazbugti@HamidMirPAK
کتاب، قلم اور لائبریری ہمارا حق ہیں؛ تعلیم پر
کوئی سمجھوتہ قبول نہیں۔"
طلبہ و طالبات سڑک پر پُرامن احتجاج کر رہے ہیں اور اپنے مطالبات کے حق میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے ہیں۔ یہ منظر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یہ مسئلہ طلبہ کے لیے اہم ہے اور وہ اس پر اجتماعی طور پر آواز اٹھا رہے ہیں۔
خضدار پبلک لائبریری صرف ایک عمارت نہیں بلکہ علم تحقیق/شعور کا ایک اہم مرکز ہے
جہاں روزانہ سینکڑوں طلبہ وطالبات اپنی تعلیمی ضروریات پوری کرنے کیلئےآتے ہیں اگر اس لائبریری کو درپیش مسائل فوری طور پر حل نہ کیے گئے تو اس کا براہِ راست نقصان نوجوان نسل کی تعلیم اور مستقبل کو پہنچے گا۔
مشکے تا آواران مرکزی شاہراہ گزشتہ 8 ماہ سے بند ہے، جس کے باعث عوام شدید مشکلات کا شکار,طلبہ، ملازمین اور عام شہریوں کو روزانہ اذیت ناک سفر کرنا پڑ رہا ہے۔ آواران جانے کے لیے نال،وڈھ اور جھاؤ کے طویل راستے سے گزرنا پڑتا ہے، جس سے وقت، اخراجات اور مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے
محمد جان کو گزشتہ شب مبینہ طورپرجبری طور پر لاپتہ کیے جانے کی اطلاعات انتہائی تشویشناک ہیں۔ محمد جان اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے/خاندان کا واحد سہاراہیں اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو یہ بنیادی انسانی حقوق اور قانون کی بالادستی پر سنگین سوال اٹھاتی ہے ہم اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہیں
وزیراعلیٰ بلوچستان کا آواران دورہ بھی سرکاری فوٹو سیشن سے آگے نہ بڑھ سکا۔آواران کے عوام کو ایک بار پھر صرف تقاریر سننے کو ملیں، ترقی نہیں حکومت کے پاس وسائل کی کمی کا رونا تو ہےمگر عوام کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کاکوئی منصوبہ نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایسے دوروں کا عوام کو کیا فائدہ؟
وزیراعلیٰ بلوچستان پسماندہ ضلع آواران کے جرگے میں تو پہنچ گئےمگر عوام کیلئے نہ کسی نئے ترقیاتی منصوبے کااعلان کیا، روزگار، تعلیم، صحت یا بنیادی انفراسٹرکچر پر کوئی واضح پالیسی سامنے نہ آئی آواران جیسے محروم ضلع کو محض رسمی دورےکی نہیں،بلکہ عملی اقدامات،ترقیاتی منصوبوں کی ضرورت ہے
وزیراعلیٰ بلوچستان پسماندہ ضلع آواران کے جرگے میں تو پہنچ گئےمگر عوام کیلئے نہ کسی نئے ترقیاتی منصوبے کااعلان کیا، روزگار، تعلیم، صحت یا بنیادی انفراسٹرکچر پر کوئی واضح پالیسی سامنے نہ آئی آواران جیسے محروم ضلع کو محض رسمی دورےکی نہیں،بلکہ عملی اقدامات،ترقیاتی منصوبوں کی ضرورت ہے
بلوچستان کے سیاسی اور انسانی حقوق کے مسائل کاجواب بہتان تراشی نہیں، بلکہ آئین، قانون اور شفاف تحقیقات/انصاف ہیں۔ انصاف کو غداری میں بدلنے کی روایت جمہوریت نہیں بلکہ فسطائیت کی علامت ہے۔
ہمارے خواتین کئی دنوں سے اپنے بنیادی حقوق اور اپنے پیاروں کیلئے سراپا احتجاج ہیں، مگر ان کے سوالات کا جواب دینے کے بجائے ریاستی طاقت کااستعمال کیا جا رہا ہے یہ رویہ مسائل کو حل نہیں بلکہ مزید گہرا کرتا ہے۔ ریاست کو چاہیے کہ کریک ڈاؤن فوری بند کرے، احتجاج کرنے والوں کی آواز سنے۔
This video should have been recorded tomorrow, on the seventeenth year of my Father’s enforced disappearance. Instead, I am recording it today because for the last month and as recently as yesterday, I am being threatened with imprisonment. Seventeen years after they disappeared my father, I am still being forced to live in the shadow of the repression that stole him from us.
Dr. Mehrang Baloch human rights activists few days before has been sanctioned life imprisonment along with other BYC leaders by ATC in Balochistan, has been nominated for noble peace prize for second time.
دوسری مرتبہ نوبل امن انعام کے لیے نامزد ہونا اس حقیقت کی عکاسی کرتاہے بلوچستان میں انسانی حقوق، انصاف،بنیادی آزادی سے متعلق آوازیں عالمی سطح پر بھی توجہ حاصل کر رہی ہیں۔ یہ نامزدگی ان تمام افراد کیلئےحوصلہ افزا ہے جو جمہوری اقدار، آئینی حقوق اور پرامن جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔
The life imprisonment of Dr. Mehrang Baloch and Sibghatullah Shagi is a symbol of suppressing the voice of the Baloch nation, weakening it, and committing public barbarity and violence. The guardians of the law have proven that they want the Baloch land and not the Baloch nation.