دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ فیفا ارجنٹینا کے خلاف مبینہ ناانصافی کی یہ ویڈیو بار بار ہٹا رہا ہے۔
اس ویڈیو کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ مصر کے ساتھ ہونے والی مبینہ ناانصافی کو فراموش نہ کیا جائے۔
جو لوگ دن رات سوشل میڈیا پر شکوے کرتے ہیں کہ پاکستانی اپنے حق کے لیے نہیں نکلتے وہ جان لیں کہ کشمیر اور بلوچستان میں عوام بڑی تعداد میں اپنے مطالبات کے حق میں باہر نکلے ہیں۔ دونوں جگہوں پر کئی دھرنے جاری ہیں مگر میڈیا میں مکمل بلیک آؤٹ سے خبر دبائی جا رہی ہے۔ اب آپکی ذمہ داری ہے کہ کھل کر انکی کوریج سوشل میڈیا پر کریں انکی آواز کو پوری دنیا تک پہنچائیں۔ تاکہ مایوسی کی جگہ امید جنم لے۔۔۔
اپنے حلقہ پی پی 159کی عوام کا شکریہ آپ نے عمران خان صاحب سے وفا نبھائی ہے خان کے سپاہی کو جو عزت دی اس پر تاحیات مجھے احسان مند کردیا ہے آپ کی طاقت اتنی زیادہ تھی کہ مجھے ہرانے پورے پنجاب سے پولیس کو آنا پڑا،دس ہزار ووٹ بھی نہ لینے والی کو جس طرح جیتوایا گیا تماشہ قوم نے دیکھا
بلوچستان کے حالات پر دل رنجیدہ ہے ۔ بلیک آؤٹ کا مطلب مسئلہ ختم ہو جانا نہیں ہوتا ۔ انٹرنیشنل میڈیا دکھا رہا ظاہر ہے پھر وہ مرچ مصالحہ بھی لگاتے ہیں ۔ہم زمینی حقائق کو تسلیم کیے بغیر جذباتی rhetoric سے مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں ۔ جنرل ناصر جنجوعہ جب کمانڈر سدرن کمانڈ تھے تو انہوں نے عسکریت پسندوں کو عملاً پسپا کیا تھا جس میں نوجوان نسل کو مرکزی دھارے میں شامل کرنا اورانہیں عزت دینا تھا۔ نواز شریف نے ڈاکٹر عبدالمالک اور دیگر ساتھ حکومت بنا کر سیاسی طور پر مرہم رکھا تھا اور پھر جنرل جنجوعہ کو قومی سلامتی کا مشیر بنایا جس سے سنجیدگی ظاہر ہوتی تھی ۔ عمران خان کے دور میں لاپتہ افراد کی واپسی سے ایک امید پیدا ہوئی تھی۔
اب تو جو سامنے بٹھائے گئے ہیں انکو دیکھ کرہی اندازہ ہوجاتا سنجیدگی کا ۔
میرے ذہن میں بار بار ایک سوال آرہا بندوق اٹھانے والوں کے جواب میں ہمارے پاس متبادل بیانیہ کیا ہے ؟
@ajmaljami کل ڈی جی ائی ایس پی ار نے بولا کہ لوگ ہماری ترقی اور عزت سے پریشان ہیں ایسا ہی کچھ شاید بولا اسی وجہ سے ہمارے سرکاری افسران اور حکام پریشان نہیں ہوتے یہی تو ترقی ہوئی ہے جس کی کل وہ بات کر رہے تھے
@SdqJaan ایک کہتا تھا کہ یہ مٹھی بھر لوگ 1500 لوگ کیا بگاڑ سکتے ہیں دوسرا کہتا تھا یہ ایک ایس ایچ او کی مار ہیں اگلے اپنا کام کر رہے ہیں اور یہ لوگ صرف باتیں
جہاں تنقید بنتی ہے وہاں تو ہم کرتے ہیں لیکن اسمبلی ارکان کے مراعات اور استحقاق کے حوالے سے کوئی نیا قانون نہیں لایا گیا۔
یہ قانون 1988سے موجود ہے،جسے نیا نام دیا گیا ہے ۔
مفت رہائش، ٹول ٹیکس سے استثنیٰ 1988 کے ایکٹ میں بھی موجود ہے۔
پرانے قانون کے مطابق ہی ارکان اسلحہ کے لائسنس بھی رکھ سکتے ہیں
پرانے ایکٹ کے مطابق ہی جسٹس آف پیس کا اختیار بھی رکن صوبائی اسمبلی کو دیا گیا ہے۔
بلیو پاسپورٹ کا حق پنجاب اسمبلی کے قانون میں بھی موجود ہے۔
سندھ اسمبلی کے ارکان بھی انہی مراعات کے حقدار ہیں۔
پرانے قانون میں ہی کچھ نیا اگر شامل ہوا ہے یا تبدیلی ہوئی ہے تو وہ اسمبلی کے ارکان کے ساتھ مشاورت کے بعد کی گئی ہے،بے بنیاد پروپیگنڈہ نہیں ہونا چاہیے
اگر اسمبلی میں ایسی کوئی چیز لائی جائے گی جو عوامی مفاد کے خلاف ہو تو سب سے پہلے ہم آواز اٹھائیں گے لیکن ارکان کے استحقاق پر بھی قدغن نہیں لگنی چاہیے۔
پہلے سے موجود قانون میں تبدیلی اپوزیشن کی مرضی سے کی گئی ہے آئین و قانون کے مطابق کی گئی ہے
@SamarHBilour حرام کی سیٹ پر ائی ہوئی یہ ایم این اے
@surrakimuhammad کی https://t.co/g4HqX6SXQP اس پوسٹ پہ کبھی کمنٹ یا کوئی پوسٹ نہیں کرے گی کوئی ٹویٹ نہیں کرے گی حرام کی سیٹ پر ائی ہوئی ہے نا حلال کی سیٹ پر ائی ہوئی ہوتی تو سچ بولتی حرام کی سیٹ پر ائی ہوئی ہے اگلے اٹھا کے باہر پھینک دیں گے