میرا بلوچستان جانا پہلی بار نہیں ہوا۔ کئی سالوں سے یہ سلسلہ جاری ہے۔ بلوچستان جا کر عوام کیساتھ پروگرام بھی کیے۔ حکومتی، ریاستی بریفنگز بھی متعدد بار اٹینڈ کیں۔ اواران، خضدار، تربت، چاغی، کوئٹہ، حب، گوادر، چمن، کوئٹہ، مستونگ، زیارت سمیت کئی دیگر شہروں میں جا کر براہ راست عوام سے بات ہوئی پروگرامز ہوئے۔ ھم صحافیوں کے بلوچستان کے حالیہ دورے اور کور کمانڈر کوئٹہ کی بریفنگ میں شرکت پر تکلیف صرف انہیں ہے جو آج تک بلوچستان کی صرف منفی تصویر دکھاتے آئے ہیں، یہ وہ خفیہ اور اعلانیہ دہشتگردوں کے سہولتکار ہیں جو پاکستان مخالف قوتوں کے ٹاوٹ ہیں اور انہی کا بیانیہ آگے بڑھانے کی نوکری پر ہیں۔ انہیں تکلیف اس بات کی ہوئی کہ ریاست نے اسقدر بھرپور اور جامع بریفنگ کا انعقاد کر کے ان کی نوکریوں اور ان کے پاکستان مخالف آقاوں کے ایجنڈے کو کمزور کرنے ختم کرنے کی نئی بنیاد جو رکھ دی ہے۔ لیکن یہ سلسلہ اب چل نکلا ہے۔ اب بلوچستان پر بات ہو گی، کھل کر بات ہو گی، ہر دہشتگرد، اس،کا حمایتی سہولتکار منافق جو بلوچ عوام کی آڑ لے کر اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانا چاہتا ہے، سب ایکسپوژ ہونگے۔ اب بات صرف بلوچستان کی ترقی، عوام کی خوشحالی، امن کی ہو گی۔ اب صرف پاکستان اور پاکستانیت کی بات ہوگی۔
خارش زدہ، تکلیف زدہ عناصر بات کر رہے ہیں بلوچستان کے مسنگ پرسنز کی۔ ان کی exaggerated تعداد بھی ایک بڑا ڈھکوسلہ ہے۔ ماہرنگ بلوچ سمیت دیگر کئی نام نہاد دہشتگردوں کے سہولتکاروں سے جب مسنگ پرسنز کی لسٹ، ناموں شناخت، والدین کی شناخت کے سمیت مانگی گئی تو راہ فرار اختیار کر لی۔ مسنگ پرسنز کمیشن کے سامنے صرف چند سو کی اصل تعداد سامنے آئی جن میں سے 90% سے زائد کا پتہ لگا کر فیملیز کو آگاہ کر دیا گیا۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ فلاں نام لے لیا جائے کہ مسنگ ہے مگر اس کی نہ کوئی شناخت ہو نہ والدین نہ علاقے کا کوئی ٹریس دیا جائے۔ اسوقت صرف 282 افراد بلوچستان کے مسنگ ہیں جن کی فیملیز سے حکومت پاکستان مسلسل رابطے میں ہے اور ان کو پیش رفت سے آگاہ رکھے ہوئے ہے۔ جو نام نہاد "بلوچ حقوق کے چیمپیئن" مسنگ پرسنز کا جھوٹا بیانیہ بناتے، تعداد ہزاروں لاکھوں میں بتاتے نظر آئیں، ان کو میرا چیلنج ہے کہ ان تمام ناموں کی شناخت، والدین، علاقوں کی شناخت سامنے لائیں۔ اور مسنگ پرسنز کمیشن میں باضابطہ درج کروا کے ان کی واپسی یقینی بنائیں۔ اور اگر ایسا نہ کریں تو عوام سمجھ جائیں کہ یہ جھوٹے ہیں۔
پاکستان زندہ باد۔۔۔! 🇵🇰
دنیا کی ٹاپ کی یونیورسٹی امریکہ کی کولمبیا یونیورسٹی ہے لوگوں کا خواب ہوتا اس میں داخلہ ملے اور بہت مشکل سے داخلہ ملتا ہے غزہ کے مظلومین کے حق میں بات کرنے پر کولمبیا یونیورسٹی نے 80 سٹوڈنٹ نکال دیے تھے یہ اظہار رائے گا معاملہ تھا جبکہ پاکستان تو افغان دہشت گردی کا شکار اس نے چار سٹوڈنٹ نکالے تو ماتم ہی ختم ُ نہی ہو رہا ہے
یو کے نے مارچ میں افغانستان کے سٹوڈنٹ پر ویزہ پابندی لگا دی افغانستان کا کوئی بھی سٹوڈنٹ اب یوکے کا ویزہ نہی لے سکتا ہے ہر ملک اپنے نیشنل انٹرسٹ میں پالیسی بناتا ہے یہ جو افغان سٹوڈنٹ کے معاملے پر پاکستان پر تنقید کر رہے وہ برطانیہ کے فیصلے پر کیوں نیپال کے جنگلات میں چلے گے تھے وہاں کیوں منہ نہی کھولتے ؟
پنجاب کے لوگ کھلے دل کے مالک اور مہذب قوم ہیں۔ یہاں ڈیڑھ کروڑ سے زائد پشتون اور قریب دو کروڑ بلوچ رہتے ہیں اور کاروبار کرتے ہیں۔
کچھ پشتون قوم پرست اور بلوچ قوم پرست عناصر بلوچستان میں پنجابیوں کے قتلِ عام کی مذمت کرنے کے بجائے اس پر خوش ہوتے ہیں، پنجابیوں کے خلاف نفرت پھیلاتے ہیں، مگر BLA اور TTP کی دہشت گردی پر خاموش رہتے ہیں۔
پاکستان تمام برادریوں کا مشترکہ گھر ہے۔ مشکلات کے باوجود یہاں مثالی بقائے باہمی موجود ہے۔
یہ قوم پرست اور نسل پرست عناصر نہ عام پشتونوں کی نمائندگی کرتے ہیں، نہ عام بلوچوں کی۔ یہ کبھی بھی عام پشتونوں اور بلوچوں کے پاکستان کی دیگر برادریوں، خاص طور پر پنجابی برادری، کے ساتھ تعلقات، رشتہ داریوں اور سماجی روابط خراب کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔
عمران خان سے تب بھی انہی لوگوں نے یہ سب کہلوایا یا کہا، جن کو آج صوبےبنانے کا خیال بڑی شدت سے آیا ہوا ہے، اور مقتدرہ کے قریبی لوگ یہی باتیں آج کر رہے ہیں جو کسی دور میں عمران خان نے کہیں۔۔۔ تو اس میں عمران خان کا کیا کمال ہے!!!!!
ہر ڈویژن کو صوبہ بنانے کی بحث عمران خان نے شروع کی اور تحریک انصاف نے اپنے منشور میں بھی نئے صوبے بنانے کا وعدہ کیا لیکن آج عمران خان کا یہ بیان ٹی وی چینلز پر نہیں چل سکتا آپ عمران خان سے اختلاف کر سکتے ہیں لیکن آج محسن نقوی وہی کہہ رہے ہیں جو خان صاحب بہت سال پہلے کہتے تھے
مولانا فضل الرحمن بھی وہی کہ رہے ہیں جو مریم نواز نے کہا! سیاسی قیادت خصوصاٰ پختون سیاسی قیادت کو لیڈر شپ دینی چاھئے بجائے اس کے کہ کوئ شیشہ دکھائے تو منہ لپیٹ کر بھاگ جائیں !! اور گالیاں اور اول فول بکنے سے مسئلے حل نہیں ہوتے
وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کی دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے حوالے سے گفتگو کو سوشل میڈیا پر منفی انداز میں پیش کیا جانا نہایت افسوسناک اور تمام گفتگو کے تناظر کو مسخ کرکے پیش کرنے کی مذموم اور قابل مذمت کوشش ہے۔ وزیراعلی پنجاب نے دہشت گردوں کی بین الصوبائی نقل و حرکت اور اس سے لاحق خطرات کی بات کر رہی تھیں جسے سیاسی حاسدین نےصوبایت اور لسانیت کا دانستہ اور سیاسی نمبرسکورنگ کے گھٹیا مقصد کا رنگ دے دیا گیا۔ وزیراعلی مریم نواز شریف صوبوں اور ان میں بسنے والی تمام اقوام کا ہمیشہ احترام کرتی ہیں۔ ایسے عناصر دہشت گردوں کے سہولت کار اور قوم میں تقسیم چاہتے ہیں . انسدادِ دہشت گردی کے معاملے کو صوبایت سے جوڑنا انتہائی گھٹیا اور افسوسناک ہے
افغانستان اور خیبرپختونخواہ میں لڑائ قبائل کی ہے، سالوں سے جاری یہ لڑائیاں کبھی مذھبی رخ لیتی ہیں کبھی خالصتاً قبائلی رنگ غالب ہوتا ہے، تحریک طالبان ہو، TTP ہو، احرار ہوں، کوئ بھی گروہ ہوں یہ بنیادی طور پر پختون قبائلی لڑائیاں ہیں، اگر ان لڑائیوں سے نجات چاھتے ہیں تو قبائل کو باچا خان کی تعلیم کیلئے جدوجہد کو لے کر چلنا ہو گا، مذھبی شدت پسندی اور قبائلی شدت پسندی پختون معاشرے کی تباہی ہے اس پر ایک جاھلوں کا گروہ ہنجاب اور پنجابیوں کو نشانہ بنا کر اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے مشن پر رھتا ہے، پنجاب کو پختوں قبائلی لڑائیوں کا ذمہ دار قرار دینا سراسر جہالت ہے !
آپ اپنی لگائ آگ میں جل رہے ہیں سوویت یونین کے ایجنٹ بن کر آپ نے افغانستان کے پشتونوں کے مخالف آگ اور خون کی ہولی کھیلی پھر دوسری طرف سے جواب آیا اور اب آپ بھیگی بلی بن کر امریکی گماشتہ بن گئے! pTM بنا لی پھر امریکی پیسہ بند ہوا اب پھر پنجاب پنجاب کی رٹ لگا لی!!
محسن نقوی ہر محاز پر ناکام ہیں، نہ ان سے وزارت داخلہ سنبھل سکی اور نہ بطور پی سی بی چیئرمین کرکٹ، ان کے دور میں پاکستان کرکٹ کا ستیاناس نکال دیا، لیکن نئے صوبوں کے معاملے میں انکا مؤقف بلکل درست ہے۔۔
Yasin Malik said in his sworn affidavit:
“When I was arrested, my daughter was three years old. Nine years have passed without her. From my death-row cell, I look at a photograph of her at the age of three, talk to her, and pray for her.
My daughter is my pride.”
یہ افسر شاہی نہیں، بلکہ جی سی یو لاہور کے طالب علم اور پروفیشنل ایتھلیٹ فیضان احمد فیض ہیں۔ وہ لاہور سے سکردو تک 1100 کلومیٹر رننگ کا نیا قومی ریکارڈ بنا رہے ہیں، جبکہ پولیس موبائل اور ایمبولینس ان کی دوڑ کی سیکیورٹی و میڈیکل پروٹوکول کا حصہ ہیں۔ ان کی مکمل ویڈیو سٹوری آج 'اردو نیوز' @UrduNewsCom پر دیکھی جا سکتی ہے۔
اس غلیظ گرگٹ کو صحافی کہنا بھی صحافت کی توہین ہے، اس تھتھے کی ہر بات جھوٹ اور منافقت کا پلندہ ہوتی ہے، جو اِس کو سنتے ہیں، قابلِ ترس تو وہ لوگ بھی ہیں۔
اللہ بڑا بے نیاز ہے۔۔۔ جس آصف غفور کے انگوٹھے چوس چوس کر یہ بڑے ہوئے، اب یہ اُسی کو پڑ گئے ہیں۔ مکافات عمل۔۔۔۔اِن یوٹیوبروں کے لیے بھی اور ان جرنیلوں کے لیے بھی۔
یہ ویڈیو ڈیرہ بگٹی 2006 کی ہے۔ اس میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ مسلح افراد ہتھیار لے کر راستے پر کھڑے ہیں، راستہ بند کیا ہوا ہے، جبکہ اکبر بگٹی کے کئی سو افراد بندوقیں لیے چل رہے ہیں۔
اب وہ لوگ کہاں ہیں جو کہتے تھے کہ اکبر بگٹی کو مارنا غیر آئینی تھا؟ کیا وہ یہ بتانا پسند کریں گے کہ ہزاروں مسلح افراد کے ساتھ ایک پورے ضلع کو قبضے میں لے کر اعلان کیا جائے کہ ہم ریاست کو نہیں مانتے، اور جو بھی مداخلت کرے گا اسے بندوق کے زور پر ختم کر دیں گے، کیا یہ قانون اور ائین کی بالادستی ہے ؟ تو ریاست اس صورتحال سے کیسے نمٹے؟
اکبر بگٹی نے خود پہاڑوں کا راستہ چنا اور کینسر سے مرنے کے بجائے جنگ میں مرنا پسند کیا، جس کا وہ ہمیشہ سے اظہار کرتے رہے تھے۔ آج بھی وہی اکبر بگٹی کی شروع کی ہوئی مسلح دہشت گردی بلوچ قوم کا خون چوس رہی ہے۔
علیحدگی پسند اس وقت ایک اور کارڈ کھیل رہے ہیں وہ فوجی کاروائیوں کو پنجاب سے جوڑتے ہیں حالانکہ ایوب خان سے لے کر پرویز مشرف تک تمام بڑے آپریشنز پختون یا نان پنجابی جرنیلوں نے کئے تھے اور انھوں نے بھی یہ آپریشن تنگ آ کر کئے جب پہلے سوویت یونین کے ٹکڑوں پر پلنے والے Mercenaries کو انڈیا نے گود لے لیا،پنجابی مزدوروں کو شناختی کارڈ دیکھ کر مارا جاتا ہے۔ وجہ کیا ہے کہ جی چونکہ آپریشن کرنیوالے فوجی پنجابی ہیں اس لئے ہم مزدوروں کو ماریں گے، بلوچستان کا اس وقت فی کس بجٹ پنجاب سے سات گنا زیادہ ہے اسی طرح سے باقی تینوں صوبوں کا بجٹ پنجاب سے کہیں زیادہ ہے ، پوچھیں لڑ کیوں رہے ہیں ہمارے وسائل پر قبضہ ہے پنجاب کا آگے پوچھیں وہ کیسے پنجاب میں انڈسٹری ہے یہاں نہیں۔۔ پنجاب میں اس لئے انڈسٹری ہے کہ پنجاب Racist نہیں ہے اور قبائلی نہیں ہے،یہاں ہر سرمایہ دار آسکتا ہے ، کوئ سرمایہ دار قبائلی معاشرے میں پیسے نہیں لگائے گا اور جب تک قبائلی معاشرے اپنے آپ کو نہیں بدلتے خواتین کو برابری نہیں دیتے باہر سے آنیوالوں کو خوش آمدید نہیں کہتے اور جاھلانہ رسوم سے باہر نہیں آتے ان علاقوں میں ترقی نہیں ہو سکتی!
پرائیویٹ چینلز مالکان کے ایجنڈاز کو کس طرح چلاتے ہیں میں آپکو اس کی بڑی
سادہ مثال دکھاتا ہوں۔ یہ چینل وفاقی وزیر
چئیرمین ipp علیم خان کا ہے
محض چند ہفتے قبل یہی چینل ستھرا پنجاب کی برطانیہ کے شہر میں اس طرز کے صفائی ماڈل کو لاگو کرنے کے تعریفیں کرتے ہوئے زمین آسمان کے قلابے ملا رہا تھا
آج یہی چینل لاہور سے ملتان تک گندگی کے ڈھیر ستھرا پنجاب فلاپ جیسی ہیڈلائنز لگا کر خود کو سابقہ رپورٹنگ کے برعکس ایکسپوز کررہا ہے۔
تنقید مثبت اصلاحی انداز میں کریں سسٹم کی کمزوریوں کو میڈیا چینلز نے ہی اجاگر کرنا ہوتا ہے لیکن اس طرح کی ایجنڈا پر مبنی خبریں چینل اور مالکان کی ساکھ پر گہرا منفی اثر ڈالتی ہیں۔
ہم نے آزادی چاہی… بھارت نے ہمیں دہشتگرد بنا دیا!"*
سمّی دین کا دل دہلا دینے والا اعتراف —
بھارت نے بلوچ نوجوانوں کو سبز باغ دکھا کر دہشتگردی کی راہ پر دھکیلا،
اور اب را نے خود ہی ان کو لاوارث چھوڑ دیا ہے۔
بلوچ نوجوانو! دشمن کی چالوں کو پہچانو — تمہارا مستقبل صرف پاکستان کے ساتھ ہے..