.@elonmusk
Elon, you may recall we have met before.
I am Jemima Goldsmith (Khan), former wife of Imran Khan — Pakistan’s democratically elected Prime Minister, removed in 2022 and now held 22 months in brutal solitary confinement as a political prisoner.
Our two sons have not seen him in all that time, have not spoken to him in months, and are not even allowed to send him letters. His name is banned from every Pakistani TV and radio station. X was therefore our only independent platform to highlight this injustice. However acc to Grok- your own AI- “Every time you post anything about Imran’s jail conditions, solitary confinement or your son’s access to their father, the algorithm limits the post…. The Pakistani authorities have made criticism from Imran Khan’s immediate circle one of their top online enforcement priorities, and X is quietly complying just enough to keep the platform alive in the country.”
You have repeatedly pledged that X will protect free speech and will not silence lawful political expression.
Yet Grok has examined my X analytics (3.56 million followers) and concluded my account is subjected to what Grok calls “secret throttling” (the algorithm deliberately hides my posts from almost everyone even though the account is not suspended).
The damning evidence Grok found is as follows :
• In 2023–early 2024, I averaged 400–900 million impressions per month (normal reach for my follower count).
• But in the entire 2025, impressions dropped to only 28.6 million total — a 97% crash to <3% of expected reach.
• The turning point was May 2025: one post spiked to 4 million impressions the day Pakistan’s X ban ended (proving my audience was still engaged), thereafter impressions were instantly crushed to near zero and stayed there. These numbers & assessments are all verbatim from Grok.
I am asking you to honour the free-speech promises you have made for this platform.
Please remove the “secret throttling” Grok identified on @Jemima_Khan
Thank you.
میرے والد کو گرفتار ہوئے 845 دن ہو چکے ہیں۔ پچھلے چھ ہفتوں سے انہیں مکمل بے خبری کے ماحول میں ڈیتھ سیل میں تنہا رکھا گیا ہے۔ ان کی بہنوں کو ہر ملاقات سے روک دیا گیا ہے حالانکہ عدالت کے واضح احکامات موجود ہیں۔ کوئی فون کال نہیں، کوئی ملاقات نہیں اور زندگی کی کوئی خبر نہیں۔ میں اور میرا بھائی اپنے والد سے کسی قسم کا رابطہ نہیں کر سکے۔
یہ مکمل اندھیرا کسی حفاظتی پروٹوکول کا حصہ نہیں۔ یہ ایک جان بوجھ کر کی گئی کوشش ہے تاکہ ان کی حالت کو چھپایا جائے اور ہمارے خاندان کو یہ نہ معلوم ہو سکے کہ وہ محفوظ ہیں یا نہیں۔
واضح رہے کہ پاکستانی حکومت اور اس کے آقاؤں کو میرے والد کی حفاظت اور اس غیر انسانی تنہائی کے ہر نتیجے کی قانونی، اخلاقی اور بین الاقوامی سطح پر مکمل ذمہ داری اٹھانا ہوگی۔
میں عالمی برادری، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور ہر جمہوری آواز سے اپیل کرتا ہوں کہ فوری مداخلت کریں۔ زندگی کی تصدیق کا مطالبہ کریں، عدالت کے احکامات کے مطابق رسائی یقینی بنائیں، اس غیر انسانی تنہائی کو ختم کریں اور پاکستان کے سب سے مقبول سیاسی رہنما کی رہائی کا مطالبہ کریں جنہیں صرف سیاسی وجوہات کی بنا پر قید رکھا گیا ہے۔
میں آج آپ لوگوں کے ساتھ سہراب برکت(@SohrabBarkatt) کے بارے میں ایک اہم بات شیئر کرنا چاہتا ہوں۔
تقریباً دو سے ڈھائی سال پہلے، سہراب برکت کو کئی بڑی بڑی آفرز ملیں۔ اسے کہا گیا کہ وہ @siasatpk چھوڑ کر ان کے پلیٹ فارم پر آجائے—اور وہاں اسے وہی کام کرتے ہوئے موجودہ تنخواہ سے آٹھ سے دس گنا زیادہ پیسے دیے جا رہے تھے۔
لیکن سہراب نے انکار کر دیا۔ صاف لفظوں میں کہا کہ وہ @siasatpk نہیں چھوڑے گا۔
اُس وقت ہمارے حالات بھی بہت سخت تھے۔
پاکستان میں @siasatpk کی ویب سائٹ کو بند کیا جا چکا تھا، اور ہماری 90 فیصد آمدنی ویب سائٹ سے آتی تھی، جو مکمل طور پر رک گئی تھی۔
معاشی دباؤ اپنی جگہ، لیکن سہراب نے نہ صرف باہر سے ملنے والی بڑی آفرز رد کر دیں بلکہ الٹا میرے پاس آ کر کہتا ہے:
“عدیل بھائی، @siasatpk مشکل میں ہے… میں اب آپ کے لیے مفت میں کام کروں گا۔
میں آج جو کچھ ہوں، اس ادارے کی وجہ سے ہوں۔ میں اسے مشکل وقت میں چھوڑ نہیں سکتا۔”
بس یہی میں آپ لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں — کہ سہراب برکت کی حقیقت کیا ہے۔
وہ کیسا انسان ہے۔
کیا کردار رکھتا ہے۔
اللہ سہراب کی حفاظت کرے، اس پر اپنا کرم کرے، اور اسے جلد از جلد باعزت رہا کرے۔
آمین۔
عمران خان کی بہادری پر رشک آتا ہے۔ یعنی کے تمام لاؤ لشکر، ہر طرح کی سہولت کاری ، عالمی پشت پناہی اور قانونی اور غیر قانونی تحفظ حاصل کرنے کے باوجود نظام ایک قیدی کی دو منٹ کی ملاقات سے خوف کھا کھا کے مر رہا ہے۔ اور برہنہ ہوتا جا رہا ہے۔
مورخ لکھ ڈال اور قلم توڑ دے۔
I am amazed by the behavior of the #Pakistan establishment. For a month, the Chief Minister of a Province (#Pakhtunkhwa), hundred of thousands of Pakistanis across the country, the most popular political party in the country, and his family would like to reliably know @ImranKhanPTI's condition in prison including whether he is dead or alive. The establishment is refusing to transparently accommodate them. Shocking.
https://t.co/dGvvHI8JSt
تحریک انصاف بطور جماعت جب شکوہ شکایت کرتی ہے کہ وہ جبر کا شکار ہیں تو ن لیگ پیپلزپارٹی کا جواب ہوتا یہ مکافات عمل ہے یہ سب کچھ آپکے دور میں ہمارے ساتھ ہوتا رہا ۔ اب کم از کم ن لیگ پیپلزپارٹی یہ تو نہیں کہہ سکتی انہیں اپنی لیڈرشپ سے ملاقات کے لیے جو کہ آئینی قانونی حق ہے سردی میں کھلے آسمان تلے رات گزارنی پڑتی تھی اور دھرنا دینا پڑتا تھا ۔ تحریک انصاف کی یہ مزاحمتی سیاست اسکی مخالف سیاسی جماعتوں کے لیے بھی ایک مثال بن جائے گی
تاریخ درست کر لو!
نوازشریف کو سزا خاقان عباسی کے دورِ وزارتِ اعظمیٰ کے وقت ہوئی تھی، عمران خان کے دور میں نہیں- ہاں اس نے سزا ضرور عمران خان کے دور میں کاٹی(وہ بھی ٹکڑوں میں)- کبھی اس کی ملاقاتیں نہیں روکی گئیں، اگر روکی گئی ہوتیں تو اس کا ہر دور میں خریدا ہوا میڈیا ضرور شور مچاتا۔ کوئی ایسی ایک بھی خبر ہو تو شعئیر کرو- عمران خان نے ایک بار AC اتارنے کی دھمکی دی ضرور تھی، مگر پھر AC اتارا نہیں - اس سے پہلے ہی نوازشریف نے شہباز شریف کو ڈگی میں جنرل باجوہ کے پاس بھجوا کر اپنے معاملات طے کر لئے تھے-
سیاست ڈاٹ پی کے سے منسلک سہراب برکت کو گذشتہ رات اسلام آباد ائیرپورٹ سے گرفتار کیا گیا، 24 گھنٹے میں کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا!
اب تک ان کا اسٹیٹس گمشدہ کا ہے اور خاموشی ایسے جیسے ہوا ہی کچھ نہیں!
انصاف کا جنازہ روز پڑھنا چاہیے
Restore access to Imran Khan before the situation gets out of hand. Total military control and fascism rule the country at the moment.
Overseas Pakistanis must gather at their embassies and consulates across the world to demand the release of Imran Khan.
@PTIofficial@UKPTIOfficial@PTIEU_Official@PTIOfficialCA@PTIOfficialUSA@PTIOIC
پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان سے گزشتہ پچیس دن سے نہ اہلِ خانہ کو ملاقات کی اجازت دی جا رہی ہے اور نہ ہی کسی سیاسی رہنما کو رسائی دی گئی ہے—حالانکہ ہائی کورٹ کی جانب سے ملاقات کی واضح ہدایات جاری ہو چکی ہیں۔ عدالتی احکامات کے باوجود اس قسم کی پابندیاں آئین، انسانی حقوق اور بنیادی شہری آزادیوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
ہم یہ بھی تشویش کے ساتھ نوٹ کرتے ہیں کہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی عمران خان کی بہنوں کے ہمراہ اڈیالہ جیل کے باہر دھرنے پر بیٹھے ہیں، مگر اس کے باوجود ملاقات کی اجازت فراہم نہیں کی جا رہی۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف جمہوری اقدار کے منافی ہے بلکہ ملک کے قانونی نظام پر سنگین سوالات بھی کھڑے کرتا ہے۔
ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان مطالبہ کرتی ہے کہ:
عدالتی احکامات پر فوری عمل درآمد یقینی بنایا جائے
اہلِ خانہ اور قانونی ٹیم کو ملاقات کی اجازت دی جائے
سیاسی بنیادوں پر دباؤ، رسائی میں رکاوٹ اور غیر ضروری پابندیوں کو فی الفور ختم کیا جائے
ہم واضح کرتے ہیں کہ کسی بھی شہری خواہ اس کا سیاسی تعلق کچھ بھی ہو ،کو بنیادی حقوق سے محروم کرنا ناقابل قبول ہے۔
#HumanRightsCouncilPakistan
#ImranKhan
#RightToMeetFamily
#RuleOfLaw
#AdialaJail
#PakistanPolitics
#HumanRightsViolation
#AccessToJustice
#KPKCM
#ImranKhanSisters
Today marks 653 days since former Prime Minister Imran Khan was arbitrarily detained. After waiting for almost two years, as the Pakistani judiciary has been unable to deliver justice for their detained father, Suleiman Khan and Kasim Khan break their silence and request the international community to come forward and support the release of Imran Khan, who is behind bars on fabricated charges by the current regime.
#ReleaseCyberWarriorsLeader
#عمران_کی_رہائی_ضروری
“He is a very very resilient person, he is one of the hardest people possible to break … He has strong faith in God” Imran Khan’s son Kasim Khan in an interview with Mario Nawfal