کے پی کے
کے یہ تاریخی مناظر ہیں مختصر وقت میں عوام انقلاب کی صورت سڑکوں پر نکل آئی ہے علیمہ خان جہاں بھی جا رہی ہیں انہیں دیکھنے کے لیے ہزاروں افراد امڈ رہے ہیں
شاواشے، ایران جنگ پھر شروع — صیہونی باز نہیں آئیں گے۔ وہ پہلی جنگ عظیم کے بعد سے مُسلسل لگے ہوئے ہیں، اور وہ جنگیں اسوقت تک جاری رکھیں گے جبتک انکی پیشین گوئیاں پوری نہیں ہو جاتیں اور الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ آ نہیں جاتا۔
Imran Khan's historic speech at GHQ -Please listen to each word of it -May Allah grant @ImranKhanPTI a long, healthy life to see his vision for Pakistan through.
#freeimrankhan#pakistan
Donate a meal today because ‘Each Meal Can Help Heal’
By choosing to #DonateAMeal, you are helping us to fulfill the special dietary needs of cancer patients at #SKMCH in Lahore and Peshawar.
Donate online: https://t.co/7JVmmAMreU
#MealForCancerPatients#EachMealCanHelpHeal
اپنے بھائی کی رہائی اور بنیادی طبی حقوق کی جنگ سیاست نہیں، آئینی دفاع ہے!
موجودہ سیاسی منظرنامے میں میرے سڑکوں پر نکلنے اور احتجاجی سرگرمیوں میں حصہ لینے کو کچھ حلقوں کی جانب سے "موروثی سیاست کا آغاز" قرار دے کر اصل حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ میں یہ واضح کر دینا چاہتی ہوں کہ موروثی سیاست کے فلسفے اور موجودہ سنگین حالات کے جبر میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
جب ملک کے سب سے مقبول سیاسی رہنما اور میرے بھائی عمران خان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنا کر قیدِ ناحق میں رکھا گیا ہو، جہاں بنیادی انسانی حقوق، وکلاء تک رسائی اور اہلخانہ سے ملاقاتوں پر غیر قانونی قدغنیں لگی ہوں، تو ایسے کٹھن وقت میں سڑکوں پر نکلنا کسی سیاسی منصب کی خواہش یا "موروثی سیاست" نہیں ہے۔ یہ ایک مجبور بہن کا اپنے بھائی اور ایک شہری کا اپنے قائد کے لیے آئینی و اخلاقی دفاع ہے۔
🔹 ہماری جدوجہد کے بنیادی مطالبات اور دفاع کی وجوہات:
فوری اور غیر مشروط رہائی: عمران خان کے خلاف بنائے گئے تمام سیاسی اور من گھڑت کیسز ختم کر کے انہیں فوری رہا کیا جائے، کیونکہ ان کی قید خالصتاً سیاسی انتقام پر مبنی ہے۔
ذاتی ڈاکٹروں سے فوری طبی معائنہ: جیل مینوئل اور بنیادی انسانی حقوق کے تحت یہ عمران خان کا قانونی حق ہے کہ ان کے ذاتی معالجین (ڈاکٹرز) کو ان کا تفصیلی طبی معائنہ کرنے کی اجازت دی جائے۔ بیرونی یا سرکاری ڈاکٹروں پر ان حالات میں مکمل بھروسہ نہیں کیا جا سکتا جہاں قائد کی صحت اور زندگی کو شدید خطرات لاحق ہوں۔
بنیادی انسانی حقوق اور آزادیِ اظہار کا تحفظ: آئینِ پاکستان ہر شہری کو پرامن احتجاج اور آزادیِ رائے کا حق دیتا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب قیادت کو دیوار سے لگا دیا گیا ہو، خاموش بیٹھنا ظلم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے۔
جماعت کے وجود کا دفاع: پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ کڑے وقت میں خونی رشتے اور مخلص کارکن ہی موروثی یا غیر موروثی بحثوں سے بالاتر ہو کر جماعت کے نظریے کا آخری دفاع بنتے ہیں، کیونکہ انہیں نظریاتی طور پر توڑنا یا جھکانا ناممکن ہوتا ہے۔
موروثی سیاست پر بحث اس وقت کی جاتی ہے جب ملک میں جمہوریت کا پہیہ چل رہا ہو اور سیاسی میدان سب کے لیے یکساں (Level Playing Field) ہو۔ جب ملک کی سب سے بڑی سیاسی قیادت جیلوں میں بند ہو اور ان کی زندگی تک کو خطرات لاحق ہوں، تو موروثی سیاست کا راگ الاپنا صرف اور صرف اصل بحران سے توجہ ہٹانے کی ایک ناکام کوشش ہے۔
عمران خان موروثی سیاست کے خلاف تھے اور رہیں گے۔ ان کا سیاسی جانشین کون ہوگا اور جماعت کا مستقبل کیا ہوگا، اس کا فیصلہ صرف اور صرف عمران خان خود جیل سے باہر آ کر کریں گے۔ تب تک، ہماری جدوجہد کسی عہدے کے لیے نہیں، بلکہ صرف اور صرف حق، سچ، مناسب طبی سہولیات کی فراہمی اور عمران خان کی فوری رہائی کے لیے جاری رہے گی! علیمہ خان
جیل کے اندر سے جو اطلاعات ہم تک پہنچ رہی ہیں، وہ انتہائی تشویشناک ہیں:عظمیٰ خان 🚨
صحت کی ابتر صورتحال: خان صاحب سے ملنے والے افراد کے مطابق ان کی طبیعت ناساز ہے، انہیں شدید متلی اور پیٹ کی خرابی کی شکایت ہے۔
طبی معائنے پر پابندی: ان سنگین حالات میں خان صاحب کو ان کے ذاتی ڈاکٹروں سے علاج اور معائنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ بیرونی یا سرکاری میڈیکل بورڈز پر ان حالات میں کیسے بھروسہ کیا جائے جہاں ان کی زندگی کو خطرہ ہو؟
کھانے میں گڑبڑ کا اندیشہ: جب قیدِ تنہائی میں رکھ کر ملاقاتیں بند کر دی جائیں، تو شک یقین میں بدل جاتا ہے کہ کھانے پینے میں کچھ بھی دیا جا سکتا ہے، کیونکہ ان مقتدر حلقوں کی ماضی میں ایسی ہی تاریخ رہی ہے۔
حالیہ تناظر میں، آزاد کشمیریوں نے اپنے مطالبات کے لیے بھرپور جدوجہد کی، پھر مبینہ طور پر ایک اوورسیز نے آکر کہا کہ پائین سے بات کرواتے ہیں،اور پھر وڈے پائین سے بات کا اعلان کردیا گیا۔
یہی ہوتا ہے، مطلب، جہاں آٹوکریٹک طاقت کا نظامِ حکمرانی رائج ہوتا ہے، وہاں مسلسل بڑے عوامی مظاہروں کے ذریعے آپ اپنے لیے گنجائش بناتے ہیں، جسکی بدولت نظام کے پَھنّے خاں کو مذاکرات کی بات چیت کے لئے ٹیبل پر آنے کے لئے مجبور کیا جاتا ہے اور پھر آپ چار میری اور دو تیری معاہدے کے ذریعے گنجائش بنا کر حالات کو تھوڑا بیلنس کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس تمام عمل کی حقیقت یہ ہے کہ پَھنّے خاں کبھی کچھ بھی آسانی سے پلیٹ میں رکھ کر نہیں دیتے؛ انکا معمول کا رویہ اور طریقۂ کار یہ ہوتا ہے کہ جو لوگ سرِ تسلیم خم نہیں کرتے انہیں طاقت کے زور پر کچلنے کی کوشش کی جائے، اور جب وہ بربریت کے ذریعے کامیابی حاصل نہیں کر پاتے تب انہیں مذاکرات کی راہ اپنانی پڑتی ہے، ورنہ سول وار کا خطرہ ہوتا ہے اور سول وار میں کامیاب نہ پَھنّے خاں ہوتا ہے اور نہ سویلین؛ سندِ سرینڈر کی تقریب والی تصویر میں مجیب الرحمٰن نہیں بیٹھا ہوا تھا؛ جنہوں نے وہ تصویر ٹرافی کے طور پر دیوار پہ لٹکائی ہوئی ہے اُنکا آپ کو معلوم ہے — باقی آپ باشعور ہیں!
کیا معاہدے کا اختتام متوازن ہوتا ہے؟ اس کا جواب نفی میں ہے۔ عموماً یہی ہوتا ہے کہ پَھنّے خاں انہیں سائڈلائن کر دیتا ہے جنکی وجہ سے سرِ تسلیم خم نہیں ہوئے تھے اور اُنکو مجبوراً معاہدے کی طرف آنا پڑا؛ چنانچہ جو ڈٹے رہتے ہیں، وہ بالآخر ایک اجتماعی مفاد کی خاطر اپنی قربانی دے بیٹھتے ہیں۔ معاہدوں کے عدم توازن کا اندازہ اِس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پَھنّے خاں اپنے خاں کو سائڈلائن نہیں کیا کرتا اور نہ ہی اُسکو سزا دیتا ہے!
بہت بری طرح، 2022 سے اس ملک کے ساتھ جو سرکس لگایا گیا تھا، وہ اب مکمل طور پر ناکامی کے سفر پر تیزی سے گامزن ہے ..
شاید اس 78 سالہ بوڑھے ہاتھی (نظام) کو گرنے میں ابھی تھوڑا وقت اور لگے .. لیکن دیوار پر لکھا صاف نظر آ رہا ہے کہ “وہ وقت قریب آ پہنچا ہے ”
لیکن اس ساری ناکامی میں ایک بات عوام کو ضرور سمجھنی چاہیے کہ انہیں خاموش نہیں رہنا .. کیونکہ اس ملک کو اسی قوم نے سنوارنا ہے ..
عمران خان فاتح تھا، ہے اور رہے گا .. لیکن اب جیت اس قوم نے حاصل کرنی ہے .. کیونکہ خودداری اور آزادی اسی قوم کو درکار ہے تاکہ وہ ایک عظیم قوم بن سکے ..
عمران خان تو پہلے ہی ایک خوددار، آزاد اور عظیم انسان ہے !!