I'm a Photographer, Videographer and Video Editor.
I do Amazon listing and Make videos professionally for its new products. Low Prices, High Quality Work!
#OperationBunyanulMarsoos
3 pilots wrote “Farewell Letter” for families before going to a suicide mission to destroy 3 important airbases of India.
Guess what, all 3 landed back safely.
Allah o Akbar
#PakIndiaWar
I like how everything the man does is summarized as just “work” while the mom gets multiple blocks for things like “family,” “mental load,” and “everything else.”
ریحان اشرف جمسا ایلفی اینڈ گلو کمپنی کے مالک تھے، جن کی کمپنی کی پاکستان کے شہر فیصل آباد میں بڑی فیکٹری تھی۔ ان کا دوبئی میں بھی کاروبار تھا اور ان کی مصنوعات مختلف ممالک ایکسپورٹ بھی کی جاتی ہیں۔
https://t.co/5gBcOmDmjb
BREAKING: At least 74,475 people have been killed and 175,517 wounded by Israel’s genocidal war on Gaza since October 2023, according to the enclave’s Health Ministry.
🔴 LIVE updates: https://t.co/0k9eku9agw
تحریک انصاف امانت ہے اک ایسے شخص کی جس کی ساری زندگی پاکستان کیلئے گزری۔ وہ جیل کے اندر سے اپنی قوم کو دیکھ رہا ہے جس کیلئے اس نے اپنی زندگی اور اپنی خوشیاں قربان کیں۔ تحریک انصاف اس قوم کا اپنے ملک سے محبت کا دوسرا نام ہے۔ اس نام کو زندہ رکھنا ہے تابندہ رکھنا ہے۔
تحریک کے ہر اک کارکن اور ہر رہنما کو یہ سوچنا ہوگا کہ وہ کیوں اس تحریک میں ہے۔ کسی ذاتی مقصد کیلئے نہیں ہم اس تحریک کا حصہ بنے صرف پاکستان کی خاطر تاکہ یہاں انصاف کا نظام قائم ہو بس !
میرے لیئے تحریک انصاف پاکستان کو جناح کا پاکستان بنانے کیلئے اک سیاسی جدوجہد کا نام ہے۔ جہاں انصاف ہو خودداری ہو اور میریٹ ہو۔ وہ خواب جو ہمارے بزرگ اپنی آنکھوں میں بسائے ہم سے دور ہوئے ہم نے ان خوابوں کی تعبیر بننا ہے۔
ہم نے بغض سے الزام سے دشنام سے کینہ سے لالچ سے سازش سے غیبت ظلم اور کرپشن سے اس تحریک کو پاک رکھنا ہے۔
عمران خان کی خاطر کم از کم ان کے جیل سے باہر آنے تک آئیے انصاف کی اس تحریک کی حفاظت کیجئے۔
نقطہ نظر کا اختلاف دشمنی نہیں ہوتا۔ احترام کیساتھ اپنا مطمہ نظر مدلل انداز میں بیان کرنا ہی اصل سیاسی کارکن کا خاصہ ہوتا ہے۔ اتفاق و اتحاد ایمان کے بعد ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔
مجھے یقین ہے عمران خان کے ہاتھ کا لگایا ہوا انصاف کا یہ پودا پھلے گا پھولے گا اور قوم کو اس ۳۰ سالہ جدوجہد کا ثمر ایک مضبوط طاقتور اور اسلامی فلاحی ریاست کی صورت میں ملے گا۔ انشاءاللّٰہ
اس کے لیئے استقامت صبر حوصلہ اور سیاسی بصیرت سے کام لینا ہوگا۔
حوصلے بلند رکھیے جلد ہمارا لیڈر ہمارے بیچ ہوگا اور ہم دوبارہ اس ملک و قوم کی ترقی کا بیڑا اُٹھائیں گے۔ انشاءاللّٰہ
تب تک ۔۔۔۔۔۔۔گھبرانا نہیں ہے !
نصر من اللّٰہ و فتح قریب
تین سال میں 18 لاکھ پڑھے لکھے افراد پاکستان چھوڑ کر چلے گئے جنہوں نے ابھی نہیں چھوڑا انکے لئے بھی ایسے حالات پید کئے جا رہے ہیں وہ بھی یہ ملک چھوڑ جائیں
@netanyahu You're also going to expire. A little life. So you can see how worst punishment for you forever in underworld and after the day of judgement.
You're lost now in this world. You don't think. Your heart is black.
The Chief Minister is the Chief Executive of a province, while the Speaker, as the custodian of the Provincial Assembly, is responsible for safeguarding the rights and protection of its members and upholding the dignity of Parliament.
What a tragic and deeply alarming chapter in Pakistan’s history it is that no clear information is available regarding the whereabouts of Khyber Pakhtunkhwa’s elected Chief Minister, Muhammad Sohail Afridi, and the Speaker of the Provincial Assembly, Babar Saleem Swati.
The Chief Minister and the Speaker have reportedly been missing since October 11, and their whereabouts remain unknown. What kind of system is this, where even the elected representatives of the people are subjected to such uncertainty, while the nation is kept in the dark?
This is not merely a matter concerning a few individuals; it is a fundamental question of the Constitution of Pakistan, the rule of law, the sanctity of Parliament, and the democratic mandate of the people.
If transparent information regarding the safety and legal status of an elected Chief Minister and the Speaker of a Provincial Assembly cannot be made available, what guarantee remains for the rights and protection of ordinary citizens?
Subjecting elected representatives to such circumstances, despite their constitutional positions and public mandate, raises serious questions about the very foundations of our democratic system.
Where is the rule of law in Pakistan? Have we reached a point where even the elected representatives of the people are left at the mercy of power rather than protected by the law?
Pakistan has effectively been reduced to a banana republic. A state must function in accordance with the Constitution and the law, not according to the whims, wishes, or arbitrary exercise of power by individuals or institutions.
We demand that the authorities immediately provide authentic and verified information regarding the whereabouts of Chief Minister Muhammad Sohail Afridi, Speaker Babar Saleem Swati, and other missing elected representatives.
Their legal status must be clarified without delay. If they are being held in custody, they must be produced before a competent court of law in accordance with constitutional and legal requirements.
Their fundamental constitutional and legal rights must be fully respected, and immediate access to their families and legal counsel must be ensured.
The Constitution must prevail over arbitrary power, the rule of law must be upheld, and the democratic mandate of the people must be respected.
اصل توجہ طالب معاملات؛
تین سال سے زائد عرصے سے عمران خان جعلی کیسز میں سزا بھگت رہا ہے۔ ۹ مہینے سے عمران خان کو غیر انسانی قیدِ تنہائی میں ڈال رکھا ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق اُن کو ان کا بنیادی علاج کا حق نہیں دیا جارہا۔ ان کی اہلیہ، بہنوں، رشتہ داروں کو ناجائز قید کا سامنا ہے۔
پاکستان کی واحد، عوامی منتخب کردہ خیبر پختونخواہ کی حکومت کو اس دہشت گردی کا بہانہ بنا کر معطل کیا گیا جس کی واپسی کے منصوبوں کے متعلق ان کے آرمی چیف سے لے کر وزراء تک کے بیانات موجود ہیں۔ آج اسی کے بہانے پی ٹی آئ کو کرش کیا جارہا ہے۔
۴ کروڑ عوام کا منتخب نمائندہ، ان کا وزیر اعلی لاپتہ اور حبس بے جاء میں ہے۔ صوبائ اسمبلی کے سپیکر سے لے کر وزراء، منتخب نمائندگان، ایک سابق وزیر اعلی اور سیاسی کارکنان اغوا ہیں۔ ان کے عیال کے جان و مال غیر محفوظ ہیں۔
خیبر پختونخواہ کے عوام کی بلی چڑھا کر بیرونی آقاؤں کی خوشنودی مطلوب اور یہاں کی عوام اور ان کے وسائل کا سودا کیا جارہا ہے۔
عاصم منیر اور اس کے حواری ۲۵ کروڑ عوام کے مجرم ہیں۔ ان کی زندگیوں ان کے ملک اور اس کے وسائل کا سودا کرکے اپنی طاقت کو دوام دے رہے ہیں۔ ملک میں آئین و قانون اور بنیادی حقوق معطل ہیں اور بدترین فسطائیت کا دور ہے۔
باقی مافیہ کی تکلیف اور چیخ و پکار بھی بے معنی نہیں ہے، اکتوبر کا مہینہ ہے اور ایک مظلوم کا بہیمانہ قتل چار سال سے انہیں سکون کی نیند سونے نہیں دیتا میں نے تو کہا تھا کہ یہ خون تیزاب بن کر تمہاری رگوں میں اترے گا۔
تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کی قیادت پشاور پہنچ گئی۔ محمود اچکزئی، علامہ ناصر عباس، اختر جان مینگل اور سینیٹر مشتاق نے گورنر راج کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان کا قومی اسمبلی کی کاروائی کے بعد میڈیا سے گفتگو
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق قرارداد پر اظہارِ خیال۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے 11 اکتوبر 2026 کو پاکستان کی جمہوری تاریخ کا سیاہ دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم اپوزیشن کے تمام اراکین خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے فیصلے کو یکسر مسترد کرتے ہیں، اس کی شدید مخالفت کرتے ہیں اور اسے کسی صورت منظور نہیں کرتے-