ذہنی مریض کی زہنی پستی دیکھیں!!
عمران خان کی تصویر کو ذہنی مریض نے ڈی فیس کیا ہے, آپ لوگو نے عمران خان کی تصاویر اور ورلڈ کپ 1992 کی کلپس بار بار پوسٹ کرنی ہے!!
اج 92 ورلڈ کپ فائنل میچ دوبارہ وائرل ہے 🔥
کیوںکہ کل آمریکی اوورسیز پڑھے لکھے جاہل ڈاکٹروں نے عاصم منیر کو خوش کرنے کے لیے عمران خان کے چہرے کو Blur کیا تھا! @APPNA
بیشرم تنخواہ دار ڈاکٹر تمھاری ہمت کیسے ہوئی!!
🚨 گزشتہ تین برسوں سے ہم انصاف کے حصول کے لیے عدالتوں کے چکر کاٹ رہے ہیں،
مگر نظامِ عدل کی بے حسی اب حد سے بڑھ چکی ہے۔ ہمیں محض طفل تسلیوں کے پیچھے دوڑایا جا رہا ہے۔ قاضی فائز عیسیٰ کے حالیہ اعتراف نے اس سچائی پر مہر لگا دی ہے کہ عدالتیں آزاد نہیں، بلکہ پسِ پردہ احکامات پر عمل پیرا ہیں۔ ایسی صورتحال میں ان عدالتوں سے عام آدمی کو انصاف ملنے کی کوئی امید باقی نہیں رہتی۔"
علیمہ خان
آج بہاولپور کے تاریخی دراوری گیٹ چوک سے گزرتے ہوئے ایک ایسا منظر دیکھا جس نے میرے دل کو ہلا کر رکھ دیا۔ اللہ گواہ ہے، آج کافی عرصے بعد کسی کی بے بسی دیکھ کر میری اپنی آنکھوں سے بھی آنسو نکل آئے۔
ایک بزرگ انکل اپنی چھوٹی سی ریڑھی کے پاس سر جھکائے، سر پر رومال رکھے، خاموش کھڑے تھے۔ ان کی آنکھیں نم تھیں اور چہرے پر ایسا درد تھا جو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ پہلے میں نے سوچا کہ شاید ان کا کوئی ذاتی مسئلہ ہوگا، اس لیے بغیر کچھ پوچھے آگے بڑھ گیا۔ لیکن چند قدم چلنے کے بعد دل نے بار بار کہا کہ واپس جاؤ، شاید یہ شخص کسی کے دو بول سننے کا منتظر ہے۔
میں فوراً واپس آیا، سلام کیا اور ادب سے پوچھا:
“انکل جی! خیریت ہے؟ آپ اتنے پریشان کیوں ہیں؟ آپ کی آنکھوں میں آنسو کیوں ہیں؟”
پہلے تو انکل خاموش رہے، پھر اچانک ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ ان کو روتا دیکھ کر میری بھی آنکھیں بھر آئیں۔
بہت مشکل سے انہوں نے اپنی بات شروع کی۔
انہوں نے کہا:
“بیٹا! میں کرائے کے گھر میں رہتا ہوں۔ کئی سالوں سے سموسے اور پکوڑے بیچ رہا ہوں۔ پہلے حالات کچھ بہتر تھے، لیکن اب مہنگائی نے کمر توڑ دی ہے۔ لوگ 20، 30، 50 یا 60 روپے کی چیز لے کر چلے جاتے ہیں۔ اس کمائی سے نہ گھر کا کرایہ پورا ہوتا ہے، نہ بجلی کا بل، نہ راشن، نہ دو وقت کی روٹی۔”
یہ کہتے ہوئے انکل پھر رونے لگے۔
انہوں نے مزید بتایا:
“بیٹا! اتنی شدید گرمی میں بھی میری ریڑھی پر ایک پنکھا تک نہیں لگا۔ سارا دن دھوپ میں کھڑا رہتا ہوں۔ نہ اوپر سایہ ہے، نہ کوئی سہولت۔ پسینہ مسلسل بہتا رہتا ہے، لیکن مجبوری ہے، محنت کیے بغیر گھر نہیں چل سکتا۔”
اللہ کی قسم، یہ الفاظ سن کر دل ٹوٹ گیا۔
یہ وہ سفید پوش لوگ ہیں جو کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے، بھیک نہیں مانگتے، صرف اپنی محنت پر یقین رکھتے ہیں۔ مگر جب حالات حد سے بڑھ جائیں تو آنسو خود بخود نکل آتے ہیں۔
میں نے انکل سے کہا:
“آپ ہمت نہ ہاریں، اللہ تعالیٰ سب سے بڑا کارساز ہے۔ ان شاء اللہ آپ کی آواز لوگوں تک پہنچے گی اور اللہ اپنے بندوں کے ذریعے ضرور مدد فرمائے گا۔”
آج میں بہاولپور کے تمام بھائیوں، بہنوں اور ہر صاحبِ استطاعت انسان سے دل کی گہرائی سے درخواست کرتا ہوں کہ اگر آپ کبھی دراوری گیٹ چوک سے گزریں تو چند منٹ ضرور نکالیں اور انکل کی ریڑھی پر رکیں۔ چاہے آپ کو سموسے یا پکوڑے کھانے کا شوق نہ بھی ہو، پھر بھی ان سے کچھ ضرور خرید لیں۔ یقین کریں، آپ کے چند سو روپے بھی ان کے لیے بہت بڑی مدد ثابت ہو سکتے ہیں۔
ایک ضروری بات:
کئی دوست یقیناً انکل کا اکاؤنٹ نمبر یا ایزی پیسہ / جاز کیش پوچھیں گے، لیکن انکل کے پاس نہ بینک اکاؤنٹ ہے، نہ ایزی پیسہ، نہ جاز کیش۔ اس لیے اگر آپ مدد کرنا چاہتے ہیں تو براہِ کرم خود جا کر انکل سے ملیں، ان سے چیزیں خریدیں یا نقد مدد کریں۔
رابطے کے لیے انکل کا موبائل نمبر:
📞 (03258391906)
براہِ کرم صرف رابطے کے لیے کال کریں، کیونکہ اس نمبر پر کوئی بینک، ایزی پیسہ یا جاز کیش اکاؤنٹ موجود نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ ہر محنت کرنے والے کے رزق میں برکت عطا فرمائے، انکل کی پریشانیاں آسان فرمائے اور ہمیں ایسے سفید پوش لوگوں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
🤲 میری آپ سب سے گزارش ہے کہ اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ انکل کی محنت رنگ لائے، ان کی ریڑھی پر گاہک آئیں اور ان کے گھر کا چولہا عزت کے ساتھ جلتا رہے۔ شاید آپ کی ایک شیئر اور ایک چھوٹی سی مدد کسی مجبور انسان کی زندگی میں بڑی آسانی لے آئے۔
یہ #منقول پوسٹ صرف ایک غریب ضرورت مند کی مدد کے لئے ہے
🙏🏼🙏🏼🙏🏼
اور عمران خان سے ملاقات کئے بغیر کے پی کا پورے سال کا بجٹ پاس۔ خان کی ملاقات مائنس۔
175 ارب بھی دے دئیے گئے۔ بس یہ کہا گیا ہے کہ آپ پیسے کاٹ لیں ہم تھوڑی بہت نورا کشتی کریں گے۔ کیس عدالت بھی جائے گا۔ اور پھر فائل بند پیسہ ہضم۔
مولانا طارق جمیل صاحب نے پولیس اہلکار بلایا!
اسی پنجاب پولیس کے اہلکار کو مولانا طارق جمیل نے گھر دعوت دی جس نے مولانا طارق جمیل بن کر بہن بھائی کی صلح کروائی تھی!!
مولانا طارق جمیل بھی متاثر ہوئے ❤️
اس پر آواز اٹھائیں 🚨
عمران خان کو ان کے blood test کے رپورٹ نہیں دئے جا رہے ہیں، کیا وجہ ہے کہ پمز ہسپتال کے رپورٹس کو چھپایا جا رہا ہے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ عمران خان کو فوری شفا انٹرنیشنل منتقل کر دیا جائے وہ بھی فیملی اور ذاتی ڈاکٹرز کی موجودگی میں
یہ عبرت کی جاہے تماشا نہیں🥺
ایشیاء کی سب سے بڑی "کوہ نور" ٹیکسٹائل کے بانی اور سہگل خاندان کی پہچان کی خستہ حال قبر.
یہ خستہ حال قبر اس شخص کی ہے جو ایشیا کی سب سے بڑی کوہ نور ٹیکسٹائل ملز کا مالک تھا۔
یہ بوسیدہ قبر اس شخص کی ہے جس کی دولت کا محتاط اندازہ 25 ہزار کروڑ روپے ہے۔
یہ ٹوٹی پھوٹی قبر اس شخص کی ہےجو 57 کمپنیوں کا مالک تھا۔یہ پریشان حال قبر اس شخص کی ہے
جس نے اپنی بیٹی ناز سہگل کی شادی جس شخص سے کروائی وہ بھی کھرپ پتی بن کر میاں منشا(مالک نشاط گروپ) بن گیا۔
یہ قبر حاجی یوسف سہگل کی ہے جو برصغیر کے مشہور کھرپ پتی خاندان سہگل خاندان کے سربراہ تھے۔
اس دنیا کی دولت اور طاقت کا انجام بس یہ ہے.
ایک ٹک ٹاکر کو پنجاب پر مسلط کر دیا گیا۔ جعلی حکومتوں نے عوام سے خوشیاں خواب اور مستقبل چھین لیا۔
حکمرانی صرف کیمروں کے سامنے مسکرانے کا نام نہیں۔ اگر اقتدار کا شوق ہے تو پہلے عوام کو بنیادی وسائل فراہم کریں۔ زندہ عوام ہوں گے تو حکومت بھی معنی رکھے گی۔
یہ جھوٹے ہیں، ملاقاتوں کی جھوٹی خبریں پھیلا رہے ہیں، اسی لیے ہمیں زیادہ تشویش ہے کہ یہ کچھ نہ کچھ چھپا رہے ہیں۔ پانچواں ٹیکہ کہاں لگتا ہے؟ آخر انہیں کیوں لے کر جایا گیا ہے؟
ہماری درخواست ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے وہ تمام رہنما اور عہدیدار جو عوام کے ووٹ لے کر آئے ہیں، اس معاملے پر بھرپور دباؤ ڈالیں۔ کشمیریوں کو دیکھیں، وہ کس طرح متحد ہو کر احتجاج کر رہے ہیں۔
— ڈاکٹر عظمیٰ خان
پی ٹی آئی کی آفیشل یوٹیوب چینل پر لائیو کوریج دیکھیں:
https://t.co/bkSdV65iNt