پرفارمینس الاؤنس کے معاملے پر طویل زیادتی کے باوجود فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ملازمین کو اس ملک کی خدمت میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے انہیں سلیوٹ پیش کرنے کے بجاۓ ان کی الاؤنس منجمد کردینا کہاں کی ناانصافی ہے؟
#DefreezeFBRAllowance
افسوس کا مقام ہے جہاں تمام اداروں میں ملازمین کی تنخواہوں اور الاؤنس میں اصافہ کیا جاتا ہے وہیں FBRملازمین کو ملنے والا پرفارمینس الاؤنس سالوں سے منجمد ہے بھی اسہی ملک کے شہری ہیں مہنگائی کا تناسب ہمارے لئے بھی اتنا ہی ہے جتنا دیگر ملازمین کے لئے ہے
#DefreezeFBRAllowance
اگر کسی ملازم کی تنخواہ بڑھا کر واپس کاٹ دی جاۓ تو یقین کریں آپ اس کو چوری کی طرف ، دھوکہ دہی کی طرف اور کرپشن کی طرف دھکیلتے ہو
فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ملازمین کا منجمد شدہ الاؤنس فی الفور بحال کیا جاۓ۔
#DefreezeFBRAllowance@NawazSharifMNS@MaryamNSharif@MIshaqDar50
@hamidalibaigs نویں صدی میں ایک مسلمان خاتون نے دنیا کی پہلی یونیورسٹی قائم کی اور اسے علم کا مرکز بنایا،
حامد بھائی کا ٹویٹ ایک طاقتور،حقائق پر مبنی جواب ہے جو یاد دلاتا ہے کہ مسلمان خواتین 1100سال سے علم و دانش میں کردار ادا کرتی آ رہی ہیں۔
عورتوں کی تعلیم کو فتنہ کہنا قطعی اسلامی تعلیم نہیں
اب جبکہ ہر شخص اپنے اپنے تجزیے اور مشاہدات کی بنیاد پر رائے دے رہا ہے، تو میں نے بھی سوچا کہ اپنے دو لفظ، اپنے دو پیسے کی رائے، آپ تک پہنچا دوں۔
میرا یہ خیال نہیں ہے کہ بھائی اندر سے کبھی یہ سمجھتے تھے کہ موجودہ ریاست انہیں دل سے قبول کر لے گی۔ وہ خود اس حقیقت سے آگاہ تھے۔ ان کے سیاسی سفر کو دیکھیں، ان کے بیانات کو دیکھیں، ان کی ملاقاتوں کو دیکھیں، خاص طور پر جی ایم سید سے ملاقات کو دیکھیں تو یہ بات مزید واضح ہو جاتی ہے کہ وہ اس حقیقت کو سمجھتے تھے کہ ایک وقت ایسا بھی آ سکتا ہے جب انہیں الگ کر دیا جائے گا۔
لیکن جو لوگ ان کے اردگرد بیٹھتے رہے ہیں، یا آج بھی بیٹھے ہوئے ہیں، وہ نہ جانے کیوں اس بات کو سامنے نہیں لانا چاہتے کہ بھائی نے کئی مرتبہ یہ کہا تھا کہ انہیں معلوم ہے کہ وہ اس ریاست کے لیے قابلِ قبول نہیں ہیں۔ اس کے باوجود انہوں نے اپنی قوم کے لیے راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی۔
بھائی کی خواہش یہ تھی کہ مہاجروں کو اپنی شناخت، اپنی سیاسی طاقت اور اگر ممکن ہو تو اپنی ریاست ملے۔ لیکن جب انہیں کوئی راستہ نظر نہ آیا تو انہوں نے اسمبلیوں کا رخ کیا۔ جب اسمبلیوں سے بھی امید پوری نہ ہو سکی تو انہوں نے اپنی جدوجہد کا رخ صوبوں کی طرف موڑا۔ اس وقت ان کا خیال یہ تھا کہ اگر ایک صوبہ بھی مل جائے تو شاید وہاں سے آگے کی راہ ہموار ہو سکے۔ مگر بدقسمتی سے وہ بھی نہ ہو سکا۔
پھر ایک ایسا مرحلہ آیا جب بھائی کے اردگرد ایک ایسا گروہ جمع ہو گیا جو بار بار ایک ہی بات دہراتا رہا۔ وہ کہتے تھے کہ ہمارے فلاں فلاں لوگ اسٹیبلشمنٹ میں ہیں، آرمی میں ہمارے رابطے ہیں، ہم ڈیل کروا سکتے ہیں۔ شروع میں بھائی نے اس سوچ کو صاف صاف رد کر دیا۔ انہوں نے اسے قبول نہیں کیا۔
لیکن جب وہی بات بار بار دہرائی گئی، مسلسل دباؤ ڈالا گیا، تو ایک موقع پر انہوں نے جھلا کر یہ کہہ دیا کہ اچھا تم لوگ دیکھ لو، جو کرنا ہے کر کے دیکھ لو۔ یہ ان کی خواہش نہیں تھی، نہ ہی انہیں اس پر یقین تھا، لیکن مسلسل اصرار کے بعد انہوں نے گویا بیزاری کے عالم میں یہ بات کہہ دی۔
آج اس کے نتائج سب کے سامنے ہیں۔
دیکھئے، بھائی ایک بہت بڑی شخصیت ہیں۔ ان پر اعتراضات کیے جا سکتے ہیں، اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ مہاجر قوم کو ایک شناخت دینے والی سب سے بڑی تاریخی شخصیت جناب الطاف حسین ہیں۔ انہوں نے ایک منتشر طبقے کو آواز دی، اسے شناخت دی، اسے سیاسی شعور دیا۔
مگر افسوس کہ کچھ لوگوں نے وقتی فائدوں کے لیے انہی سے ان کی لیگیسی چھیننے کی کوشش کی۔ اور یاد رکھئے، جو لوگ وقتی فائدوں کے لیے کام کرتے ہیں وہ کبھی مخلص نہیں ہوتے۔ نہ وہ قوم کے ہوتے ہیں، نہ تحریک کے، نہ نظریے کے۔
بھائی کو ایک ایسے موڑ پر لا کر کھڑا کر دیا گیا جہاں ایک طرف ان کی جدوجہد کو مٹانے کی کوشش کی گئی، اور دوسری طرف انہیں اس حال تک پہنچا دیا گیا کہ وہ بار بار ان دروازوں پر دستک دیتے رہیں جہاں سے عزت نہیں بلکہ تذلیل ملتی رہی۔ اور ہمارے ساتھ ایسا رویہ رکھا گیا جو کسی مہذب معاشرے میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
یہ تلخ سچ ہے۔
آدھا سچ دراصل سچ نہیں ہوتا۔ آدھا سچ اکثر فتنہ ہوتا ہے۔ اس لیے پورا سچ بولنا چاہیے۔ اور خاص طور پر اس بابرکت اور مقدس مہینے میں، جب ہمیں اپنے ضمیر کا محاسبہ کرنا چاہیے، کم از کم اس وقت تو سچ بیان کرنا چاہیے کہ حقیقت کیا تھی۔
لیکن افسوس یہ ہے کہ آج بھی جھوٹ کا سلسلہ جاری ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بھائی کو ورغلانے والے، بھائی کو ان کے اصل راستے سے ہٹانے والے، اور بھائی کو بے توقیر کرنے والے یہی لوگ تھے۔ یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے وقتی فائدوں کے لیے پوری تحریک کو نقصان پہنچایا۔
اور تاریخ ان باتوں کو بھولتی نہیں۔ تاریخ سب یاد رکھتی ہے @AwazEHaq90@AltafHussain_90
@Bhainskipoonch_ اللہ پاک اپنے پیارے محبوب اور ان کے گھرانے کے طفیل آپ کے گھر کی بنیاد سلامت رکھے انہیں صحت وسلامتی والی زندگی کے ساتھ آپ کے ساتھ تمام رمضان عید تمام خوشیاں نصیب کرے۔آمین