شہداءِ کارساز اور شہید بینظیر بھٹو کی عظمت کو سچا خراجِ تحسین جمہوریت کی بحالی اور عوامی حاکمیت کے لیے مستقل جدوجہد ہے۔ ان کی قربانیاں ہمیں آئین، قانون اور عوام کے حقوق کے لیے ڈٹ جانے کا درس دیتی ہیں #شہداء_کارساز#بینظیر_بھٹو#عوامی_حاکمیت#جمہوریت#SalaamShuhadaEKarsaz#PPP #18October2007
پاکستان پیپلز پارٹی کے رکنِ قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ جیلانی کے احکامات پر تحصیل خیرپور کے عہدیداران و ذمے داران کا اجلاس یوم کارساز کے شہداء کو خراج تحسین پیش .
@ShahNafisa
Chairman Bilawal Bhutto Zardari of the Pakistan People's Party and BB Aseefa Bhutto Zardari have arrived at the Parliament House
@BBhuttoZardari@AseefaBZ@ShahNafisa
خیرپور: پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما و رکنِ قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے تحصیل خیرپور کی یونین کونسل گجو پہنچ کر پاکستان پیپلز پارٹی تحصیل خیرپور کے صدر حاجی محمد سلیمان کٹوہر کی جانب سے دی گئی عشائیے کی دعوت پر منعقدہ پروقار تقریب میں شرکت کی۔@ShahNafisa
خيرپور:پاڪستان پيپلزپارٽي اڳوڻو سي ايم سنڌ سيد قائم علي شاهه جيلاني جي ۽ پاڪستان پيپلز پارٽي ايم اين اي ڊاڪٽر سيده نفيسه شاهه جيلاني جي طرفان ٽائون ڪميٽي ٺيڙھي ون جي علائقي ۾ ٺيڙهي جي مين روڊ کان وايه سم نالي کان ويندڙ مختلف ڳوٺن کي ملائيندڙ روڊ جو مڪمل .
@ShahNafisa
خيرپور: سنڌ جي وڏي وزير سيد مراد علي شاهه فيض محل خيرپور پهچي هز هائنس مير علي مراد خان ٽالپر جي لاڏاڻي تي وارثن سان تعزيت ڪئي ۽ مرحوم جي مغفرت لاءِ دعا گهري.
ان موقعي تي سيد اسد علی شاہ ناصر شاهه اور سيد ڪميل شاہ اور ديگر وزرا ساتھ موجود هئا
@MuradAliShahPPP@ShahNafisa
پاکستان تحریک انصاف اگر واقعی اپنے عوام کے ساتھ سچی ہے تو انہیں انتہا پسندی کی سیاست کو چھوڑ کر ڈائیلاگ کی طرف آنا ہوگا
مسلے کا واحد حل سیاسی ڈائیلاگ ہی ہے
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی محترم بلاول بھٹؤ زرداری صاحب
@BBhuttoZardari@ShahNafisa
پاکستان تحریک انصاف اگر واقعی اپنے عوام کے ساتھ سچی ہے تو انہیں انتہا پسندی کی سیاست کو چھوڑ کر ڈائیلاگ کی طرف آنا ہوگا
مسلے کا واحد حل سیاسی ڈائیلاگ ہی ہے
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی محترم بلاول بھٹؤ زرداری صاحب
پاکستان پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کے معاشی بحران سے نکالنے کے لیے سیاسی استحکام ناگزیر ہے۔
سیاسی جماعتوں کو اپنے اختلافات اور سیاسی مقاصد کے لیے جدوجہد جاری رکھتے ہوئے دہشت گردی، معاشی بحران اور عوامی مسائل جیسے قومی معاملات پر کم از کم مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیے۔
خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر میں عوام کے کاروبار اور روزگار کو متاثر کرنے کے بجائے سیاسی جماعتوں کو عوامی مشکلات کم کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔
سیاسی اختلافات اپنی جگہ، مگر عوامی مسائل کا حل ہماری اولین ترجیح ہونا چاہیے۔
@BBhuttoZardari
جمہوریت، آئین، وفاق کو بچانے کیلئے ڈٹ کے کھڑا ہے، ہر جمہوریت کش حملہ آور کو بھرپور جواب دے رہا ہے،
وفاق بھی بچا رہا ہے، صوبے بھی اور جمہوریت بھی۔
جیئے صدر آصف علی زرداری
شوکت اللّٰہ میتلو
انفارمیشن سیکریٹری
پاکستان پیپلز پارٹی تحصیل خیرپور
Sukkur is now a role model for Sindh across all sectors—from top universities & medical colleges to sports complexes, transport, & women empowerment. We’re inviting national & global partners to witness this transformation firsthand, says @sharjeelinam. ❤️🖤💚
اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر اور صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کے بلوچستان کے ترجمان میر علی حسن زہری نے ایوانِ صدر اسلام آباد میں صدرِ پاکستان آصف علی زرداری سے اہم ملاقات کی۔
@BBhuttoZardari@ShahNafisa
Called on President PPP Women Wing, Honourable Adi Faryal Talpur, at Zardari House Karachi, alongside President PYO Sindh Mansoor Shahani and General Secretary PYO Sindh Lala Murad.
We are deeply grateful to Chairman PPP @BBhuttoZardari and the party leadership for their trust and confidence in us to lead PYO Sindh.
(1/2)
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کی زیرِ نگرانی کراچی میں ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت جاری ہے۔ 900 میٹر طویل سڑک 34 کروڑ 20 لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر کی گئی، جس سے علاقے میں شہریوں کو بہتر سفری سہولت میسر آئے گی۔
@murtazawahab1
#کراچی /08 اکتوبر 2026 / سندھ حکومت نے مالی سال 2027-2026 کے لئے سندھ فلڈ ریزیلینس پروجیکٹ کے لیے 350 ملین ڈالر کی مالی معاونت کی تجویز ورلڈ بینک کو پیش کردی
صوبائی وزیر برائے آبپاشی، منصوبہ بندی و ترقی جام خان شورو کی زیر صدارت آرکائیوز کمپلیکس میں ورلڈ بینک کے اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیلابی خطرات سے نمٹنے، شہری علاقوں کو قدرتی آفات سے محفوظ بنانے اور سندھ کے بڑے شہروں کے علاوہ دیگر اہم شہروں کی ترقی و بحالی کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں ورلڈ بینک کے وفد میں لیڈرابن اسپیشلسٹ سلیم روحانہ، ٹاسک ٹیم لیڈر و ڈیزاسٹر رسک مینجمینٹ اسپیشلسٹ بلال خالد، امپارو سیمپر ہیرالڈو شریک تھے، جبکہ محکموں کی جانب سے سیکریٹری آبپاشی، ظریف کھیڑو، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقی بورڈ نجم احمد شاہ، پروجیکٹ ڈائریکٹر، ڈپٹی پروجیکٹ ڈائریکٹر سندھ فلڈ ایمرجنسی ری ہیبلیٹیشن پروجیکٹ اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔
اجلاس میں ورلڈ بینک کی جانب سے سال 2022 کے تباہ کن سیلاب سے سندھ میں ہونے والے نقصانات، جاری بحالی کے اقدامات اور مستقبل میں موسمیاتی تبدیلیوں کے سبب قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے مجوزہ حکمت عملی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ 2022 کے سیلاب سے سندھ میں 1.46 کروڑ افراد متاثر ہوئے، جبکہ 9.1 ارب ڈالر کے مالی و بنیادی ڈھانچے کے نقصانات ہوئے اور 17.1 لاکھ مکانات متاثر یا تباہ ہوئے۔ دریائے سندھ کے دائیں کنارے کے 7 اضلاع میں سالانہ بنیادوں پر 1.11 ارب ڈالر کے معاشی نقصانات اور تقریباً 22.3 لاکھ افراد کے متاثر ہونے کا خطرہ موجود ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ورلڈ بینک کے مالی تعاون سے جاری SFERP اور SFEHRP منصوبوں کے تحت اب تک 1.6 ارب ڈالر کی مالی معاونت متحرک کی جا چکی ہے۔ ان منصوبوں کے تحت 848 کلومیٹر سے زائد سڑکوں اور 205 کلومیٹر حفاظتی بندوں کی بحالی مکمل کی گئی، جبکہ 9 لاکھ سے زائد گھروں کی تعمیر و مرمت اور 14 اضلاع میں ریسکیو 1122 کے 26 جدید اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں۔
اجلاس میں مالی سال 2027-2026 کے لیے سندھ فلڈ ریزیلینس پروجیکٹ کے تحت 350 ملین امریکی ڈالر کی مالی معاونت کی تجویز بھی پیش کی گئی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ منصوبے کے لیے CDWP سے پروجیکٹ کانسیپٹ کی کلیئرنس 30 اکتوبر 2026، جبکہ PC-I کی منظوری دسمبر 2026 تک متوقع ہے، جس کے بعد ورلڈ بینک کے بورڈ سے حتمی منظوری مارچ 2027 تک متوقع ہے۔
اجلاس میں مجوزہ منصوبے کے پِلر 1: بیسن لیول فلڈ ریزیلینس (Basin-Level Flood Resilience) پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ان اقدامات کا مقصد سندھ کے دائیں کنارے (Right Bank) پر مستقبل میں آنے والے ممکنہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔ ان اقدامات کی نشاندہی عالمی شہرت یافتہ ادارے ایشین انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور اس کے ماہرین کے حالیہ تحقیقی جائزے کے نتیجے میں کی گئی ہے۔
اجلاس میں مجوزہ منصوبے کے پِلر 2: اربن ریزیلینس (Urban Resilience) پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس اقدام کا مقصد سندھ کے ثانوی شہروں کو سیلاب، شدید گرمی اور دیگر قدرتی و موسمی خطرات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مضبوط اور پائیدار بنانا ہے۔
مجوزہ منصوبے کے تحت شہری سرمایہ کاری کے لیے سیلابی خطرات، آبادی کی حساسیت، بنیادی شہری سہولیات کی کمی اور شہروں کی تیاری کی صلاحیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ترجیحات کا تعین کیا جائے گا۔ شہری ڈرینیج، سڑکوں، گلیوں، عوامی مقامات اور ماحول دوست گرین سلوشنز کے لیے علاقائی بنیادوں پر سرمایہ کاری بھی زیر غور ہے۔
صوبائی وزیر جام خان شورو نے کہا کہ حکومت سندھ کی ترجیح ہے کہ مستقبل کے سیلاب اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے نہ صرف دیہی علاقوں بلکہ شہری مراکز کے بنیادی ڈھانچے کو بھی مضبوط بنایا جائے۔ پائیدار شہری منصوبہ بندی، مؤثر ڈرینیج سسٹم، بہتر شہری حکمرانی اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال سندھ کو مستقبل کے قدرتی خطرات کے مقابلے میں زیادہ مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
کراچی: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی اور سندھ ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی کے چیئرپرسن جنید بلند نے بلاول ہاؤس میں ملاقات کی.
@BBhuttoZardari@JunaidBulandPPP