@ARNOfficiall Haha, please always verify the content generated from AI.
20,000 from x amount would always be better than 15,000 from y amount. If you're talking about saving rate, then statement should be: 15,000 saved from 80,000 is better than 20,000 saved from 200,000.
@PseudoEconomist I went to HMB last year to open saving account, they told me that they are not opening saving account rn, in fact the manager said that no bank is opening sav account currently. I've complained to SBP through sunwai, only then I've got call from head office that you can create.
@amirnawazdogar@AmerSharifOFCL بھائی مسئلہ ٹیکس کا ہونا اور نہ ہونا نہیں ہے، مسئلہ ٹیکس کا لینا اور نہ لینا ہے.
ٹیکس ہے سب پر برابر لیکن سیلری والوں پر کیونکہ ٹیکس آن سورس ہے اس لیے ان سے بڑی آسانی سے گورنمنٹ کولیکٹ کر لیتی ہے. جبکہ کڑوڑپتی بزنس مین زیرو ٹیکس بھرتے ہیں.
@offend_often@IdrisAOni1@docakx Science is discovering not creating so creator should bew someone very genius.
"Your merciful don't care about children in Gaza", for that we'll have day of judgment where every oppressor will get punishment.
*My Favourite Story to explain anyone Power of Individual Actions Compounded in Society & It's Effects on Country*
*## بادشاہ، حوض اور دودھ کی بالٹی*
پرانے وقتوں کی بات ہے کہ ایک بادشاہ نے اپنی رعایا کا امتحان لینے کے لیے اعلان کیا کہ شہر کے وسط میں موجود تالاب (Pool) کو دودھ سے بھرا جائے۔ حکم یہ تھا کہ رات کی تاریکی میں ہر گھر سے ایک شخص آئے اور ایک بالٹی دودھ تالاب میں ڈال دے۔
شہر کا ایک شہری، جو کافی چالاک بن رہا تھا، اس نے سوچا: "ہزاروں لوگ دودھ ڈالیں گے، اگر میں ایک بالٹی پانی ڈال دوں تو اس اندھیرے میں کسی کو کیا پتہ چلے گا؟ سفید دودھ میں ایک بالٹی پانی مل کر دودھ ہی لگے گا۔"
اگلی صبح جب بادشاہ تالاب کے پاس پہنچا تو وہ حیران رہ گیا کیونکہ پورا تالاب سفید دودھ کے بجائے شفاف پانی سے بھرا ہوا تھا۔
وجہ یہ تھی کہ شہر کے ہر فرد نے یہی سوچا تھا کہ "میرے ایک کے پانی ڈالنے سے کیا فرق پڑے گا؟"
------------------------------
## ملکی سطح پر اس کا اطلاق (Application to a Country)
یہ کہانی کسی بھی ملک کی ترقی اور تنزلی کی بہترین عکاسی کرتی ہے۔ ایک ملک کا مجموعی نتیجہ (Lump sum result) دراصل اس کے کروڑوں شہریوں کی انفرادی سرگرمیوں کا نچوڑ ہوتا ہے۔
*1. ٹیکس کا نظام:*
جب حکومت ٹیکس مانگتی ہے تو بہت سے لوگ یہ سوچ کر چوری کرتے ہیں کہ "بڑے بڑے لوگ تو دے نہیں رہے، میرے چند پیسوں سے ملک کو کیا فرق پڑے گا؟" جب کروڑوں لوگ یہی سوچتے ہیں تو ملک قرضوں میں ڈوب جاتا ہے۔
*2. صفائی ستھرائی:*
ہم اکثر سڑک پر کچرا پھینکتے ہوئے سوچتے ہیں کہ "صرف ایک ریپر (Wrapper) سے شہر گندا نہیں ہوگا"۔ لیکن جب پورا ملک یہی سوچ کر کچرا پھینکتا ہے تو شہر کچرا کنڈی بن جاتے ہیں۔
*3. قانون کی پاسداری:*
ٹریفک سگنل توڑنا ہو یا لائن میں لگنا، ہم سوچتے ہیں کہ "باقی سب تو اصول توڑ رہے ہیں، میرے ایک کے لائن میں لگنے سے کیا بدلاؤ آئے گا؟" یہی سوچ پورے ملک میں افراتفری پیدا کرتی ہے۔
*## نتیجہ (The Moral)*
اس کہانی کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ "آپ کی بالٹی ہی اصل میں ملک کی بالٹی ہے"۔
ایک ملک تب بنتا ہے جب ہر شہری یہ سمجھ لے کہ اس کا چھوٹا سا مثبت عمل (سچ بولنا، محنت کرنا، قانون ماننا) مجموعی طور پر ایک عظیم نتیجہ پیدا کرے گا۔ اگر آپ اپنی بالٹی میں خالص دودھ (ایمانداری) ڈالیں گے، تب ہی ملک کا تالاب خوشحالی سے بھرے گا۔
@Saim_Riz@faizannriaz Bhai he is not related to any habib group, Arif Habib is a different person, owner of Dolmen, Fatima Fertilizers, Arif Habib Group etc, the HBL you're referring that is founded by Ismail Habib now runs by their 2nd/3rd generation as Bank Al Habib, Habib Metro, Habib sugar etc
’’وہ ایک سمندر کھنگالنے میں لگے ہوئے ہیں، ہماری کمیاں نکالنے میں لگے ہوئے ہیں، وہ جن کی اپنی لنگوٹیاں تک پھٹی ہوئی ہیں، ہماری پگڑی اُچھالنے میں لگے ہوئے ہیں‘‘، سُہیل آفریدی کا شعر۔۔!!