Dear @imsciences01 Alumni Family,
As a proud alumnus, MBA-Finance (Session 2005–2007) and CEO of Parcon Associates Pakistan, I am honored to contest for the position of President – IM|Sciences Alumni Association Election
#SiddiqParachaPK#IMSciences#IMSciencesAlumni#IAA
"بنام پاکستان تحریک انصاف"
"وقت کا تقاضا ہے کہ اس قومی جدوجہد کو مزید تقویت دی جائے۔ جہاں سے بھی آئین، جمہوریت اور شہری آزادیوں کے حق میں آواز بلند ہو، اسے کمزور کرنے کے بجائے مضبوط کیا جائے۔ یہی عمران خان کا مقصد ہے، یہی بالغ نظری، یہی اصولی سیاست اور یہی جمہوری راستہ ہے۔"
پاکستان تحریک انصاف اورحبس بے جا میں قید ہمارے چیئرمین محترم عمران خان صاحب کو سینکڑوں جھوٹے مقدمات اور ملک سے غداری جیسے سنگین الزامات پر مبنی متعدد ایف آئی آرز کا سامنا کرنا پڑا، جن کے باعث وہ آج بھی ناحق پابندِ سلاسل ہیں۔ اس دوران ہماری آواز کتنی سنی گئی اور کس نے ہمارا ساتھ دیا، یہ ایک الگ بحث ہے۔
آج اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس جدوجہد کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں جو حقیقی آزادی، عدلیہ کی خودمختاری، جمہوریت کی بحالی، پارلیمان کی آزادی، شفاف انتخابات، آئین و قانون کی بالادستی، انسانی حقوق کے تحفظ اور تمام ریاستی اداروں بشمول فوج کو آئین میں متعین حدود کے اندر رہ کر کام کرنے کے اصول کے لیے جاری ہے۔ یہی وہ مقصد ہے جس کی خاطر عمران خان صاحب اور ان کی اہلیہ کو بھی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑ رہی ہیں۔
اگر ہمارا مقصد اصولوں کی بالادستی ہے تو پھر ہر اس آواز کی حمایت کی جانی چاہیے جو اس جدوجہد کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کرے، خواہ اس کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو۔ اسی تناظر میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے خلاف قائم کیے گئے مقدمات اور غداری جیسے الزامات کی بھی کھل کر مذمت کرنی چاہیے،
میں ایک سیاسی کارکن کی حیثیت سے کے جو آئی کہ سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سمیت ہر اس شخص اور ہر اس آواز کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتا ہوں جو آئین، جمہوریت، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے لیے کھڑی ہے، اور سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے جھوٹے مقدمات کی واضح الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔
وقت کا تقاضا ہے کہ اس قومی جدوجہد کو مزید تقویت دی جائے۔ جہاں سے بھی آئین، جمہوریت اور شہری آزادیوں کے حق میں آواز بلند ہو، اسے کمزور کرنے کے بجائے مضبوط کیا جائے۔ یہی عمران خان کا مقصد ہے، یہی بالغ نظری، یہی اصولی سیاست اور یہی جمہوری راستہ ہے۔
ایک طرف دس ہزار کے لگ بھگ شہادتیں اور دوسری جانب صرف چند درجن ہلاکتیں ۔۔۔۔۔ کیا یہ جھنگ بندی کا اعلان ان شہادتوں کا حساب کر پائے گا؟ 57 ملکوں میں سے صرف ایران کو ہی فلسطین کا ساتھ دینے کی سزا یہودیوں اور صلیبیوں نے ملکر دی۔
جماعت اسلامی کے اسٹیج سے قائدین کی موجودگی میں قائد ملت اسلامیہ مولانا فضل الّرحمٰن صاحب کیلیئے نازیبا الفاظ استعمال ہوئے! سمجھ نہیں آرہا کہ کیا لکھوں؟ لکھنا تو ہوگا اور منہ تھوڑ لکھنا ہوگا
اےایمان والو!جسٹس سیٹھ وقار نےبطورچیف جسٹس ہائی کورٹ،پشاوربی آرٹی سےمتعلق35اعتراضات اٹھاکرنومبر2019 میں تحقیقات کاحکم دیا تھا۔جسکےخلاف جسٹس عمرعطابندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نےفروری 2021 میں سٹے آرڈرجاری کیاتھالیکن گذشتہ سوادوسال میں اسکی سماعت نہیں ہوئی۔وماعلیناالالبلاغ
سائیکل پر دفتر جانے کیلے جو سائیکل خان صاحب استعمال کررہے تھے اس کے چین کی چوُں چوُں کی آوازیں پشاور تک آرہی تھیں۔ بیچارے کے پاس گریس لگانے کے پیسے بھی نہیں تھے۔عمران خان نے اپنی رہائش گاہ سے دفتر تک کے سفر کے ذریعے قومی خزانے سے 984ملین (98؍ کروڑ 40؍ لاکھ سے زائد) روپے خرچ کیے۔
رئیس الجامعہ صدیقیہ کراچی، استاد العلماء، شیخ القرآن والحدیث مولانا ڈاکٹر منظور احمد مینگل صاحب کی پراچہ ہاؤس پشاور آمد۔ صدیق پراچہ اور ان کے جاندان کے افراد سے نشست۔ مولانا ڈاکٹر منظور احمد مینگل صاحب صدیق پراچہ کی دعوت پر تشریف لائے۔ تمام اہلِ خانہ کی خیر و برکت کےلیئے دُعا کی۔
سویڈن میں قرآن پاک کو نذر آتش کرنے کا گھناؤنا فعل ہر اعتبار سے قابل مذمت اور افسوسناک ہے۔ مسلم دنیا کے حکمرانوں کو اس فعل کی بھرپور طریقے سے مذمت کرنی چاہئے ۔
سنگین بےحرمتی کے خلاف ٹیم جےیوآئی ٹوئٹر کا ہنگامی ٹرینڈ کا آغاز ہوچکا ہے۔
ہیش ٹیگ👇
#Boycott_Sweden
With Governor KP @HajiGhulamAli4, At Shaheed Benazir Bhutto Women's University on its foundation day. University was established by MMA govt. Alhamdolillah it’s now delivering education and parents/students from masses trust quality education, keeping the norms of Pashtun culture