ریاستی جبر سے کوئی حق گو محفوظ نہیں, کسی کو محض اس لیے اغوا کر لینا کے ذیشان کے بھائی اور رشتے دار ہیں, ایسا تو دہشت گردوں کے رشتےداروں سے بھی نہیں کیا جاتا ۔۔ بنیادی انسانی حقوق کی دھجیاں اڑا ڈی گئی ہیں
Prisoner of conscience!
Imran Khan has been one of the most consistent and vocal critics of Western interference in Pakistan. He has challenged the efficacy of military solutions, condemned drone strikes as counterproductive, and advocated for an independent foreign policy. Imran Khan’s policies that saw him stand as a staunch opponent of the “War on Terror” are exactly what position him as a prisoner of conscience.
CAGE International calls for Imran Khan’s immediate and unconditional release.
#FreeImranKhan
https://t.co/5222OphwP6
جنید اکبر کا اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر عملدرآمد کرنے کا اعلان
اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کے مطابق اسلام آباد پہنچ کر بند راستے کھلوائیں گے ۔ جنید اکبر 😄
پچھلے دو تین دن میں جس طرح کے واقعات ہوئے، ہمیں اس پر تکلیف ہوتی ہے۔ یہ ملک میرا ہے، ہمارے بچوں نے یہاں رہنا ہے۔ہم پر غلط الزام لگایا جا رہا ہے کہ ہم خدانخواستہ اداروں کے خلاف ہیں۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ادارے اس وقت مضبوط ہوں گے جب عوام ان کے پیچھے ہوں گے۔ ہم اپنے اداروں کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہماری کسی انفرادی شخصیت سے بالکل اختلاف ہو سکتا ہے، لیکن ہم چاہتے ہیں کہ اداروں پر لوگوں کا اعتماد بڑھے اور جو دوریاں پیدا ہوئی ہیں، وہ کم ہوں۔
لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ہمیں اس طرح دیوار سے لگایا جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ اپنا ورکر بھی ہم سے ناراض ہو جاتا ہے کہ آپ کیوں مفاہمت کی بات کرتے ہیں، آپ کیوں مسئلے کا حل نکالنے کی بات کرتے ہیں۔
پی ٹی آئی کو جتنی توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اتنی ہی اس کی گراف بڑھ رہی ہے۔ جنید اکبر کو آپ نے فارغ کر دیا، میں نے سیاست چھوڑ دی، میں نااہل ہو گیا، میں جیل چلا گیا، تو کیا پی ٹی آئی کمزور ہو جائے گی؟ جنید اکبر کی جگہ 15، 20 بندے اور آئیں گے، وہ زیادہ محنت کریں گے۔ تو یہ فارمولا یہاں کامیاب نہیں ہوا۔
میں تو چاہتا ہوں کہ ادارے مضبوط ہوں۔ میں کیوں اپنے اداروں کو نیچا دکھانے کی کوشش کروں گا؟ یہ تو بہت کم ظرف بندہ ہوگا۔ کیا کوئی پاکستانی یہ سوچ سکتا ہے کہ میں یہ ثابت کروں کہ میں نے اپنے اداروں کو شکست دی؟
بندوق کی نوک پر تو بات نہیں ہو سکتی۔ ایک طرف وہ ڈر بھی ہمارا ختم ہو گیا ہے۔ ایف آئی آرز اتنی ہو گئیں، گرفتاریاں اتنی ہوئیں کہ وہ ڈر ختم ہو گیا۔ پیچھے سے ورکر مار رہے ہیں، آگے سے یہ لوگ مار رہے ہیں، تو ہمارے پاس کوئی آپشن باقی نہیں رہا۔
ورنہ ہماری بھی خواہش ہے کہ ہم سب ایک پیج پر ہوں، مضبوط پاکستان ہو، مضبوط ادارے ہوں اور قانون کی حکمرانی ہو۔ہم سب کی اس میں جیت ہے کہ پاکستان پھلے پھولے اور پاکستان آگے بڑھے، اور اس مقام تک پہنچانے میں سب اپنا کردار ادا کریں۔