ایک مخصوص دانشوروں کا عسکری ٹولہ کل تک قسمیں کھا رہے تھے کہ عاصم منیر مرد مجاہد ہے وہ کبھی غزہ بورڈ پیس کا حصہ نہیں بنے گا۔ جب شمولیت کی خبر آئی تو فوراً راگ بدلا، پاکستان فوج نہیں بیجھے گا
پھر مارکو ربیو نے کہا کہ پاکستان نے خود فوج کی آفر کی ہے، تو بیانیہ یوں مڑا جیسے کبھی سیدھا تھا ہی نہیں کہ فوج فلسطینی ریاست کے لیے جا رہی ہے
لیکن جب نیتن یاہو نے صاف کہہ دیا کہ ایسی کسی فلسطینی ریاست جس میں غزہ اور مسجد اقصیٰ شامل ہوں کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تو یہ ٹولہ اگلے سکرپٹ کا انتظار کرنے لگا
پہلے دعوی تھا کہ امریکہ اسرائیل اور بھارت افغانستان کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں پھر جب امریکی صدر ٹرمپ نے کھل کر پاکستان کی حمایت کی تو اسی کو عظیم سفارکاری قرار دے دیا یعنی دشمن بھی کامیابی دوست بھی کامیابی۔ بس ہر حال میں شہنشاہ کی خوشامد ہی خوشامد
یہ وہ لوگ ہیں جو ہر تضاد کو حکمت عملی ہر پسپائی کو دوراندیشی اور ہر جھوٹ کو قومی مفاد بنا کر پیش کرتے ہیں۔ انہیں حقیقت سے کوئی دلچسبی نہیں صرف طاقت کے دربار میں حاضری لگانی ہے
تاریخ گواہ ہے کہ مشرقی پاکستان کے سانحے سے پہلے بھی ایسے ہی عقل کے ٹھیکدار تھے جو آخر تک ہر شکست کو فتح اور ہر تباہی کو قومی سلامتی کا تقاضا ثابت کرتے رہے انجام سب کے سامنے ہے
کوئی ایک بھی مسلمان نہیں؟
کوئی ایک بھی غیرت مند نہیں؟ کسی کو خدا خوفی نہیں ھے؟
دنیا میں کوئی بھی کمپنی ہو وہاں کوئی ایک ہی سہی مگر ایماندار ضرور ہوتا ھے، یہ دنیا کی واحد کمپنی ھے جہاں سبھی بےایمان کرپٹ اور مادر فروش بیٹھے ہیں
یہ فَراڈِیا بڑا ہو کر عَصْرِ حاضِر کے رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی انصار عباسی، سہیل وڑائچ، منیب فاروق، طلعت حسین، رؤف کلاسرا، سرکاری حاجن، فاروقی صاحبہ کی کمی بلکل بھی محسوس نہیں ہونے دیگا۔
راتوں رات امیر ہو نے کے لیے ضروری نہیں کہ آپ ڈاکو ہی بنیں، آپ وطن فروش درباری بے ضمیر منافق صحافی یا جج بھی بن سکتے ہیں!
نہ کوئی نغمہ نہ کوئی ترانہ نہ ہی بجٹ بڑھانے کی کوشش نہ ہی دشمن کو تباہ کرنے کے جھوٹے اور جعلی دعوے ایرانی افواج نے اب تک مکمل پروفیشنل آرمی ہونے کا ثبوت دیا ہے۔۔۔۔
ماہ رنگ بلوچ اس وقت فوج کی تحویل میں ہے۔ فوج کا ترجمان خود ہی اس پر چارج شیٹ عائد کررہا ہے، خود ہی پراسیکیوٹ کرے گا، خود ہی ملٹری کورٹ میں مقدمہ چلوائے گا۔
ملٹری کورٹ کا جج کوئی کرنل رینک کا افسر ہوگا، جب وہ اپنے اعلی ترین افسر کی ماہ رنگ بلوچ کے بارے میں رائے پڑھے گا تو کیا وہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرسکے گا؟ کیا وہ وہی سزا نہ سنائے گا جو اوپر بیٹھے جرنیل اسے کہیں گے؟
ملٹری کورٹس جنگل کا قانون ہے اور ملٹری اس جنگل کے بھیڑیئے جن کے منہ کو انسانی خون لگ چکا ہے۔
اس ادارے کا مکمل صفایا کئے بغیر یہ ملک آگے نہیں بڑھ سکتا!!!
71 کی داستان ہوبہو دہرائی گئی۔
سرینڈر کی رات فوجی ترجمان مغربی پاکستان کی عوام کو بتا رہا تھا کہ ہم نے دشمن کے بیسیوں ٹینک تباہ کردیئے، فوجی ٹھکانوں پر بمباری کرکے اسے تامل ناڈو کے پانیوں میں واپس دھکیل دیا، وغیرہ وغیرہ۔ چند گھنٹے بعد دوردرشن سے پتہ چلا کہ ہماری فوج تو سرینڈر کرکے پتلونیں اتار چکی۔
یہی کچھ کل رات ہوتا رہا۔ ہم نے اتنے طیارے مار گرائے، اتنی تنصیبات تباہ کردیں، سری نگر سے پٹھانکوٹ تک، ہمارے میزائلوں نے بھارتی بیس کیمپس ملیامیٹ کردیئے، وغیرہ وغیرہ۔
آج ہمیں بتایا گیا کہ اگر بھارت ہمارے 26 شہریوں کو شہید کرنے کے بعد مزید کوئی حملہ نہ کرے تو ہم بھی جوابی کارروائی نہیں کریں گے۔
دنیا کی واحد ایٹمی قوت ہے جو اتنی بزدل، اتنی کمزور اور اتنی بیغیرت ہے!!!
ایک طرف ہندوستان پاکستان پر حملہ آور ہے
دوسری طرف پاکستان کی سپریم کورٹ میں اسٹیلشمنٹ کا بنایا گیا غیر آئینی بنچ ریاست پاکستان کے سب سے بڑے سٹیک ہولڈر،تحریک انصاف، کی مخصوص نشستوں (Reserved Seats) پر قبضہ کروانے میں مصروف ہے 👏🏻
ہندوستانی حملے کی آڑ میں پاکستان کے آئین کے ساتھ مزید تباہی کر دی گئی جو حلف کی خلاف ورزی ہے
۔۔
“ملٹری کورٹ کے حق میں فیصلہ کرنے والے تمام ججوں پر آرٹیکل 6 کے تحت کاروائی واجب ہے”