Litterateur - Part Poet, Journo, Philosopher, Manager - Born in Kashmir, raised in Islamabad, lived & fought in Afghanistan & now this World is my hometown.
کہ القاعدہ کی مرکزی تنظیم شامی صدر کو جہادی نظریات سے انحراف کرنے والا امریکی اور مغربی اتحادی سمجھتی ھیکہ احمد الشرع نے اقتدار کیلئے امریکہ سے سودے بازی کی اور عالمی جہاد ترک کردیا
A striking archaeological discovery announced by the Saudi Heritage Commission consists of a rare historical inscription that reads:
"Allah is the guardian of Umar ibn al Khattab in this world & the Hereafter, & there is no god but Allah."
Muhammad ﷺ is the Messenger of Allah.
Just enough effort to get through the day.
When people stop complaining, it doesn't always mean they're happy.
Sometimes it means they have already given up!
2/2
The most dangerous employee isn't the unhappy one.
It's the one who has stopped caring.
Unhappy employees still complain.
Because they still want things to improve.
The dangerous one is the employee who has mentally checked out.
No complains.
No conflict.
No feedback.
1/2
منٹو اور معاشرتی حقیقتیں
معاشروں میں بہت سی برائیاں پائی جاتی ہیں۔ لیکن معاشرے کی مخصوص برائیوں کو جب ادیب تحریر میں لا کر کوچہ و بازار میں بیان کرتے ہیں اور اپنے افسانے کو معاشرے کا عکاس بتلاتے ہیں، تو تاثر یہ جاتا ہے کہ گویا معاشرہ سارا کا سارا ایسا ہی ہے اور جس کو معاشرے کے اس گناہ کا نہیں معلوم ہوتا اس کو بھی ہو جاتا ہے، بلکہ برائی کے طریقے بھی معلوم ہو جاتے ہیں۔
انسان کی زندگی میں بہت سی معمول کی چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو انسانیت کے آغاز سے ہی موجود ہیں، لیکن تعلیماتِ وحی سے لے کر معاشرے کی قدروں تک ان کا ذکر عام معاشروں میں کرنا درست نہیں سمجھا جاتا، بلکہ وحی و عقل کہتی ہے کہ ان کا ذکر فساد کا موجب ہے۔ اس بے باکی پر معذرت لیکن ہمارے ماں باپ جو نہایت محترم و عزت مآب ہیں آپس میں بالکل دو میاں بیوی کی طرح زندگی گزارتے ہیں، لیکن اگر ماں باپ نامی میاں بیوی کے روز و شب عام معاشرے میں بیان کیے جانے لگیں کہ یہ بھی ایک ”حقیقت“ ہے تو اس سے معاشرے میں فساد پھیلے گا۔ یہ بات صرف بطورِ مثال عرض کی ہے۔
اصل میں مقصود یہ ہے کہ ہر ”مصلح“ ادیب و شاعر و صاحبِ فن، اصلاحِ معاشرہ کے لیے کوئی قدم اٹھاتا ہے اور متاسفانہ منٹو صاحب نے جو کچھ لکھا ہے وہ بالفرض اگر اصلاحِ معاشرہ کے لیے لکھا تو منٹو نے معاشرے کی اصلاح منفیت سے، خود فحاشی کو پھیلا کر کرنے کی کوشش کی ہے، جو کبھی بار آور نہیں ہوتی۔
منٹو کی یہ بات مان لی جائے کہ وہ معاشرے کو ننگا کرنے والا نہیں ہے، لیکن ذرا غور فرمائیے، منٹو کے افسانے صرف معاشرے کے ننگے پن کو بیان نہیں کرتے۔ مثلاً منٹو اور اس قبیل کے مصنف و ادیب صرف یہ نہیں لکھتے کہ فلاں جگہ بد کاری ہوتی ہے یا فلاں جگہ فحاشی کا اڈا چلتا ہے یا فلاں اور فلاں جگہ taboo تعلقات موجود ہیں، بلکہ منٹو ان سب بدکاریوں، ان اڈوں اور ان تعلقات کو جزو بجزو، قدم بقدم، ایک ایک تفصیل کی صورت میں بیان کرتا ہے، یہ محض معاشرے کی برہنگی دکھلانا نہیں، معاشرے کی مزید برہنگی کی طرف ترشید (guide) کرنا ہے، جو بہر حال ایک قبیح عمل ہے۔
اصلاح ہمیشہ مثبت دعوت سے ہوتی ہے، قومِ سدوم میں سیّدنا لوط (علیہ وعلی نبینا ألف صلاۃ وسلام) کی سدومیت (بد فعلی) کے خلاف دعوت کو قرآن بیان تو کرتا ہے، لیکن اس کی ایسی فحش جزئیات بیان نہیں کرتا جس سے سدومیت کی تفصیلات یوں سامنے آ جائیں کے یہ بر حق دعوت خود سدومیت کی دعوت بن جائے۔
تم اُن کی آگ سے نہ روشنی لینا!
’’ لَا تَسْتَضِیْئُوْا بِنَارِالْمُشْرِکِیْنَ‘‘ (النسائي،کتاب الزینۃ من السنن)
’’مشرکین کی آگ سے روشنی مت لینا۔‘‘
بھلے لوگو!
شکستہ موتیوں سے اپنے دامن کو بچا رکھنا
ذرا اس دامِ ہم رنگِ زمیں سے
اپنی پروازیں
جدا رکھنا!
No American citizen can be detained in Syria by Ahmed al Sharaa unless the US wants it to happen.
Two decades ago, Yemeni-American cleric Anwar al Awlaki was detained in Sana'a, & it was later proved that his detention had been requested (actually ordered) by the US authorities.
پرکھنا مت پرکھنے میں کوئی اپنا نہیں رہتا
کسی بھی آئینے میں، دیر تک چہرہ نہیں رہتا
بڑے لوگوں سے ملنے میں، ہمیشہ فاصلہ رکھنا
جہاں دریا سمندر سے ملا، دریا نہیں رہتا
تمہارا شہر تو بالکل، نئے انداز والا ہے
ہمارے شہر میں بھی اب، کوئی ہم سا نہیں رہتا
-بشیر بدر
ان اسلام آبادی افغان بھائی کی بات میں کچھ یوں اضافہ کروں گا کہ جس قدر حقوق ایک افغان عورت کو آج طالبان کے افغانستان نے دیے ہیں، ماضی میں کبھی نہیں دیے گئے۔ اور خواتین کو ان کے پورے پورے شرعی حقوق "قانوناً" عطا کیے گئے ہیں، ہاں تطبیق میں یقیناً کمی ہو گی۔
۱/۲
افغانستان میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے کچھ مطالبات یقیناً حقائق پر مبنی ہوں گے، لیکن طالبان کی مخالفت میں افغانستان کے بارے میں میڈیا پر ایسی ایسی خبریں اور رپورٹس شیئر کی جاتی ہیں کہ عقل بھی انہیں ماننے سے انکار کر دے۔ حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ جب امریکا افغانستان میں موجود تھا، تو چھاپوں، رات کے حملوں، جیٹ بمباری اور ڈرون حملوں میں عوام جن میں زیادہ تر بچے اور خواتین شامل ہوتے تھے روزانہ کی بنیاد پر بے گناہ اور بے دردی سے مارے جاتے تھے اور اجتماعی قبروں میں دفن کیے جاتے تھے، تب دنیا نے اسی شدت سے آواز کیوں نہیں اٹھائی؟ بلکہ الٹا، انہی جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف سنگین مظالم کا دفاع بھی بہت سے وہی لوگ کر رہے تھے جو آج افغانستان میں خواتین کے حقوق کے نام پر میڈیا اور حکومتی سطح پر عقل سے بعید کہانیاں پیش کرتے ہیں۔
فلسطین اور دیگر ممالک میں بھی خواتین کے خلاف اسی نوعیت کا قتلِ عام جاری ہے، تو افغانستان جیسی آواز وہاں کی خواتین کے لیے کیوں نہیں اٹھائی جاتی؟ افغان مہاجرین کے خواتین کو پاکستان میں گھروں سے، مردوں کی عدم موجودگی میں، گھسیٹ کر نکالا گیا، جیلوں میں ڈالا گیا کیا وہ خواتین نہیں تھیں؟ کیا ان کی عزت اور حقوق نہیں تھے؟ پاکستانی میڈیا اور کارکنوں نے اس پر وہ شور کیوں نہیں مچایا، جو آج پاکستانی میڈیا میں صفِ اول میں کھڑے ہو کر افغان خواتین کے حقوق کی بات کرتے ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان میں خواتین کی بڑی تعداد بنیادی حقوق سے محروم ہے، ان کے پیارے لاپتہ ہیں اور وہ دربدر کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
@MRehmani جنابِ ڈاکٹر صاحب محترم!
بعد از سلام، ماہنامہ السلطان کہاں سے مل سکتا ہے، گاہے اس کے پی ڈی ایف کے لنکس تو آپ ڈالتے رہتے ہیں، اگر کوئی مستقل پتہ/link مل جائے تو ہم جیسے قارئین کے لیے بڑی سہولت ہو جائے گی۔
شکریہ، جزاکم اللہ خیرا کثیرا
’دو ہفتے پہلے اسلام آباد میں جو ہوا، لوگ کہتے ہیں آپ نے یہ چودہ پندرہ سال پہلے کیسے لکھ دیا؟ میں کہتا ہوں یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ حالات بدلتے نہیں۔‘
-انور مقصود