یہ امام حسین ہی کہ کلیجہ تھا کہ جن اصحاب اور قرابت داروں کے ماتم کو ہم عشرے میں سے دن مختص کرتے ہیں ان سبھوں کا داغ ایک ہی دن میں فجر سے ظہر کے دوران اٹھا لیں
کیا دل تھا دل حسین علیہ السلام کا
ملتی مدت میں ہے اور پل میں ہنسی جاتی ہے
زندگی یوں ہی کٹی یوں ہی کٹی جاتی ہے
اپنی چادر میں اسے کھینچ لیا، لپٹے رہے
چاندنی یوں ہی چھوئی یوں ہی چھوئی جاتی ہے
بھیگی آنکھوں سے کبھی بھیگے لبوں سے ہو کر
شاعری یوں ہی بہی یوں ہی بہی جاتی ہے
عشق اس سے بھی کیا، تم سے بھی کر لیتے ہیں
بندگی یوں ہی ہوئی یوں ہی ہوئی جاتی ہے
آپ کی یاد بھی بس آپ کے ہی جیسی ہے
آ گئی یوں ہی ابھی، یوں ہی ابھی جاتی ہے
بھویش دلشاد
#6محرم_الحرام
إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ دِينٌ وَ كُنْتُمْ لَا تَخَافُونَ الْمَعَادَ فَكُونُوا أَحْرَاراً فِي دُنْيَاكُمْ
اگر تمہارا کوئی دین نہیں ہے اور تم قیامت کے دن سے نہیں ڈرتے، تو کم از کم اپنی دنیا میں تو آزاد مرد (غیرت مند) بن کر رہو۔
انسان نے اپنے جذبات، خیالات کا لطافت سے اظہار کرنے کے لئے مصوری، شاعری، داستان طرازی، سنگتراشی، موسیقی وغیرہ کا سہارا لیا۔ تہذیبی ارتقاء کے ساتھ ان میں نفاست آتی گئی۔
معلوماتی انقلاب نے اس ارتقاء کو دوبارہ صفر تک پہنچا دیا۔ غاروں میں رہنے والے بھی حالیہ ویوزی نسل سے بہتر تھے۔
#5محرم_الحرام
"اِنِّي لا اَرَی الْمَوْتَ اِلَّا السَّعَادَةَ، وَالْحَيَاةَ مَعَ الظَّالِمِينَ إِلَّا بَرَماً"ترجمہ: "میں موت کو سعادت اور کامیابی کے سوا کچھ نہیں سمجھتا، اور ظالموں کے ساتھ زندگی گزارنے کو سوائے ذلت و بیزاری کے کچھ نہیں دیکھتا۔"
اتنے میں شاہ پہ اک شامی نے ماری تلوار
اپنے ہاتھوں پہ لیا بچے نے اس تیغ کا وار
ہاتھ اس کے جو قلم ہو گۓ دونوں یک بار
گر پڑا شاہ کی گودی میں حسن کا دلدار
خاک پر صدمے سے شاہ شہدا لوٹتے تھے
وہ جدا لوٹتا تھا شاہ جدا لوٹتے تھے
انیسؔ
؏ آفتابِ فلکِ عز و شرافت ہیں حسین
سارے سینسدان تجربے کر رئے سی۔ میں اینوں پُچھیا تُوں نئیں کردا کوئی تجربہ۔ کیہندا میرا کیہڑا ایہناں نیں من لینا۔۔۔
سجاد جانی کے گروپ کے رینڈم جملے آج کل کے پورے پورے سٹینڈ اپ پر بھاری ہیں۔
دل دروازہ کھولے کب سے کھڑا ہوں
آؤ میرے مہماں آؤ
گھر میں اندھیرا کیے کب سے پڑا ہوں
چاند ستارے لیے آؤ
وائٹلز سائنز کے گیتوں جیسی تازگی اور شگفتگی اب کم ہی نظر آتی ہے۔ ایسے کِھلے کِھلے، زندگی سے بھرپور گیت کہ تھکا ہارا شخص بھی کچھ دیر کو گنگنانے لگے۔