ریاستی جبر کا نتیجہ آپ کے سامنے ہے ریاست نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کو دہشت گردوں کی پراکسی قرار دیا لیکن تربت کے عوام نے اپنے اس بڑے اجتماع سے ریاست کےالزام کو مسترد کر دیا وہ سب محب وطن جو لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کرنے والوں کو ملک دشمن کہتے تھے وہ اس اجتماع کو کیا کہیں گے؟
یہ دو بیٹیاں ہیں ایک ماہ رنگ بلوچ اور دوسری سمی دین بلوچ ہے دونوں کے باپ 2009 میں لاپتہ ہوئے ماہ رنگ کے والد عبدالغفار لانگو کو 2011 میں قتل کر کے لاش گڈانی میں پھینکی گئی سمی کے والد ڈاکٹر دین بلوچ کا 15سال بعد بھی پتہ نہیں لیکن ان 15 سالوں میں یہ بیٹیاں مظلوموں کی آواز بن گئیں
ڪامريڊ بشير خان قريشي جي جنم ڏينهن تي آءٌ اُنکي خراج پيش ڪريان ٿو. اُنکي ياد نه ڪرڻ سنڌوديش موومينٽ کي پُٺي ڏيڻ آ. هن جسقم جو رُوح روا ح هو پر بدقسمتي سا انجو پُٽُ جسقم جو موت ثابت ٿيو آ. بشير خان جي سورهيائي تاريخي ھئي، پوين جي بزدلي تاريخي آ...
بلوچستان بار کونسل نے ایک قرارداد کے ذریعہ لاپتہ افراد کے خاندانوں کے لئے حکومت کی طرف سے 50 لاکھ روپے کی امداد اور فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کو مسترد کرتے ہوئے تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا بلوچستان بار کونسل نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مکمل حمایت کا اعلان کیا