The life sentences given to @MahrangBaloch_ & other BYC leaders after a faceless, sham trial in an ATC court are a grave injustice & an attack on peaceful political struggle. Attempts to silence dissent through repression will not resolve grievances,nor will they silence dissent.
یہ انڈین پنجاب کا وزیراعلئ پری بجٹ پریس کانفرنس کر رہا ہے اور یہ مودی کی مخالف جماعت کا ہے مگر چار سال میں اس کے اپنے صوبے کے عوام کے مسائل پر جو کام کیا اس کی تفصیل سن لیجئے
سترہ سال اور تیرہ سال مسلسل حکومت والے صوبے کے عوام بھی سن لیں یوں عوام کی خدمت ہوتی ہے
Bridge blown up in Bannu. Nine people martyred in blast in Sarai Naurang. Shelling on protestors in Peshawar. Pakhtunkhwa has been turned into a war zone. Media remains silent. Lack of any kind of response from provincial and federal govts exposes the state's true intentions.
What a country !! Took a loan from the IMF, then stopped a potential World War, also attacked Afghanistan, talked ceasefire with China, then became a Global Peacemaker, also stood with Iran, then condemned attack on KSA, then negotiated with Trump while the nation watched PSL.
Deeply saddened to learn of the passing away of Mama Qadeer. He will always be remembered for his struggle against enforced disappearances, for demanding justice for the Baloch and for standing bravely in the face of oppression. May he rest in peace.
The sham trial of @ImaanZHazir and @AdvHadiali based on a fake case with absurd charges is a prime example of how the judicial system continues to be weaponized against those who speak truth to power, more so after the 26th and 27th amendments. We stand with Imaan and Hadi.
مگر آپ نے تو مشرف کے پی سی او کے تحت بہ طور وزیر بھی حلف اٹھایا تھا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ آپ آئین کے تحفظ والے لوگ ہیں اور انصاف کی درجہ بندی میں پاکستان ایک سو تیسویں نمبر پر بھی ہے۔
سوال یہ ہے کہ آج تو یہ دستور بہ قول آپ کے باقی نہیں رہا، لیکن جب یہ دستور باقی تھا تو آپ نے بہ طور جج لاپتا افراد، دستوری ضمانتوں، انسانی حقوق یا مسخ شدہ لاشوں پر کتنے سکیورٹی اہلکاروں کو سزائیں دیں؟
کیا آپ آج سر اٹھا کے اپنے بلوچوں، پشتونوں اور دیگر اقوام کے سامنے جا سکتے ہیں؟
آپ نے اصل میں جس آئین کے تحت حلف اٹھا رکھا ہے، وہ آئینِ پاکستان نہیں، وہ عسکری بالادستی کا آئین تھا، وہ عدم انسانیت کا آئین ہے، وہ انسانوں کی تذلیل کا آئین ہے، وہ سیاسی وابستگی کا آئین ہے، وہ آئین جانے کب تک نافذ رہے گا۔ اس آئین کے ہاتھ مضبوط کرنے والے آلودہ چہروں میں آپ بھی شامل ہیں۔
عمران خان کوئی چھلاوا نہیں ایک سیاسی لیڈر ہیں۔ اگر آپ عمران خان کی مقبولیت کو سامنے رکھ کر آہیں تبدیل کر رہے ہیں، تو اپنے اور ملک کے ساتھ ظلم کر رہے ہیں۔
عمران خان کو عوامی حمایت حاصل ہے تو انہیں حکومت کرنے کا مکمل حق ہونا چاہیے۔ ن لیگ سمیت ہر جماعت کو معلوم ہونا چاہیے کہ کسی بھی سیاسی لیڈر کو اقتدار دینے یا اقتدار چھیننے کا اختیار جب تک عوام کے پاس نہیں ہو گا اور جب تک اوپر بیٹھے چند لوگ یہ سمجھتے رہیں گے کہ وہ چوبیس کروڑ انسانوں کی قسمتوں کے بہتر فیصلے کر سکتے ہیں، اس وقت تک یہ ملک جمہوری راستے پر آگے نہیں بڑھ پائے گا۔
کسی بھی سیاسی جماعت کی شکست و فتح عوام کے ہاتھوں ہونا چاہیے۔ احتساب و سیاسی سزا و جزا کی مکمل ذمہ داری عوام کا حق ہے۔
بیانیے کا جواب بہتر بیانیے اور مقبولیت کا جواب زیادہ مقبولیت میں ہے۔ فوجی راستوں سے اقتدار پر بیٹھنے والے فوجیوں ہی کی خدمت کر سکیں گے، پاکستان کی خدمت نہیں۔
“قابض طالبان”
اب وہی حرفِ جنوں سب کی زباں ٹھہری ہے
جو بھی چل نکلی ہے وہ بات کہاں ٹھہری ہے
ہم نے جو طرزِ فغاں کی ہے قفس میں ایجاد
فیضؔ گلشن میں وہی طرزِ بیاں ٹھہری ہے
فیض احمد فیض
وفاقی وزیرِ قانون، اعظم نذیر تارڑ نے کل میری تقریر سے قبل وزیراعظم کے ساتھ میری ملاقات، جو دراصل ان کے دورۂ امریکہ پر بریفنگ تھی کا ذکر کیا۔ اس حوالے سے میں ضروری وضاحت دینا چاہتا ہوں۔ باقی، جمعرات کو لگائے گئے الزامات کا جواب تفصیل سے دوں گا۔
سینیٹ آف پاکستان میں تقریر کے بعد وزیراعظم پاکستان نے مجھے دورہ امریکہ پر بریفنگ دینے کے لیے مدعو کیا۔ میٹنگ کے آغاز ہی میں انہوں نے مجھ سے معذرت کی اور کہا کہ یہ سب کچھ پارلیمان میں دورۂ امریکہ سے پہلے ہونا چاہیے تھا۔ میں نے ان کی یہ معذرت اسی وقت قبول کی اور کہا کہ میری تقریر اٹھا کر دیکھ لیں، میں نے ایوان کی بالادستی کی بات کی ہے، کسی کی تضحیک نہیں کی۔ میری تربیت ایسے گھر میں ہوئی ہے جہاں ہمیں بڑوں اور چھوٹوں سے بات کرنے کا سلیقہ اور تمیز سکھائی جاتی ہے۔
وزیراعظم نے اپنی بریفنگ میں وضاحت کی کہ بعض دوروں میں انہیں فیلڈ مارشل کو ساتھ لینے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ کچھ اسٹریٹیجک مجبوریوں کی بنا پر وہ فیلڈ مارشل صاحب کو خود ساتھ لے جاتے ہیں۔ انہوں نے ٹرمپ، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی تصویر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ صدر ٹرمپ کو دیا گیا پتھروں کا تحفہ فیلڈ مارشل نے اپنی جیب سے خریدا تھا، اور اس کا معدنیات کی کسی ڈیل — ملکی یا غیر ملکی — سے کوئی تعلق نہیں۔
میں نے جواب میں کہا کہ مجھ میں یہ جرات ہے کہ اگر کھلے عام تنقید کر سکتا ہوں تو غلطی ہونے پر معذرت بھی کر سکتا ہوں۔ اگر اس تصویر کا پختونخوا اور بلوچستان کی معدنیات یا کسی سودے سے کوئی تعلق نہیں تو میں معذرت خواہ ہوں۔ پختونخوا اور بلوچستان کی معدنیات پر حق وہاں کے عوام کا ہے، اس میں مقامی لوگوں کو شامل کیا جانا چاہیے۔ ہم نہ ترقی کے مخالف ہیں اور نہ معیشت کی بہتری کے۔
ہماری یہ بریفنگ انہی نکات کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی کہ میں نے اپنی تقریر میں کسی کی ذات کی بے حرمتی نہیں کی، نہ ہی کسی کی تضحیک کی۔ پھر بھی اگر کسی کو میری بات سے دکھ پہنچا ہو تو میں معذرت خواہ ہوں، کیونکہ ملک کے دفاع کے حوالے سے فیلڈ مارشل کے کردار کو میں نے سراہا ہے اور سراہتا رہوں گا۔ البتہ جہاں آئینی دائرۂ اختیار سے تجاوز کیا جائے گا، وہاں مظلوم قومیتوں کے نمائندے کی حیثیت سے میں آواز بلند کرتا رہوں گا۔