راجہ صاحب کو یاری دوستی سے باہر نکل کر فوری تنظیمی کارکردگی پر سزا جزا کا عمل سٹارٹ کر دینا چاہیے کیوں کے حقیقی آزادی اور عمران خان صاحب کی رہائی کی تحریک میں نظریاتی اور گراؤنڈ پر کام کرنے والے بہادر لوگوں کی ضرورت ہے نہ کے بزدل اور سازشی لوگوں کی جو صرف اپنی لابی کو پرموٹ کریں
سلمان اکرم راجہ صاحب، اڈیالہ کے باہر آپ کی مستقل موجودگی، سخت موسم اور مشکلات کے باوجود خان صاحب کی بہنوں کے ساتھ کھڑے رہنے کا میں خود گواہ ہوں اور اس کی دل سے قدر کرتا ہوں۔
لیکن بطور سیکرٹری جنرل پاکستان ذمہ داری صرف اڈیالہ کے باہر اکیلے موجود رہنے تک محدود نہیں۔ اصل ذمہ داری یہ تھی کہ ملک کے ہر ضلع میں جا کر تنظیم، ٹکٹ ہولڈرز، پارٹی کیڈر اور کارکنوں کو متحرک کیا جاتا، انہیں احتجاج میں عوام کو نکالنے کی ذمہ داری دی جاتی اور ایک واضح ملک گیر Mobilisation Plan بنایا جاتا۔
بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا۔ حتیٰ کہ لاہور، جو آپ کا اپنا ضلع ہے، وہاں بھی وہ پارٹی کیڈر اور ٹکٹ ہولڈرز مؤثر انداز میں احتجاج کیلئے mobilise نہیں ہوئے جو باقی مواقع پر آپ کے ساتھ ہر جگہ نظر آتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ احتجاج کیلئے نہ کوئی واضح mobilisation plan سامنے آیا، نہ اپنے ہم خیال اور same-page ساتھیوں کو پوری قوت سے میدان میں اتارا جا سکا۔
قربانی قابلِ احترام ہے، مگر قیادت کا اصل امتحان اپنی موجودگی سے بڑھ کر پوری جماعت اور عوام کو متحرک کرنا ہے۔ خان صاحب کی رہائی کیلئے انفرادی نہیں، ملک گیر اجتماعی جدوجہد درکار ہے۔
سلمان اکرم راجہ صاحب کو چند لوگوں نے اپنے کینڈے میں کیا ہوّا ہے راجہ صاحب اگر آج بھی یاری دوستی سے باہر نکل کر تنظیمی کارکردگی پر سزا جزا کا عمل سٹارٹ کر دیں تو بہت بہتری ہوسکتی ہے
سلمان اکرم راجہ صاحب، اڈیالہ کے باہر آپ کی مستقل موجودگی، سخت موسم اور مشکلات کے باوجود خان صاحب کی بہنوں کے ساتھ کھڑے رہنے کا میں خود گواہ ہوں اور اس کی دل سے قدر کرتا ہوں۔
لیکن بطور سیکرٹری جنرل پاکستان ذمہ داری صرف اڈیالہ کے باہر اکیلے موجود رہنے تک محدود نہیں۔ اصل ذمہ داری یہ تھی کہ ملک کے ہر ضلع میں جا کر تنظیم، ٹکٹ ہولڈرز، پارٹی کیڈر اور کارکنوں کو متحرک کیا جاتا، انہیں احتجاج میں عوام کو نکالنے کی ذمہ داری دی جاتی اور ایک واضح ملک گیر Mobilisation Plan بنایا جاتا۔
بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا۔ حتیٰ کہ لاہور، جو آپ کا اپنا ضلع ہے، وہاں بھی وہ پارٹی کیڈر اور ٹکٹ ہولڈرز مؤثر انداز میں احتجاج کیلئے mobilise نہیں ہوئے جو باقی مواقع پر آپ کے ساتھ ہر جگہ نظر آتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ احتجاج کیلئے نہ کوئی واضح mobilisation plan سامنے آیا، نہ اپنے ہم خیال اور same-page ساتھیوں کو پوری قوت سے میدان میں اتارا جا سکا۔
قربانی قابلِ احترام ہے، مگر قیادت کا اصل امتحان اپنی موجودگی سے بڑھ کر پوری جماعت اور عوام کو متحرک کرنا ہے۔ خان صاحب کی رہائی کیلئے انفرادی نہیں، ملک گیر اجتماعی جدوجہد درکار ہے۔
🟨 حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو عالمی جنگوں کے ساتھ منسلک کرنے کا فیصلہ
🟨 دھمکی پر 10 روپے،
میزائل چلانے پر 50 روپے اور، جنگی جہاز تباہ ہونے پر 200 روپے پیٹرول بڑھانے کی تجویز
غیر قانونی انکوائری کے نوٹس کی شدید الفاظ میں مذمت۔
عمران خان کو نہیں توڑ سکے تو اب بہنوں کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے۔ ہر حال میں آنٹی نورین نیازی کے ساتھ کھڑے ہیں۔
"ملاقات کے حوالے سے کچھ نہیں بتاتے جو نئے ایس ایچ او آئے ہیں ان کی تو لگتا انہوں نے زبان بند کی ہوئی ہے ہم پوچھتے ملاقات ہے تو بھی چپ پوچھتے نہیں ہونے دینی ملاقات تو بھی چپ پتہ نہیں اس کے ساتھ کیا زیادتی کی ہے ان سے جو چھوٹے افسر عمران ہیں انہوں نے آکر کہا کہ ملاقات نہیں ہونے دینی۔یہ آپ دیکھ لیں جو میڈیا میں جھوٹ پھیلاتے کہ ہم لیٹ آئے ملاقات اس لیے نہیں ہونے دی"۔ نورین خان
*ہر آزمائش کے بعد کامیابی کی نئی صبح طلوع ہوتی ہے عمران خان کے حامی ان کے مؤقف پر اعتماد کا اظہار کرتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ ثابت قدمی ہی اصل قوت ہے پاکستان کے لیے امید اور اتحاد ضروری ہیں بہتر کل کی امید ہمیشہ زندہ رہنی چاہیے۔*
🇵🇰
🚨ستھرا پنجاب کے ورکر ذیشان نے خود پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا لی
ذیشان کے بچے بھوکے مر رہے تھے ذیشان کو تنخواہ مانگنے پر تشدد کر کے نوکری سے ہی نکال دیا گیا تھا
ایسا کیا ہوا کے جیلوں سے رہا ہو کر انے والے ہمارے 12 کارکن شہید ہوئے ۔ پارٹی کے لئے شہید ہونے والوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور جیل کے ماحول کو بہتر بنانے پر زور دیتا ہوں ۔
یہ عوامی بجٹ نہیں اشتہاری بجٹ ھے ۔عمران خان نے شوکت خانم ہسپتال کے لئے اپنا سب کچھ وقف کر دیا ، نواز شریف نے اپنے نام پے بننے والے ہسپتال میں کیا عطیہ دیا ؟۔
فارم 47 کے سہارے اقتدار میں آنے والوں سے عوامی شعور کی توقع نہیں۔ مریم اورنگزیب کے بیان پر اسپیکر اور ن لیگ کے ایم پی ایز کے قہقہے ثابت کرتے ہیں کہ انہیں عوام کے دکھ درد کا کوئی احساس نہیں۔ یہ ہنسی پنجاب کے عوام کی توہین اور ان کو اقتدار میں لانے والوں کے لئے لمحۂ فکریہ ہے۔
بیرسٹر گوہر نے چھبیس نمبر چونگی پر ہمیں کہا کہ محسن نقوی کی کال آئی ہے کہ اگر نورین نیازی سپرنڈنٹ جیل اڈیالہ کو درخواست دیں تو ہم ملاقات کروا دیں گے۔
ہم نے وکلاء سے مشورہ لیا تو وکلاء نے کہا یہ بہت غلط چیز ہے فُل کورٹ بینچ کا حکمنامہ ہے جس میں 18 لوگوں کی ملاقات کروانے کی اجازت ہے جس کو یہ violate کررہے ہیں۔
آج ہم صبح سے عدالت میں تھے کہ یہ قید تنہائی ختم کی جائے، ہم ایک ملاقات نہیں اس کے مکمل حقوق کی بحالی چاہتے ہیں یہ جو کچھ عمران خان کے ساتھ کر رہے یہ جرم ہے۔ یہ اے آر وائی کی خبر تھی کہ نورین نیازی اور بیرسٹر سیف جارہے ہیں ہمیں ڈائریکٹ کسی نے نہیں کہا کہ ملاقات ہوجائے گی۔ علیمہ خان
جو پولیس سیاسی انتقام کے لیے پی ٹی آئی کے کارکنوں پر ظلم و ستم ڈھاتی ہے، جھوٹے مقدمات قائم کرتی ہے اور قانون کو انصاف کے بجائے جبر کا ذریعہ بناتی ہے، ایسی پولیس کو عوام کے ٹیکس سے ایک روپیہ بھی نہیں ملنا چاہیے۔
میں اس ایوان میں آنکھوں دیکھے واقعات اور ناقابلِ تردید شواہد کے ساتھ یہ سب کچھ پیش کر رہا ہوں ۔