پچھلے پچاس سال میں پاکستانی فوج کو بین الاقوامی امداد اور اہمیت ہمیشہ اس وقت ملی جب خطے میں امریکہ نے کوئی جنگ چھیڑی۔ افغان وار اول و دوم، گلف وار اول و دوم، یہ ادوار پاکستانی جرنیلوں کیلئے سنہرے دن کہلاتے ہیں جب ڈالرز ملتے تھے، سینئر امریکی حکام کی جرنیلوں سے ملاقاتیں رہتی تھیں، وائٹ ہاؤس بلایا جاتا تھا، نیٹو کے ساتھ مشاورتوں میں شامل کیا جاتا تھا۔
اب ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ نہ تو وہ کوئی نیا محاذ کھولے گا اور نہ ہی پہلے سے جاری جنگوں کو فنڈ کرے گا۔ جرنیلی خواہشات پر اوس تو پڑ ہی چکی، مزید خرابی یہ ہوئی کہ اس کی ٹیم فوجی حکومتوں سے ڈیل نہیں کرنا چاہتی۔
پاکستانی فوج، جس کے خرچے غیرمعمولی طور پر بڑھ چکے ہیں، مراعات کے نام پر آدھا بجٹ نہ کھائے تو اس کا پیٹ نہیں بھرتا، ایسے میں اگر امریکی سپورٹ اور نئی جنگوں کی امید ختم ہوتی ہے تو یہ جرنیلی موت ہوگی۔
جرنیل اس وقت تنہا ہوچکا ہے۔ فوج کے اندر بھی اب اس کی حمایت ختم ہوچکی ہے۔ نیوی اور فضائیہ کے اٹھانوے فیصد جوان عاصم منیر کے خلاف ہیں، آرمی میں بھی اب بغاوت سر اٹھارہی ہے۔
پاکستانی فوج کی تاریخ میں پہلی مرتبہ قیادت کی تبدیلی کی لہر اٹھنا شروع ہوچکی ہے۔ یہ لہر جب موج کی شکل اختیار کرگئی تو فرعون کو غرق کردے گی!!!
پچھلے دو دن کے دوران انباکس میں تقریباً ساڑھے سات لاکھ اوورسیز پاکستانیوں نے میسجز بھیج کر کہا ہے کہ وہ اب بنکوں کے ذریعے ترسیلات نہیں بھیجیں گے۔
ان ساڑھے سات لاکھ پاکستانیوں نے گزشتہ گیارہ ماہ میں بیس ارب ڈالرز بھجوائے تھے۔
اب آپ خود ہی اندازہ لگا لیں کہ اگلے چند ہفتوں میں حکومت کے حالات کیا ہونے جارہے ہیں!!!
فوج کی عزت اب عمران خان بھی بحال نہیں کرسکتا۔ عزت بحال کرنے کی ایک ہی صورت ہے کہ فوج خود کو ریاست سمجھنا بند کرے، سیاست میں مداخلت ختم کرے، بے جا مراعات کا سلسلہ ختم ہو، پراپرٹی کے معاملات سے دور رہے اور اپنا فوکس صرف اور صرف سرحدوں کو محفوظ بنانے پر رکھے۔
اگر وہ ایسا نہیں کرتی تو پھر چاہے عمران خان بھی اس کی سفارش کرے، فوج کو پرانی عزت کبھی دوبارہ نہیں مل سکے گی!!!
اندرون اور بیرون ملک رہنے والے پاکستانیو!
دل پر بھاری پتھر رکھ کر آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ چاہے کوئی آپ کا کتنا بھی پسندیدہ وی لاگر کیوں نہ ہو، اس کے یوٹیوب اور ٹک ٹاک کو اگلے چند مہینوں تک کسی قسم کے ویوز مت دیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق سینکڑوں ملین ڈالرز ترسیلات کی شکل میں ان وی لاگرز اور ٹک ٹاکرز کو ملتے ہیں۔
یہ دروازہ بھی بند کریں، ویسے بھی ٹک ٹاکرز نے سوائے گند پھیلانے کے، اور کچھ نہیں کیا۔
جس طرح روزے کے دوران ہر قسم کا کھانا پینا بند کرلیا جاتا ہے، سمجھ جائیں کہ آپ نے وی لاگز دیکھنے کا بھی روزہ رکھ لیا ہے ۔ ۔ ۔
ویسے بھی کونسی ایسی سیاسی خبر یا تجزیہ ہے جو آپ کو ایکس پر نہیں ملتا؟ وی لاگز کے ذریعے فسطائی رجیم کو ڈالرز مت لینے دیں!!!
فوجیوں کیلئے سب سے بڑا لالچ ڈی ایچ اے کا پلاٹ ہوتا ہے جس کیلئے وہ اپنے حلف نامے کو توڑ کر اپنی تنخواہ حرام کرلیتے ہیں، اپنے بچوں کو حرام کھلاتے ہیں، عوام پر ظلم کرکے ان کی مستقل بددعائیں لیتے ہیں ۔ ۔ ۔ یہ سب کچھ ڈی ایچ اے کے پلاٹ کی لالچ ان سے کرواتی ہے۔
حالیہ برسوں میں ڈی ایچ اے میں 90 فیصد انویسٹمنٹ اوورسیز پاکستانی کرتے تھے جس سے ڈی ایچ اے کی قیمتیں مستحکم رہتی بلکہ ان میں ہر سال خاطر خواہ اضافہ بھی ہوتا رہتا۔ ڈی ایچ اے کی دیکھا دیکھی فوج کی دوسری سوسائیٹیز بشمول آرمی ویلفئیر ٹرسٹ، فضائیہ اور نیوی کی سکیمیں بھی خاطر خواہ فائدہ اٹھاتیں، یوں فوجیوں کے وارے نیارے تھے۔
اب اوورسیز پاکستانی ڈی ایچ اے میں انویسٹمنٹ بند کرنے جارہے ہیں جس سے وہاں کے پلاٹس کی قیمتوں میں واضح کمی آنا شروع ہوجائے گی۔
ڈی ایچ اے لاہور میں زمین انڈیکس کے مطابق گزشتہ 11 ماہ میں قیمتوں میں کمی کا رحجان شروع ہوچکا ہے۔ یہی حال فوج کی دوسری سکیموں کا بھی ہے۔ 2022 کے بعد ڈالر کی قیمت ڈبل ہوگئی لیکن اس حساب سے پلاٹوں کی قیمت کم ہوئی ہے۔ اس سے آپ ٹرینڈ کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔
ذرا اس میجر جنرل کو تصور میں لائیں جو اگلے چند سال بعد ریٹائرڈ ہوگا - اس وقت ملنے والا پلاٹ آج کی قیمت سے بھی کم مارکیٹ ویلیو پر ہوگا۔ ساری عمر حس مقصد کیلئے حرام کھایا، اپنے بچوں کی بھی حرام تنخواہ سے پرورش کی، قوم کی بددعائیں لیں، اور آخر میں پتہ چلا کہ وہ مقصد ہی پورا نہ ہوسکا۔
قسم ہے زمانے کی، انسان خسارے میں ہے!!!
1۔ اقوام متحدہ ورکنگ گروپ کی جانب سے عمران خان کی غیرقانونی گرفتاری کی مذمت پر رپورٹ جاری ہوئی اور حکومت کو ذمے دار قرار دیا گیا۔
2۔ امریکی کانگریس میں بھاری اکثریت سے عمران خان کی گرفتاری کے خلاف قرارداد منظور
3۔ برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا سمیت اہم مغربی ممالک کی پارلیمنٹ میں حکومت پاکستان کی مذمت کی گئی
4۔ لانگ رینج میزائل پروگرام پر امریکہ نے پابندی عائد کر دی
5۔ یورپی یونین نے جی ایس پی پلس کا سٹیٹس واپس لینے کا اشارہ دے دیا
6۔ سعودی کراؤن پرنس نے دو مرتبہ طے شدہ دورہ منسوخ کردیا
7۔ چین نے پہلی مرتبہ پاکستان سے اعلی ترین ترجیحی پارٹنر کا سٹیٹس واپس لے لیا
8۔ پچھلے دو سال میں فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ حالیہ تاریخ کے کم ترین درجے پر رہی
یہ سب کام پچھلے دو سال میں عاصم منیر کے دور میں ہوئے۔
اخے، عمران خان کے دور میں پاکستان سفارتی تنہائی کا شکار ہورہا تھا!!!
فوجی فوڈز منافع میں
فوجی فرٹیلائزر منافع میں
عسکری بنک منافع میں
ماڑی گیس منافع میں
اٹک پٹرولیم منافع میں
فوجی سیمنٹ منافع میں
دوسری طرف ریلوے، پی آئی اے، واپڈا، سٹیل مل سمیت سارے قومی ادارے خسارے میں۔
آئیں، سب مل کر قومی ادارے لوٹنے والوں کے کمرشل اداروں سے اپنا نقصان پورا کریں ۔ ۔ ان کا بائیکاٹ کریں، انہیں دیکھ کر نفرت سے منہ پھیر لیں ۔ ۔ ۔!!!
پہلے کارکنان کو سنائپرز کے ذریعے شہید کیا گیا۔
پھر ان کے اہل خانہ کو اغوا کیا گیا تاکہ وہ قتل کی پیروی نہ کرسکیں۔
پھر ان پر پرچے کٹوائے گئے تاکہ دھمکیوں سے ڈر جائیں۔
گر آپ فوج سے اپنے شہدا کا قصاص نہیں لے سکتے تو کم از کم ان کی پراڈکٹس تو خریدنا بند کرہی سکتے ہیں۔
دودھ، مکھن، کارن فلیکس، کھاد، بیج، چپس، فروزن فوڈ، پٹرول، انجن آئل، بنک کے ساتھ لین دین ۔ ۔ ۔ یہ سب وہ پراڈکٹس ہیں جو ہر شہری استعمال کرتا ہے۔
ان سب پراڈکٹس کو اپنے اوپر ایسے حرام کر لیں جیسے اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا حرام سمجھتے ہیں۔
26 نومبر اور 9 مئی میں آپ ہی کے بھائیوں کو مارا گیا۔ ان بھائیوں کا گوشت مت کھائیں!!!
ملٹری کورٹ کا جج کوئی بریگیڈئیر یا کرنل ہوتا ہے۔ ملٹری کورٹ میں مقدمہ دائر ہونے کا مطلب ہی یہ ہے کہ ہائی کمان ملزم کو سزا دینا چاہتی ہے، اسی لئے اسے گرفتار کرکے مقدمہ چلایا گیا۔
اب کیا وہ جج کرنل یا جج بریگیڈئیر اتنی جرات کرسکتا ہے کہ اپنی ہائی کمان کی خواہشات کے برعکس، اس ملزم کو بری کردے؟
کیا ایسا کرنے والا اپنی ملازمت جاری رکھ سکے گا؟ کیا اس کیلئے ترقی کے دروازے بند نہیں ہوجائی گے؟
مہذب ممالک میں پاکستان کی طرز کے ملٹری کورٹس کی کوئی گنجائش نہیں، خاص کر سویلین کے ٹرائلز تو انسانی حقوق کی شدید ترین خلاف ورزیوں میں شمار ہوتے ہیں۔
ہم جرنیلی کورٹس کو نہیں مانتے۔ اس کے فیصلوں کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں۔ ان فیصلوں کے نتیجے میں سزا وار معصوم شہریوں کو حبس بیجا میں شمار کرتے ہیں۔
ہم تمہاری عدالتوں کو نہیں مانیں گے، تمہاری فسطائیت کے آگے سر نہیں جھکائیں گے!!!
انصافیوں نے پہلے سوشل میڈیا کے ذریعے الیکشن جتوانے کا کارنامہ سرانجام دیا تھا اور اب سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان کی فارن پالیسی ازسرنو مرتب کرکے دنیا کی تاریخ میں یکسر نئی روایت کا آغاز کردیا ہے۔
کس نے سوچا تھا کہ امریکہ جیسی مشکل ترین ریاست کو سوشل میڈیا کے ذریعے بھی مینیج کیا جاسکتا تھا؟
اب ہمارا مقابلہ پٹواریوں، لفافوں اور اسٹیبلشمنٹ سے نہیں رہا۔۔ اب ہم بین الاقوامی معاملات پر اثرانداز ہونا شروع ہوچکے ہیں!!!
رچرڈ، جو ٹرمپ کی ایڈمنسٹریشن کا حصہ بننے جارہا ہے، وہ بھی ایکس (ٹویٹر) پر اپنی پوسٹ (فری عمران خان) کی ریچ (دس ملین) دیکھ کر حیران رہ گیا جس کے بعد رچرڈ سمیت کئی امریکی سیاستدانوں نے بھی عمران خان کے حق میں مزید پوسٹس کرنا شروع کردی ہیں۔
ایکس بلاشبہ اس وقت سیاسی حوالے سے سب سے مؤثر پلیٹ فارم ہے جس نے روایتی میڈیا کو گٹر میں بہا دیا ہے۔
بارھویں فیل ڈفرز نے پہلا کام ہی یہ کیا کہ ایکس پر پابندی لگا دی اور ٹاؤٹس آج بھی ایکس ہینڈلز کو بین کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔
یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے 90 کی دہائی میں کمپیوٹرائزیشن اور رواں صدی کے آغاز میں ای کامرس کو بین کرنے کا مشورہ دیا جاتا۔
تباہی ہے، جرنیلوں کیلئے صرف تباہی ہے!!!
یہ بیانیہ سراسر غلط تھا کہ ہمیں ایک مضبوط فوج کی ضرورت ہے تاکہ ہمارا ملک اور دفاع مضبوط ہوسکے۔
ستر سال میں ہم نے فوج کو مضبوط کئے رکھا جبکہ سویلین ادارے کمزور پڑتے گئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آج پوری ریاست ایک مافیا کے شکنجے میں جکڑی محسوس ہوتی ہے جہاں نہ عدالتیں آزاد ہیں، نہ قانون نافذ کرنے والے ادارے آزاد ہیں اور نہ ہی سرکاری ملازمین۔
ہمیں مضبوط فوج کی بجائے مضبوط جمہوری ادارے چاہیئں جو سویلین اداروں کو مضبوط بنائیں، انہیں عوام کے تابع کریں، عدالتوں کو آزاد کروائیں اور پولیس کو عوام کا خادم بنائیں۔
فوج کو مضبوط کرنا ایسے ہی ہے جیسے آپ بھیڑیئے کا بچہ پالیں اور اسے روزانہ اپنا خون پلا کر بڑا کریں تاکہ وہ جونہی طاقت پکڑے، سب سے پہلے آپ کا ہی چیر پھاڑ کردے۔
تیل کی ڈاؤن سٹریم کمپنیاں جو کنزیومرز کو ڈائریکٹ پٹرول بیچتی ہیں، ان کا پرافٹ مارجن فی لٹر پٹرول پر ایک سے ڈیڑھ فیصد ہوتا ہے۔ اگر اس میں سے یہ دو روپے نکال دیں تو سمجھ جائیں کہ بزنس نقصان میں چلنا شروع ہوگیا۔
لیکن ایک منٹ۔
اے پی ایل کو تیل کی سپلائی کون کرتا ہے؟ فوجی فیولز
فوجی فیولز کے پاس پٹرول کہاں سے آتا ہے؟
سمگلنگ کے ذریعے ۔ ۔
اسی لئے اب ڈسکاؤنٹ بھی دے رہے ہیں ورنہ اگر ریفائنری سے پٹرول خریدا ہوتا تو ایک پیسہ بھی کم نہیں کرسکتے تھے۔
یہ ڈسکاؤنٹ اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہے کہ ایرانی تیل کی سمگلنگ میں کون سا مافیا ملوث ہے!!!
ایک تقریب میں جنرل یحیی خان نے غیرملکی سفیروں اور فوج کی ہائی کمان کو مدعو کر رکھا تھا۔ جنرل یحیی ایک سفیر سے گفتگو کررہا تھا کہ ایک فوجی افسر ساڑھی میں ملبوس اپنی خوبصورت بیگم کے ساتھ وہاں آگیا۔ جنرل یحیی نے اس کا تعارف کچھ یوں کروایا کہ
یہ ہے میجر جنرل فلاں اور اس کے ساتھ ہے اس کی پروموشن ۔ ۔
یہ کہہ کر جنرل یحیی نے مکروہ آواز میں قہقہہ بلند کیا اور میجر جنرل کھسیانی ہنسی کے ساتھ وہاں سے چلا گیا۔
(حمودالرحمان رپورٹ کے کچھ گمشدہ اوراق سے اقتباس)
عمران خان نے حکومت سے مذاکرات کا دروازہ کھولا ہے، ہم نے مذاکرات کیلئے کسی سے کوئی درخواست نہیں کی، حکومت سے مذاکرات سے قبل ہمارا مطالبہ ہے کہ پی ٹی آئی کے تمام بے گناہ رہنمائوں اور کارکنان کو فوری رہا کیا جائے، بیرسٹر علی ظفر۔۔!!
جرنیلوں نے اپنی بارھویں فیل سمجھدانی کو استعمال کرتے ہوئے سقوط ڈھاکہ کے دن اے پی ایس کروایا تاکہ ہمدردیوں کا رخ موڑ سکے۔
اب سولہ دسمبر کو ایک کی بجائے دو، دو واقعات پر قوم کی گالیاں کھارہے ہیں۔
اسی طرح آج سے چند سال بعد 26 نومبر اور نو مئی کے حوالے سے بھی قوم انہی کو گالیاں دے رہی ہوگی۔
مکافات عمل اسی کو کہتے ہیں!