پمز اسپتال سانحے کے بعد وزیراعظم نے سیکرٹری ہیلتھ کو عہدے سے ہٹا کر انکی جگہ سیکرٹری ہاؤسنگ کیپٹن ریٹائرڈ محمد محمود کو وزارت قومی صحت کا اضافی چارج دیا گیا۔
2013 میں کیپٹن محمد محمود نندی پور منصوبے کے انتظامی سربراہ بنے۔ نندی پور منصوبے کی تاخیر، انتظامی ناکامیوں اور ایک متنازعہ ٹینڈر کے معاملات سامنے آئے بڑا سکینڈل بنا، جس کے بعد انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
2020 کمشنر راولپنڈی بنے۔ 2021 میں پنجاب اینٹی کرپشن نے کیپٹن ریٹائرڈ محمد محمود کو گرفتار کیا۔ ان پر الزام تھا کہ راولپنڈی رنگ روڈ کی الائنمنٹ میں مبینہ تبدیلیوں اور دیگر بے ضابطگیوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا۔
حالیہ دور میں پیٹرولیم، فوڈ سیکیورٹی اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ایڈیشنل سیکرٹری کے عہدے پر رہے۔ اس وقت وزارت ہاؤسنگ کے سیکرٹری ہیں اور اب سانحہ پمز اسپتال کے بعد انکو وزارت قومی صحت کا اضافی چارج دیا گیا ہے۔
وزیراعظم نے سیکرٹری ہیلتھ کو تو عہدے سے ہٹا دیا لیکن دوسری جانب اصل ذمہ دار پمز اسپتال کے انتظامی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکا۔ اطلاعات ہیں کہ وہ تگڑی سفارش پر پمز کے ای ڈی لگے تھے۔
وفاقی وزیر قومی صحت مصطفی کمال کا تو ذکر ہی نہ کریں، وہ آج کل جس قبیلے کی نمائندگی کرتے ہیں، انکو ہٹانے کے مطالبہ کرنا بھی ملک دشمنی تصور ہوگا۔
یہ کروا رہا ہے، وہ کروا رہا ہے۔۔۔ ارے، آپ روک کیوں نہیں رہے؟ ہونے کیوں دے رہے ہیں؟ خالد انعم
#pakistan@khaledanam1
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
میرا خیال ہے کہ جیو نیوز نے جو غلطی کی ہے یہ کوئی منصوبہ بندی یا باقاعدہ سازش نہیں تھی ، کیونکہ پاکستانی چینلز ایک تو سرکاری اشتہارات سے چلتے ہیں اور دوسرا ادھر ادھر سے کسی کا مواد چوری کرکے اور چلا کر۔ کسی پروڈیوسر نے حسب عادت کہیں سے کوئی ویڈیو یا کلپ اٹھایا اور بغیر دیکھے چلوا دیا۔ زیادہ مال بنانے کی ہوس میں نیوز چینلز نے سینکڑوں لوگ نکال دیے ہیں اور چار کی جگہ ایک بندے سے کام لیتے ہیں۔
لیکن چونکہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس میں عوام کے جذبات مجروح ہوتے ہیں تو جیو نیوز کو از خود کچھ وقت کے لیے آف ائیر ہوجانا چاہیے۔ عوام سے بار بار معذرت کرنی چاہیے۔ علماء اور مذہبی رہنماؤں کو بھی جیو نیوز کے لیے ویسی گنجائش نکالنی چاہیے جو مفتی ثمر عباس کے لیے نکال لی۔
جیو نیوز نے تحریک انصاف کے خلاف بدترین کردار ادا کیا ہر گند میں منہ مارا۔ فوج کا مہرہ بن کر ہر طرح کا جھوٹ پھیلایا سچ سے نظر بچائی لیکن ایسے کسی نازک مذہبی معاملے کو لیکر جیو کیساتھ سکور سیٹل نہیں کریں گے کیونکہ ہم لوگ سرکاری اشتہارات کی بھیک پر نہیں پلتے۔
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت بڑھنی ہی تھی ،کیونکہ تحریک انصاف اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کو پہلے سے مینج کر لیا گیا ہے کہ حکومت عوام کے ساتھ کچھ بھی کرے ، آپ نے خاموش رہنا ہے
ظاہر ہے جنہوں نے عمران خان کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا ہے وہ عوام کے کونسا سگے ہیں ،
حکومت عوام کے ساتھ ہر ظلم جاری رکھے گی کیونکہ ان کے سامنے کوئی مزاحمت نہیں ، اپوزیشن ساری لیٹی ہوئی ہے
خدا کرے پورا سال ایران امریکہ کی بات چیت چلتی رہے ، جس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہو رہا ہے کہ پاکستان کے تمام بارڈرز پر امن ہے ، افغانستان میں امن ہے ، پاکستان میں امن ہے ،
کوئ دہشتگردی نہیں ہو رہی ، کوئ بی ایل اے والا نہیں کوئ وادی تیرہ میں اپنے شہریوں پر ڈرون حملہ نہیں ۔۔
کوئ فتنہ الہدوستان نہیں کوئ خوارج نہیں ۔۔۔👏👏👏
احسن اقبال آپ کی ساری زندگی جھوٹ پر مبنی ہے۔ میں نے وقت لیا آپ کو جواب دینے میں۔ کچھ لحاظ کے تقاضے تھے۔ مگر اب جواب دے رہا ہوں۔ نواز شریف کی جس ترقی کے سفر کا ڈھول آپ پیٹ رہے ہیں اس نے ملک کو تباہ کر دیا۔ آج پاکستان اس قرضوں کے جال میں ان کی غلط پالیسی اور آپ جیسے پلاننگ کے مشیروں کی وجہ پھنسا ہوا ہے۔ دو پراجیکٹ جس کے لیے وہ کریڈٹ مانگتے ہیں وہ پاکستان کا ناسور تھے۔ پہلا لوڈ شیڈنگ کو ختم کرنے کے لیے پہلے نوے کی دہائ اور پھر اپنی تیسری گورنمنٹ (2014-15) میں کیے آئ پی پی کے کرپٹ معاہدے تھے۔ اس میں ریاست کا مفاد نہی دیکھا گیا اور ان سیٹھوں کو جو یا رشتہ دار تھے یا پارٹنر نوازا گیا۔ اب بھی ہم ان کو دو ہزار ارب سالانہ سے زیادہ منافع دے رہے ہیں چاہے وہ اک یونٹ بھی بجلی نہ بنائیں۔ چھیالیس ہزار میگا واٹ بجلی کی کہیسیٹی ہے مگر پچیس بھی نہی بنا پا رہے۔ اس جرم کا کون زمہ دار ہے۔ دوسرا جو سڑکوں کا جال بنانے کا تمغہ لیا جاتا ہے۔ مودی نے اسی ہزار کلومیٹر سڑکیں بھارت میں بنائیں مگر اپنے پیسے سے۔ ہم نے اس کے مقابلے بہت کم بنایا مگر ڈالر کے قرضے میں۔ میں مال بنانے کا الزام نہی لگا رہا مگر ملک اس وقت ان دو بڑے پراجیکٹ کی وجہ سے قرضے کے جال میں پھنسا ہے۔ ہمارا ڈیبٹ یعنی قرضہ بحران جس سے ہمارا کرنٹ اکائونٹ، تجارتی اور بجٹ خسارے جنم لیتے ہیں۔ یہ کہنا کہ موقع نہی ملا۔ کتنا موقع چاہیے۔ پچھلے چار سال سے پورا موقع تھا۔ نہ عدالت نہ اپوزیشن نہ پارلیمان نہ میڈیا۔ ایسا موقع تو آمریت میں نہی ملا۔ کیا کیا آپ نے۔ قرضے چتالیس ہزار ارب سے اسی ہزار ارب تک ہو گئے۔ پاکستان کی تاریخ چھوڑیں مونجھوداڑو کے زمانے سے پنتالیس فیصد غربت پانچ دریاؤں کے دھرتی میں نہی دیکھی گئ۔ بائیس فیصد بیروزگاری۔ پچاس سال میں پہلی دفعہ ساری بڑی فصلوں میں گراوٹ۔ اس پر بھی آپ شرمندہ نہی بلکہ جھوٹ بول رہے ہیں کہ ہمیں موقعہ نہی ملا۔ اگر میرے کسی خیال سے اختلاف ہو تو میں کئ دفعہ آپ کو ٹی وی پر بلا چکا کہ مجھے غلط ثابت کر لیں۔ محظ پراپیگنڈا نہ کریں۔ مزید جواب پر میں پھر حاظر ہوں۔ اب اس جواب کو کتنا تھراٹل کروائیں گیں۔
Pakistanis should never forgive PMLN for IPPs and for fixing the dollar rate using foreign reserves. These two decisions were a death sentence for the state of Pakistan.
یوم پاکستان پر اس سے شاندار،جاندار،بہترین ویڈیو کوئی نہیں ہوسکتی
بنانے والے نے چھوٹے بڑے تمام ہیروز کو 4منٹ کے اندر آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے کمال مہارت سے سمودیا ہے۔
جس نے بھی اس تصور پر یہ ویڈیو بنائی ہے وہ قومی اعزاز کا مستحق ہے۔
Talking to leaders of Russia and Pakistan, I reaffirmed Iran’s commitment to peace in the region. The only way to end this war—ignited by the Zionist regime & US—is recognizing Iran’s legitimate rights, payment of reparations, and firm int'l guarantees against future aggression.
آج کی ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس اور یحییٰ خان کی آخری پریس کانفرنس میں کوئی فرق نہیں تھا۔ جو نفرت کے بیج آپ نے تب بوئے تھے، آج بھی آپ اور آپ کا ادارہ وہیں کھڑے ہیں۔ حمودالرحمن کمیشن رپورٹ پڑھ لیں! اُس میں انہی armed forces کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔
استثنیٰ لینے کے وقت ہی سمجھ گیا تھا کہ آپ کا چیف اور ادارہ کس قدر ڈر چکا ہے، مگر اس قدر ڈرا ہوا ہوگا — اس کا اندازہ نہیں تھا۔
میں نے کئی سال پہلے لکھا تھا کہ فوج کے DNA میں یہ بات شامل ہے کہ جو ان کی جانب سے کیے گئے مظالم پر بولے، اسے غدار قرار دیتے ہیں، اور اس کا علاج صرف گولی سمجھتے ہیں۔ جبکہ سیاست دان ہمیشہ بات چیت کو ترجیح دیتا ہے، یہ ملک بھی اسی بات چیت کے عمل سے وجود میں آیا تھا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری صاحب، اب قوم آپ کی گولی سے نہیں ڈرتی۔
ایسے حکمران ہمارے اعمال کی وجہ سے ہم پر مسلط ہیں۔ قوم سے بھی درخواست ہے کہ توبہ و استغفار کی تسبیح پڑھے