*چار مناظر*
*منظر نمبر 1*
لاہور اسلام آباد موٹروے کو ٹریفک کے لیے چند مہینے پہلے ہی کھولا گیا تھا۔۔ میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ پشاور جا رہا تھا۔ ایک جگہ سڑک کے کنارے چار گاڑیاں کھڑی نظر آئیں۔ مجھے یاد ہے کہ ان میں ایک گاڑی مرسڈیز اور ایک پجیرو بھی تھی۔ حیرت ہوئی ، کیوں کہ موٹروے کے کنارے گاڑی کھڑی کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ سوچا کچھ ایمرجنسی ہو گئی ہوگی۔۔میں نے اپنی گاڑی کی رفتار کم کی کہ شاید کسی مدد کی ضرورت ہو۔
کیا دیکھتا ہوں کہ دس بارہ خواتین اور مرد ، بچے اور جوان ، موٹروے کی boundary fence کے ساتھ کینو کے ان درختوں سے کینو توڑ رہے ہیں جن کی کچھ شاخیں fence سے ، موٹروے کی طرف جھکی ہوئی تھیں۔ مجھے یقین ہے کہ وہ لوگ اتنے دولت مند ضرور تھے کہ پورا باغ خرید سکتے تھے۔
*منظر نمبر 2*
Phoenix, Arizona USA
یہ واقعہ پچھلے مہینے امریکہ سے آئے ہوئے میرے ایک دوست نے سنایا۔ اس کے گھر میں ایک وسیع backyard ہے ، جہاں اس نے مختلف قسم کے درخت لگائے ہوئے ہیں۔ ان میں بہت سے پھل دار بھی ہیں۔۔ سیب اور ناشپاتی وغیرہ ۔
واقعہ اسی کی زبانی :
ایک روز کسی نے bell بجائی۔ باہر نکل کر دیکھا تو ایک شخص دو تھیلے اٹھائے کھڑا ہے۔ اس نے بتایا کہ وہ میرے گھر کی پچھلی طرف والے گھر میں رہتا ہے ۔ اور تھیلے میری طرف بڑھاتے ہوئے بولا۔۔ تمہارے درختوں کے کچھ پھل میرے backyard میں گر جاتے ہیں ، یہ رکھ لو یہ تمہارے ہیں". میں نے انتہائی مشکور ہو کر کہا ، مجھے ان کی ضرورت نہیں ، تم ہی رکھ لو اور آئندہ بھی جو پھل تمہاری طرف گریں ، رکھ لیا کرو۔
اسے میرے گھر آنے کے لئے کافی لمبا چکر لگانا پڑا ہو گا۔
*منظر نمبر 3*
یہ واقعہ جی ٹی روڈ پر پیش آیا۔ میں اپنے ایک عزیز اور دوست (زاہد نعمانی) کے ساتھ اسلام آباد سے واپس لاہور آ رہا تھا۔ میں ڈرائیو کر رہا تھا۔ جہلم اور کھاریاں کے درمیان پہاڑی علاقہ ہے۔ دیکھا کہ دو بسوں میں ریس لگی ہوئی ہے۔ ہمارے دیکھتے دیکھتے ایک موڑ پر پچھلی بس نے آگے نکلنے کے لئے انتہائی خوفناک حرکت کی اور بس کھائی میں گرتے گرتے بچی ۔ یہ بس یقیناً مسافروں سے بھری ہو گی کیونکہ کچھ لوگ بس کی چھت پر بھی سوار تھے۔ ایک سٹاپ سے مسافروں کو بٹھانے کے لئے دونوں بسیں رکیں تو ہم ان ڈرائیوروں کو برا بھلا کہتے تیزی سے آگے نکل گئے۔ چند کلومیٹر آگے ، سڑک کے کنارے ، "ہائی وے پٹرول پولیس" کی گاڑی دیکھ کر میں نے اس کے پاس گاڑی روکی ۔ اس گاڑی میں ایک پولیس آفیسر ، کندھے پر "تین پھول" سجائے ، محوِ استراحت تھا۔ میں نے کھڑکی پر آہستہ سے دستک دی۔
اس نے شیشہ نیچے کیا اور پولیس کے مخصوص لہجے میں پوچھا "ہاں جی، کی گل اے".
میں نے بتایا کہ ۔۔ پیچھے مسافروں سے بھری دو بسیں ریس لگاتی ہوئی آرہی ہیں ۔ ایک حادثہ ہوتے ہوتے بچا ہے ۔ آپ ان کو چیک کریں ، کہیں کوئی بڑا حادثہ نہ ہو جائے۔
اب پولیس آفیسر کا جواب سنیں۔۔"کی ناں اے تہاڈا ، کتھوں آ رہے ہو ، کی کردے او ، کتھے رہندے او۔۔۔" میں شرافت سے جواب دیتا گیا۔۔ ابھی بات یہاں تک ہی پہنچی تھی کہ میرا دوست بھی میرے قریب پہنچ گیا۔ اس نے بھی ہماری گفتگو سن لی تھی۔
اس کی entry میرے لیئے بھی چونکا دینے والی تھی۔۔اس نے آتے ہی ، (پندرہ بیس ناقابل بیان گالیوں کے بعد) ۔۔۔ "توں اپنا ناں دس، پیٹی نمبر کی اے تیرا۔۔ تیرا ایس پی کون اے۔۔تھانا کہڑا اے تیرا ۔۔ توں سنیا نئیں ، اے تینوں کی دس ریا اے؟ توں اگیوں بکواس کر ریا ایں" ؟ وغیرہ۔
پولیس افسر گالیوں کی بوچھاڑ کے دوران ہی سیدھا ہو کر بیٹھ چکا تھا ۔۔اور سوالوں کے دوران گاڑی سے باہر بھی نکل آیا تھا۔۔
"جی سر ۔ جی سر ۔۔ ابھی چیک کرتے ہیں بسوں کو۔۔۔"
میرے دوست کو گاؤں کی سیاست کا تجربہ تھا اور پولیس میں بھی اس کے بہت سے بڑے افسران سے قریبی تعلقات تھے۔ وہ اس لہجے میں بات کر سکتا تھا ، میں ، ایک عام آدمی ، نہیں۔
*منظر نمبر 4*
Calgary, Canada
اپنی بیگم کے ساتھ کچھ شاپنگ کرنے نکلا۔ ایک ٹریفک لائٹ پر رکا ہوا تھا کہ سڑک کے کنارے بجلی کے کھمبے کی چوٹی پر کچھ حرکت محسوس ہوئی۔ ذرا غور سے دیکھا تو ہلکا ہلکا دھواں اٹھ رہا تھا۔ کینیڈا میں عام طور پر بجلی کے کھمبے لکڑی کے ہیں۔ درخت کے سیدھے اور لمبے تنے۔
یہ ایک کافی مصروف ، دو رویا سڑک ہے۔ ٹریفک لائٹ سبز ہوئی اور میں نے چلتے چلتے فون نکالا اور ایمرجنسی نمبر 911 ڈائل کیا اور اسے کھبے کی location بتائی اور ساری صورت حال بتائی اور یہ کہ اس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے ، اس سے پہلے کہ آگ بڑھے اور کسی بڑے حادثہ کا سبب بنے۔ ( it is a potential hazard)۔ اس نے میرا نام اور فون نمبر پوچھا اور اس اطلاع پر میرا شکریہ ادا کیا۔
تقریباً چالیس منٹ کے بعد ، واپسی پر ، دیکھا کہ پولیس اور ایمبولینس نے سڑک کی وہ سائڈ بند کی ہوئی ہے۔ کرین کے ذریعے مکینک اس کھمبے پر چڑھا اپنا کام کر رہا ہے۔
لبیک والے سانحہ مریدکے کو بآسانی ہضم کر گئے، اپنے لیڈر سعد رضوی اور انس رضوی کی بازیابی کیلئے منافق سڑکوں پہ نکلے نہ زبان کھولی
اسرائیل امریکہ معاہدے پر احتجاج کرنے نہ نکلے مگر جیو نیوز کے خلاف لبیک کا سمندر سڑکوں پہ امڈ آیا۔
یہ کل بھی چابی والے کھلونے تھے
یہ آج بھی کھلونے ہیں
کمسن ہانیہ کی قبر پر سی سی ڈی کے پھول، ہانیہ قبر سے بھی کہتی ہوگی انکل یہ کلاشنکوف تو دوسری طرف موڑ لیں ۔۔۔
سی سی ڈی پنجاب کے سربراہ سہیل ظفر چٹھہ کی ڈھڈیال میں انجینئر عدیل احمد کے گھر آمد، لواحقین سے بچی ہانیہ عدیل کے انتقال پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا، ہانیہ کی قبر پر فاتحہ خوانی کی اور پھولوں کی چادر چڑھائی۔
اس دوران سی سی ڈی اہلکار کلاشنکوفیں لے کر قبر کے اوپر کھڑے رہے ۔۔۔
"کل کلاں کو اگر حالات پھر گئے اور اعظم نذیر تارڑ کو سپریم کورٹ انصاف لینے جانا پڑ گیا اور وہاں کوئی اہلکار قطبہ لےکر کھڑا ہوا جس پر لکھاہو
لگا کے آگ شجر کو خود اپنے ہاتھوں سے
عجیب شخص ہے سایہ تلاش کرتا ہے !!"
اعظم نذیر تارڑ مسکراتے رہے
ڈی آئی جی پنجاب پولیس احمد جمال الرحمان دنیا چھوڑگیا
سب نے ہی چلے جانا ہے نجانےہم بھول کیوں جاتے ہیں
@OfficialDPRPP
یاللہ اس کے آخری سفر کو اتنا ہی مشکل بناناجتنی اس نے پاکستانیوں کی زندگی مشکل بنائی تھی
یااللہ اس کے ساتھ ویسا ہی انصاف کرنا جیسا یہ پاکستانی عوام کےساتھ کرتا تھا
ایک تپسوی مہاراج فلم P K میں دیکھا تھا
اور
ایسے چھوٹے بڑے نےشمار تپسوی پاکستان میں موجود ہیں
جن کا دین ایمان ہی مذہب کو بطور ہتھیار استعمال کرنا ہے
۔۔
کافروں سے بدتر ہیں ایسے زہریلے ملا
عمارت کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا دینی اقدار کے ساتھ کھلواڑ ہے مگر عدت جیسا گھٹیا کیس بنانا عین شرعی تھا
سچ کیا بولے کا میرے دور کا مُلا
جو فتویٰ بیچ کر اپنا پیٹ بھرتا ہے
سنائیں منصور صاحب!
لوگ اب آپکو بھگوڑا جج کہہ رہے ہیں۔ جو گھر کا رہا نہ گھاٹ کا۔۔
سنائیں کیسا لگ رہا ہے؟
آپ نے گزشتہ پانچ سال میں ان گنت خدمات دیں، آئین شکنی میں ہر ممکن مدد کی، اس عفریت کو جوان کیا۔ اور یہ آخر میں آپکو ہی کھا گیا۔ کیسا لگ رہا ہے اب؟
اس ملک کو اس شخص کی اہ لگ اور پھر کبھی یہ ملک دوبارہ پٹری پر نہی ایا ۔۔۔
اس ذہنی معذور شخص کو اے ٹی ایم مشین توڑنے پر رحیم یار خان کی پولیس نے تششدد کر کے مار ڈالا تھا ۔۔
جب پوسٹ مارٹم رپورٹ ای تو جسم کی کوی ہڈی سلامت نہ تھی ۔۔
وزیراعلی خیبر پختون خوا کا الیکشن آج ہو گا، 4 امیدوار ہیں
لطف الرحمان (بھائی فضل الرحمان)
شاہجہاں یوسف (بیٹا سردار یوسف، ن لیگ)
ارباب زرک (بیٹا عاصمہ ارباب عالمگیر، پی پی)
سہیل آفریدی (سابق صدر اسٹوڈنٹ فیڈریشن)
باقی کا حساب خود لگا لیں، عوامی جماعت کون ہے ؟؟؟
پیپلز پارٹی کا مینڈیٹ
این اے 148 سے یوسف رضا گیلانی 104 ووٹوں سے جیتے (فارم 47)۔ لیکن پولنگ اسٹیشن نمبر 31 پر تیمور ملک کے ووٹ 767 سے کم کر کے 67 کر دیے گئے۔ ایک پولنگ اسٹیشن پر تو 700 میں سے 404 ووٹ مسترد کیے گئے، یہ پیپلز پارٹی کا جنوبی پنجاب کا مینڈیٹ ہے
تھوڑی سی مشقت اور بڑی بچت !!
گزشتہ کل میں گاڑی کی مینٹیننس کروانے آبپارہ مارکیٹ میں موجود Toyota موٹرز کے آفیشل ورکشاپ پر گیا ، ٹیوننگ اور آئل چینج کروانے کے بعد میں نے سوچا کہ معتبر ورکشاپ ہے لہذا گاڑی کا تھوڑا سا مکینیکل کام ہے وہ بھی کروا ہی لیتا ہوں۔
کچھ دنوں سے میری گاڑی کی فرنٹ سے کھردری روڈ اور جمپس پر چلاتے وقت کھڑکھڑاہٹ کی ہلکی سی آواز ارہی تھی، جب میں نے وہاں پر موجود بندے کو بتایا کہ گاڑی میں یہ چھوٹا سا مسئلہ ہے آپ دیکھیں اور مجھے بتائیں کہ اس میں کیا کرنا ہے، کاؤنٹر پر موجود ایک صاحب نے ایک بندے کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ یہ ہمارے بڑے استاد یعنی مہا گرو ہیں آپ ان کو اپنے ساتھ لے جائیں اور یہ گاڑی چلا کر چیک کریں گے اور مسئلے کو سمجھ کر اس کا علاج تشخیص فرمائیں گے۔
مہا گرو کو میں نے ڈرائیونگ سیٹ پر بٹھایا اور خود ساتھ بیٹھ کر وہاں سے نکل گئے، گرو نے گاڑی کو آبپارہ مارکیٹ سے میلوڈی فوڈ پارک کی جانب گھمای اور کھڑکھڑاہٹ سماعت فرمانے کے بعد ارشاد کرنے لگے کہ سر آپ کی گاڑی کی زیڈلنگ اور شاکس خراب ہو چکے ہیں، یہ آپ کو تبدیل کروانے پڑیں گے، واپس ورکشاپ پہنچ کر مہا گرو نے جب یہ مسئلہ کاؤنٹر پر بیٹھے شخص کو بتایا تو پھر اس نے مجھے کہا سر کیا آپ اپنی گاڑی کا کام کروانا چاہیں گے؟ میں نے سوچا لگے ہاتھوں یہ کام بھی کروا لیتا ہوں تاکہ وقت کا ضیاع نہ ہو لہذا میں نے ہامی بھری اور ان سے اخراجات پوچھے۔
ٹویوٹا کی برینڈنگ سے مزین لباس میں ملبوس کاؤنٹر پر بیٹھے صاحب نے کچھ دیر اپنے سامنے رکھے ہوئے کمپیوٹر پر تھوڑی دیر کِھٹ پِھٹ کی اور چند لمحے رکنے کے بعد گویا ہوئے سر آپ کی گاڑی چونکہ امپورٹڈ ہے اس لیے اس کے پارٹس یہاں دستیاب نہیں دبئی سے امپورٹ کروانے پڑیں گے، تمام ڈیوٹیز اور ٹیکسز ملا کر زیڈ لنک اپ کو 66 ہزار جبکہ شوکس 70 سے 80 ہزار روپے میں جینون مل جائیں گے، لیکن آپ کو 25/20 دن انتظار کرنا پڑے گا۔
مہا گرو اور کاؤنٹر والے اس صاحب کی یہ گفتگو سن کر یقین کریں چند لمحوں کے لیے میرے تن بدن میں تھر تھراہٹ، سرسراہٹ، کپ کپاہٹ اور جنجناہٹ سب کچھ ہونے لگا۔😂
میں نے ان سے کہا کہ چلیں فی الحال گاڑی کی ٹیوننگ اور آئل چینج ہو چکا ہے اور اسلام آباد کی سڑکیں ویسے بھی ہموار ہیں تو جب تک جیب اجازت نہیں دیتی تب تک احتیاط سے گاڑی چلا کر گزارا کر لوں گا اور انہیں الوداع کہہ کر بوجھل دل کے ساتھ گھر کی جانب چل دیا، ان کے سامنے تو یہ کہہ کر نکل آیا لیکن دل انتہائی اداس ہوا اور پریشانی لاحق ہو گئی کہ میں نے ڈرائیونگ میں ایسی کون سی غلطی کر دی کہ یک مشت کم و بیش ڈیڑھ لاکھ روپے کی پھکی لگنے والی ہے۔
سچ کہوں تو ان کی باتوں اور تجویز سے ساری رات بھی پریشانی میں گزری لیکن ساتھ ساتھ دل میں ایک شک سا بھی پیدا ہو رہا تھا کہ کہیں یہ مجھے جھوٹ بول کر لوٹنے کی کوشش تو نہیں کر رہے لہذا میں نے صبح فیس بک پر پوسٹ لگائی کہ اسلام آباد میں جاپانی گاڑیوں کا عمدہ کام کس ورکشاپ پر ہوگا؟
میری اس پوسٹ پر ہمارے ایک عزیز نے طنز بھی فرمایا کہ گاڑیوں کا کام فیس بک پر نہیں ورکشاپ پر ہوتا ہے 🙃
خیر اسی پوسٹ کی برکت سے بہت سے دوستوں نے مختلف ورکشاپ کے متعلق رہنمائی فرمائی اور چند احباب نے ان باکس اور واٹس ایپ پر تجویز دی بالاخر سب سے زیادہ جس مقام (سلطان دا کھو ، راولپنڈی) کی تجویز ملی میں نے اسی کا انتخاب کیا اور بسم اللہ پڑھ کر 10 بجے راولپنڈی کی جانب چل دیا۔
سلطان دا کھو پہنچ کر "نوشاد آٹوز" نامی ورکشاپ پر گاڑی لگائی اور انہیں صرف اتنا کہا کہ بھائی گاڑی کی فرنٹ سے کھردری روڈ پر چلاتے وقت ہلکی سی آواز آتی ہے پلیز آپ چیک کریں اور دیکھیں کیا مسئلہ ہے۔
نوجوان سا لڑکا تھا اس نے جیک لگا کر گاڑی اٹھائی اور دیکھنے کے بعد بولا کہ بھائی اس کے بش کمزور ہو گئے ہیں تبدیل کرنے پڑیں گے۔ چونکہ پہلے بھی اس کے ایک بش کا مسئلہ ہوا تھا تو مجھے بھی اس لڑکے کی بات پر یقین ہوا اور کہا آپ تبدیل کر دیں۔ لڑکے نے بُشِز تبدیل کیے اور پھر ٹیسٹ ڈرائیو لی تو گاڑی کی آواز مکمل ختم ہو چکی تھی۔
1300 روپے بشز کی قیمت اور 800 روپے مزدوری یعنی ٹوٹل خرچہ 2100 روپے اور گاڑی کا کام ہو گیا۔
اس پوسٹ کا مقصد یہی ہے کہ عموما چمک دمک والی جگہوں پر لوگ عملی کام کے بجائے اپنے برینڈ کے نام کا غلط فایدہ اٹھا کر لوگوں کو لوٹتے ہیں اگر ہم تھوڑی سی مشقت کریں تو بڑی بچت کر سکتے ہیں۔
لُٹ جانے سے بچنے والا پاکستانی
کمیل احمد معاویہ
.@AsiaSociety announced the Class of 2025 Asia 21 Next Generation Fellows, 30 exceptional leaders dedicated to driving transformative change in their communities, regions & the world for the greater good. Shehrbano from Pakistan’s contribution: