میں ابھی پمز سے واپس آئی ہوں، وہاں جو صورتحال دیکھی اور کچھ متاثرہ خاندانوں سے بات چیت کی، تو میں آپ سب کو بتانا چاہتی ہوں، کہ یہ ہوئی قدرتی حادثہ نہیں بلکہ کریمنل نیگلیجینس تھی، وہاں سیفٹی کے انتظامات ہی موجود نہیں تھے، مہر بخاری
عمران خان کے بیٹوں نے تاریخی انٹرویو دیا ہے!!
آج تک تاریخ میں ایسا نہیں ہؤا, کہ lord's جیسے گراؤنڈ پر ٹیسٹ میچ جاری ہو, اور چائے کے وقفے میں, عمران خان کے لیے عمران خان کے بیٹوں کی انٹرویو Sky Sports پر نشر کی جارہی ہو!!
پوری دنیا عمران خان کے لیے آواز اٹھا رہے, سوائے پاکستانی کھلاڑیوں کے, آخر ایک انسان کی صحت کا سوال ہے, تم سب اتنے مردہ ضمیر لوگ ہو!!
جب میری بچی کی چیخیں نکل رہی تھی
اس نے میری بچی کے منہ میں پلاسٹک کی بوتل گھسائی تھی۔۔۔
جس طرح اس نے پلان کر کے سب کیا ہے
پاگل ایسے نہیں کرتے
ہم نے کس چیز کی آزادی منائی ہے؟
ڈیڑھ سال کی بچی یہاں محفوظ نہیں
کس چیز کی آزادی منائی ہے؟
اگر کسی ایک بھی درندے کو سب کے سامنے سزا دی جاتی
تو میری بچی آج زندہ ہوتی۔۔۔
ایزل کی والدہ کی گفتگو۔۔۔
کتنے بچے ہلاک ہوئے۔ مائوں کو جھلسے ہوئے گوشت کے لوتھڑے پکڑا کر ٹرخا دیا گیا۔ کافی روتی رہیں کہ انہیں کیا پتہ کہ یہ وہ بچہ ہے جس کو انہوں نے نو ماہ پیٹ میں سینچا تھا۔ کیا ڈی این اے، پوسٹ مارٹم ہوا۔ کوئ گنتی حساب۔ ایم این اے شازیہ سومرو کہتی ہیں بچے تین گنا زیادہ بھی ہو سکتے ہیں۔ بچے ہیں یا گاجر مولی۔ کوئ حساب نہی۔ کون کرے گا انکوائری۔ جن کی اپنے انکوائریاں ہوتی رہیں۔
پمز ہسپتال میں اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر اپنی بھابھی بتیجھے تین عورتوں اور ایک نومولود بچے کی زندگی بچانی والی راولپنڈی کی پندرہ سالہ منیبہ جب سب لوگ عملے سمیت بھاگ رہے تھے تب منیبہ نے اندر جاکر اپنی بھابھی بتیجھے اور تین عورتیں اور آخری لمحے میں جب سب کچھ ناممکن تھا ہرطرف دھواں تھا نومولود بچے کو اٹھا کر صیح سلامت باہر لے آئی۔
یہ ہے قومی ہیرو تمغہ ہلال امتیاز سے ایسے ہیروز کو نوازنا چاہئیے ناچنے والوں کو نہیں
وہ کہنا چاہتے ہیں کہ چالیس سالہ سیاست کے بعد میاں صاحب اتنے مسوم تھے کہ انھیں بہلا پھسلا کے غلطی سے ان سے عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کروا لی گئی اور پھر دھوکے سے انھیں آٹھ فروری کو حکومت پکڑا دی گئی۔ وہ اتنے مسوم ہیں کہ انھیں کچھ پتہ نہیں چلتا اور وہ استعمال ہو جاتے ہیں۔
مصطفی کمال کو فلم تھیٹر کی وزارت دے دیں خدارا۔ کس کو استعفع دیا۔ لکھا ہوا یا زبانی۔ جیسا بھی ہے پلیز قبول کر لیں۔ اس سیاسی نانا پاٹیکر کو ایسی وزارت دیں جس میں یہ ولن کے رول میں لواحقین پر چنگھاڑتا رہے۔ شائد اسی بنا پر یہ مئیر کراچی بنایا گیا تھا۔ بھائ کے آگے تو بھیگی بلی بن جاتا تھا۔ ہاے اللہ بھائ۔ معاف کو دو بھائ۔ اور غریب مظلوموں پر جن کے بچے جھلس گئے ہوں یہ ایسے چیختا ہے جیسے کوئ زہنی مریض ہو۔ اس کا استعفع قبول کریں خدارا۔ کوئ نیک کام بھی کر لیں قبلہ شہباز شریف صاب۔ اس شخص میں کوئ رحم نہی ہے۔ اس کا رویہ محلے کے سیکٹر کمانڈر کے نیچے کام کرنے والے لونڈے لپاڑوں والا ہے۔ اس کو کون تمیز سکھائے گا کہ کیسے بات کی جاتی ہے جن کے بچے جھلس جائیں۔
یہ اک زہنی مریض کی نشانی ہے۔ جو الطاف بھائ کے آگے بھیگی بلی بن کر ایڑیاں بھی رگڑ لیتا تھا۔ ایسے ہی مئیر کراچی بن گیا۔ مگر نیچے والوں پر غنڈوں کی طرح رعب ڈالتا تھا۔ غنڈہ بھی دو نمبر۔ اوپر والے کے آگے بھکاری کی طرح لیٹنا اور نیچے والے پر پھنکارنا۔
انگریزی پڑھائیں یا اردو۔۔ مسئلہ یہ نہیں۔ ان کو بس ان کی اوقات میں لے کر آئیں۔ ان کی مراعاتیں ، ہوٹر شوٹر بند کریں۔ سریا نکالیں ان کی گردن سے۔۔ ان کو نوکری کی تمیز سکھائیں۔۔ ان کے دماغ ٹھکانے پر لانے ضروری ہیں۔۔ افسری نکالیں ان کے اندر سے۔۔ پھر کام کرے گی بیوروکریسی!
بیرسٹر عقیل ملک پھنس گیا مالک صاحب کا انتہائی اہم نقطہ ،
قانون میں کہاں لکھا ہے کہ کسی مریض کو پرائیویٹ ہسپتال نہیں لے جایا جا سکتا ؟ عقیل ملک نے رول نمبر 197 کا حوالہ دیا جس میں لکھا ہے کہ اگر مریض سرکاری ہسپتال جائے گا تو خرچہ سرکار کا ہو گا مالک صاحب نے پوچھا کہ آپ مانتے ہیں قانون نے مانع نہیں کیا تو عقیل ملک نے مان لیا کہ مانع نہیں ہے ۔۔
ہم ڈرا دئیے گئے ہیں اور میں بھی ڈر گیا ہوں کیونکہ ایک زمانے میں بات ہم تک ہوتی تھی لیکن بات جب گھروں تک پہنچ جاتی ہے تو مشکل ہوجاتا ہے اور قلم کی بے حرمتی کردی گئی،خلیل الرحمان قمر
عمران احمد خان نیازی کو میں دہائیوں سے جانتا ہوں۔۔۔وہ ذہین ترین لیڈر ہے۔۔ خان کے بیٹوں سے بات ہوئی ہے۔۔ہم 2 دن بعد پارلمینٹ میں آواز اٹھائیں گے
“خان کو رہا کرو”
برطانیہ کے جیرمی کوربن
پانچ سالہ آیت نور کی کہانی شاہزیب خانزادہ کی زبانی
آیت نور کے والد نے بتایا ان کے ہاں دس سال بعد اولاد ہوئی تھی اور جب بیٹی کے لئے کھلونے لیکر گھر گیا تو پتہ چلا وہ گھر ہی نہیں ہے 15 دن بعد ہری پور کے اسپتال میں مجھے بیٹی کی شناخت کے لئے بلا لیا گیا
نوٹ ۔ اس بچی کے لیے کسی راتب خور سھیل کے ٹاوٹس نے ایک دن بھی آواز نہیں اُٹھائی تھی
ہماری بیٹی زینب اور بیٹی آیت نور کے دو مختلف کیس
اور ان کا موازنہ
زینب 5 جنوری 2018 کو لاپتہ ہوئی اور اس کی لاش 9 جنوری کو ملی۔
پولیس نے ملزم عمران علی کو 22 جنوری کی رات گرفتار کیا۔ یعنی لاش ملنے کے تقریباً 13 دن بعد اور گمشدگی کے تقریباً 17 دن بعد۔
وزیراعلیٰ شہباز شریف نے 23 جنوری کو گرفتاری کا باضابطہ اعلان کیا اور کہا کہ یہ تقریباً 14 روز کی کوشش کے بعد ممکن ہوئی۔
DNA کے حوالے سے 1,150 افراد کے نمونے پروفائل کیے گئے۔ عمران علی ان میں 814واں شخص تھا جس کا نمونہ ٹیسٹ کے لیے بھیجا گیا۔
مختلف مراحل میں تعداد مختلف رپورٹ ہوئی: کیس کے دوران پہلے 600، پھر 800 کے قریب نمونوں کی خبریں آئیں، جبکہ گرفتاری کے وقت مکمل تعداد 1,150 DNA profiles بتائی گئی۔
وزیراعلیٰ فوراً قصور پہنچے تھے؟
جی، وہ زینب کی لاش ملنے کے اگلے روز، 10 جنوری کو قصور میں اس کے گھر پہنچے، اہلِ خانہ سے ملاقات کی اور تحقیقات کی نگرانی کا وعدہ کیا۔
بعد میں شہباز شریف نے بتایا کہ DNA میچ سامنے آنے کے بعد انہوں نے اگلی صبح لیبارٹری جا کر دوبارہ DNA ٹیسٹ اپنی موجودگی میں کروایا، جسے 100 فیصد میچ قرار دیا گیا۔
مختصراً: زینب کیس میں پولیس کو تقریباً دو ہفتے لگے، 1,150 افراد کے DNA profiles بنائے گئے، اور وزیراعلیٰ اگلے ہی دن قصور پہنچ گئے تھے۔
17 اکتوبر 2018 کو زینب کے والد کے سامنے اس کے مجرم کو کوٹ لکھپت جیل میں پھانسی دے دی گئ
جبکہ
آیت نور ۴.۵ سال کی ہری ہور کی بیٹی
کوئ وارث نھیں
وزیراعلیٰ مصروف
صوبائ حکومت مصروف
صوبائ کابینہ مصروف
حلقہ کے ضلع میں موجود دو وزیر اور ایک ممبر صوبائ اسمبلی مصروف
کسی نے جنازہ تک میں شرکت کرنا گوارہ نھیں کیا.
@ShafiJanPTI@meherbokhari@DunyaNews@adiltanoli99@PTIofficial@pmln_org@CMShehbaz
ہری پور کی آیت نور کے مبینہ ریپ اور قتل کے بعد اب ایبٹ آباد کی پانچ سالہ منت نور کے ساتھ بھی مبینہ زیادتی کی خبر نے ہر حساس دل کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
آیت نور ہو یا منت نور، ہر معصوم بچے کے تحفظ کی ذمہ داری ریاست، اداروں، سکول انتظامیہ اور پورے معاشرے پر عائد ہوتی ہے۔
معصوم بچوں کی خاموش چیخوں کو نظرانداز نہ کریں۔ بچوں کو تحفظ چاہیے، خاموشی نہیں؛ انصاف چاہیے، صرف وعدے نہیں۔
رمیز راجا ،وسیم اکرم وغیرہ کے انٹرویو سن لیں یا عمران خان کے مخالفین کے انٹریو سن لیں جو کرکٹ کھیلتے ہیں وہ سب اس بات کےقائل ہیں کہ عمران خان کمپرومائز نہیں کرتا بلکہ آخری گیند تک لڑتا ہے ۔ خان کے اندر وہ will power ہے جو کسی اور کے اندر نہیں
بیرسٹر سعد رسول کی گفتگو 🔥
کیا پیپلزپارٹی والوں کو صرف اسلام آباد کے 14 بچوں کا غم ہے، یہ ڈرامے نہ کریں، جہاں آپ کی حکمرانی ہے وہاں روزانہ بچے مر رہے ہیں، سندھ میں ہر ماہ چار ہزار بچہ مر رہا ہے یہ وہ بچے ہیں جنھیں بچایا جاسکتا ، لیکن خوراک کی کمی کی وجہ سے مر رہے ہیں۔ وزیر صحت مصطفی کمال صاحب کی گفتگو۔