مجھے میرے ماں باپ سے ملائیں۔۔!!
اس خاتون نے اپنی داستان سنائی تو سن کر کانپ گیا۔
کہتی ہے: میری عمر چار سے پانچ سال تھی،میرے والد کا ایک بہت ہی عزیز دوست جسکا نام *** تھا ۔اسکا ہمارے گھر آنا جانا بھی لگارہتا تھا۔
والد کے دوست نے ایک دن مجھے کہا چلو تمہیں جھولا جھلاتا ہوں۔میں خوشی خوشی ساتھ روانہ ہوگئی۔
وہ مجھے ٹرک میں بٹھاکر دور کہیں اپنے ایک رشتےدار کے ہاں لے گیا اور مجھے کہا یہ تمہارے ماں باپ ہیں۔
جیسے جیسے میرے والدین شاید ڈھونڈتے ڈھونڈتے قریب پہنچتے وہ شخص کسی دوسرے رشتے دار کے پاس منتقل کردیتا۔ میں تقریبا 8 سال انکی قید میں رہی چار سے پانچ جگہے تبدیل کئے انہوں نے۔
پھر آخری بار جس گھر میں تھی اس گھر میں ایک بزرگ موجود تھا۔ایک دن گھر میں کوئی نہیں تھا۔ بزرگ نے مجھے کہا بیٹا یہاں سے نکل کر تم بھاگ جاو۔ جہاں بھی جاوگی اللہ تمہارا بھلا کرےگا لیکن یہاں سے کسی صورت خود کو نکال دو۔
میں نکل کر ایسے بھاگی کہ پیچھے دیکھا ہی نہیں جاتی رہی جاتی رہی۔
کسی علاقے میں پہنچ کر ایک فیملی کے ہاتھ لگی۔ انہوں نے مجھ رکھ لیا۔ میں 13 سال کی ہوچکی تھی۔ 13 سال کی عمر میں میری شادی کرلی گئی۔
سال 2001 میں میری شادی ہوئی تھی۔8 سال قید اور چھبیس سال شادی کے ہوئے۔34 سال قبل کا واقعہ ہے یہ۔
میری دھندلی یادوں کے مطابق میرا نام گھر میں عندل حفیظ تھا والد کا نام انور تھا اور والدہ کا نام سکینہ تھا۔ اور ہمارے ایک ماموں کا نام نواز ڈوگر تھا۔
ہمارا گھر گاوں میں تھا۔کھیتوں کے درمیان گھر بنا ہوا تھا۔گھر کے باہر کنواں تھا۔قریب میں امرود کا درخت تھا۔اور ایک دربار بھی تھا۔
میں ابھی پانچ بچوں کی ماں ہوں لیکن میرے ماں باپ کی یاد آج تک مجھے چین سے جینے نہیں دے رہی۔
خدا کے لئے مجھے اپنوں سے ملائیں
تمام دوست انسانی فریضہ سمجھ کر اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
31 july 2026
#waliullahmaroof
یہ نوجوان لاہور کا محمد صائم ہے،تین بچوں کا باپ ہے، آج زندگی اور موت کی کشمکش میں ریاض کے جگر ٹرانسپلانٹ سینٹر میں بے یارومددگار پڑاہے ۔ڈاکٹرز کے مطابق اس کی زندگی بچانے کا واحد طریقہ جگر کا ٹرانسپلانٹ ہے ۔سعودی عرب کے ڈاکٹرز نے مشورہ دیا ہے کہ اسے ائیر ایمبولینس کے ذریعے فورا پاکستان لے جائیں جہاں اس کی فیملی اسے جگر کا عطیہ کرے تو اس کی جان بچ سکتی ہے
حکومت سے درخواست ہے کہ اپنے شہری کی جان بچانے کے لیے فوری طور پر اپنا کردار ادا کرے اور صائم کو سعودی عرب سے PKLI لاہور منتقل کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے۔ ممکن ہے کہ تین معصوم بچوں کو ان کا باپ لوٹایا جا سکے
03044352009
ایک ایک لفظ سننے سے تعلق رکھتا ہے جو سچ ہم سب اپریل میں بول رہے تھے وہ سچ سلیم صافی بتا رہے ہیں
پاکستان کے میڈیا نے جتنا سپورٹ ایران کو کیا اُتنا ایران کے میڈیا نے ایران کو نہیں کیا تھا
باب المندب پر مشاہد حسین سید جیسوں کا مکارانہ تجزیہ واڑ کے رکھ دیا
جتنی سپورٹ پاکستان نے ایران کی کر دی اس کے بدلے پاکستان کے مفادات کو ہی نقصان پہنچانا شروع کر دیا قطر جو ثالث تھا اُسی کے جہاز پر حملہ کر دیا
بہاولپور، ڈی جی خان، رحیم یار خان اور خوشاب کی مائیں بہنیں بزرگ اب پینے کے صاف پانی کے لیے تپتی دھوپ میں سروں پر گھڑے اٹھائے کٹھن راستوں پر نہیں بھٹکیں گے۔ 5 ماہ کے مختصر ترین وقت میں صاف پانی کی فراہمی ممکن بنا دی گئی ہے۔ چار واٹر بوٹلنگ پلانٹس کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے۔ روزانہ ۱ لاکھ ساٹھ ہزار لیٹر صاف پانی ان دور دراز پسماندہ بستیوں کے ہر گھر کی دہلیز پر بالکل مفت پہنچایا جائے گا۔ یہ منصوبہ صرف پانی کی فراہمی نہیں بلکہ جنوبی پنجاب کے عوام کی عزت، سکون اور صحت کی ضمانت ہے۔ الحَمدللہ پیاس کا یہ طویل اور تکلیف دہ سفر اب ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ہے۔
کیا کہیں آپ کی نظر محمد عارف پر تو نہیں پڑی؟
ایک ماں کی آنکھیں آج بھی اپنے بیٹے کی راہ تک رہی ہیں…
یہ بچہ محمد عارف ہے، والد کا نام جلال خان ہے۔ عارف اپنے والدین کی آنکھوں کا تارا، گھر کی رونق اور سب کا لاڈلا تھا۔
27 مئی 2021 کو کراچی کے علاقے مشرف کالونی میں واقع اپنے زیرِ تعمیر گھر کے مزدوروں کو چائے دینے گیا۔ چائے دے کر خالی برتن گھر واپس رکھے اور ہمیشہ کی طرح کھیلنے کے لیے باہر نکل گیا۔
کسی نے نہیں سوچا تھا کہ یہ چند لمحوں کی جدائی برسوں کے انتظار میں بدل جائے گی…
وہ ننھا سا بچہ آج تک واپس گھر نہیں آیا۔
گمشدگی کے وقت محمد عارف کی عمر تقریباً 10 سال تھی۔ اب وقت گزر چکا ہے، مگر اس کے والدین کے لیے گھڑی جیسے وہیں رک گئی ہے جہاں ان کا بیٹا ان سے بچھڑا تھا۔
آج بھی اس کی ماں دروازے کی ہر آہٹ پر چونک اٹھتی ہے۔ ہر دستک پر دل دھڑکنے لگتا ہے کہ شاید میرا عارف آگیا ہو۔ کئی مرتبہ وہ گھر کا دروازہ کھلا چھوڑ دیتی ہے، صرف اس امید پر کہ اگر میرا بیٹا واپس آئے تو بند دروازہ دیکھ کر کہیں مایوس ہو کر واپس نہ چلا جائے۔
پانچ سال ہونے کو ہیں، مگر نہ ماں کی دعائیں ختم ہوئی ہیں، نہ باپ کی تلاش، نہ بہن بھائیوں کی امیدیں۔
خدارا! اس پوسٹ کو صرف پڑھ کر آگے نہ بڑھ جائیں۔
ممکن ہے آپ کا صرف ایک شیئر کسی ایسے شخص تک پہنچ جائے جو محمد عارف کو پہچانتا ہو۔ شاید یہی ایک شیئر ایک اجڑے ہوئے گھر میں دوبارہ خوشیاں لے آئے، ایک ماں کی دعائیں قبول ہو جائیں اور ایک باپ کا برسوں کا انتظار ختم ہو جائے۔
براہِ کرم اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔
کسی بھی اطلاع کے لیے صرف واٹس ایپ کریں:
+92 316 2529829
15 July 2026
#WaliullahMaroof #MissingChild #FindMuhammadArif #Karachi #BringArifHome
میں ایک اوورسیز پاکستانی ہوں
امریکہ میں رہتا ہوں، کماتا ہوں، ٹیکس دیتا ہوں
امریکی پاسپورٹ رکھتا ہوں، ووٹ بھی امریکی الیکشن میں دیتا ہوں
مجھے امریکہ میں بیٹھ کر پاکستانی الیکشن میں ووٹ دینے کا حق نہیں ہونا چاہئے
اگر مجھے ووٹ دینا ہے تو پاکستان جاکر عام لوگوں کی طرح ووٹ دینا چاہئے
گستاخ_آزاد_مگرکیوں؟؟؟؟
اللہ تعالی کی ذات کی بدترین توہین
خلیفہ بلافصل سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
خلیفہ ثانی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ
اور
اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی بدترین گستاخی کرنے والی کراچی بحریہ_ٹاؤن کی بدنام زمانہ ٹک ٹاکر ایمن شمس کو فوری گرفتار کیا جائے
👈کیا آپ بھی اس گستاخ کی گرفتاری چاہتے ہیں؟؟
🚨 30+ men raped a 13 year old in Rajasthan
12-14 arrested?? 32 accused in police FIR, where are others?
Its a syndicate
Why not encounter or fasi ki saza dhosi ko jldi se jldi? #pocso#rajasthan#justiceforher
رہائش تبدیل کی تو مسجد بھی تبدیل ہو گئی۔ نئے امام صاحب کی امامت میں نماز پڑھی تو سجدہ بہت طویل لگا رکوع اور ہر سجدے میں آسانی سے کوئی اکیس مرتبہ سے زائد تسبیح ہونے لگی اور اسی طرح جماعت کا دورانیہ بھی تکبیر تحریمہ سے سلام پھیرنے تک جو پچھلی جگہ سات آٹھ منٹ تھا وہ تیرہ چودہ منٹ پر پہنچ گیا۔ شروع شروع میں بہت تنگی لگی مگر پھر یوں ہوا کہ کچھ روز سے امام صاحب اسی سجدے کو گیارہ، تیرہ مرتبہ کی تسبیح پر لے آئے اور جماعت کوئی دس منٹ میں ختم کرنے لگے ( غالبا کچھ لوگوں نے کہا ہو گا ) تو پھر دوبارہ عجیب لگا۔ یوں لگا کہ وہ اچھی خاصی تسبیح ہو جاتی تھی اور سکون ڈاٹ کام، وہ ختم ہو گئے۔
میں نے اندازہ لگایا کہ عادت بڑی چیز ہے۔ انسان جس بھی شے کا عادی ہو جائے اس سے ہٹنا اسے عجیب لگتا ہے اور خاص طور پر نماز، آپ پڑھنے کے عادی ہیں، نہیں پڑھیں گے تو عجیب لگے گا، بے چینی سی رہے گی مگر پھر ایک اور پڑھی ہوئی بات یاد آ گئی کہ نماز کو بھی عادت کے طور پر نہیں پڑھنا چاہیئے کیونکہ اگر آپ عادت بنا لیں گے تو اس کا وہ ذوق شوق، خشوع خضوع نہیں رہے گا مگر دوسری طرف اگر عادت نہیں ہو گی تو آپ نماز چھوڑتے رہیں گے، دل پر کوئی بوجھ بھی نہیں ہو گا۔
یہی معاملہ باقی جگہوں پر بھی ہے۔ آپ ٹریفک سگنل پر عمل کرنے کے عادی ہیں تو اس کی خلاف ورزی آپ کو عجیب لگے گی۔ آپ کسی مہذب اور شریف گھر سے ہیں تو گفتگو میں گالی آپ کو عجیب لگے گی۔ آپ روزانہ نہانے یا ورزش کے عادی ہیں تو کسی روز نہ نہانا، ایکسرسائز نہ کرنا آپکو عجیب لگے گا۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ بچوں میں اچھی عادتیں ڈالیں۔ اچھے سکولوں کے بچے اسی لئے اچھے لگتے ہیں کیونکہ ان کی تربیت، ان کی عادات پر کام کیا جاتا ہے، یہی دہرائی جانے والی عادات آپ کی فطرت بن جاتی ہیں۔
میں نے ہمیشہ تجویز کیا ہے کہ پرائمری اور مڈل تک بنیادی حساب، سائنس، انگریزی، مطالعہ پاکستان ضرور پڑھائیں مگر فوکس اخلاقیات پر رکھیں، عادات کی بہتری پر رکھیں کیونکہ میں قائل ہوں کہ اس وقت تک کوئی صحافی، وکیل، تاجر، جج، جرنیل، بیوروکریٹ اور سیاستدان اچھا نہیں ہو سکتا جب تک وہ ایک اچھا انسان نہ ہو۔ یہ بنیاد ہے، یہ اصل ہے باقی سب اس کے اوپر ملمع کاری ہے۔
نجم ولی خان
یہ محترمہ ایک مشہور ٹی وی اینکر کی سالی ہے۔ یہ سالی لاہور میں مختلف جگہوں پر کھڑے ہو کر پاکستان کے خلاف ویڈیوز بناتی ہے اور انہیں پوسٹ کرتی ہے اور اجیت ڈیول نیٹ ورک اس کو ویوز دیتا ہے۔ اس محترمہ کو دو دفعہ گرفتار کیا گیا اور یہ دونوں مرتبہ اپنے جیجا جی کی وجہ سے رہا ہو کر آج کل پھر پاکستان کے خلاف بکواس کرواتی ہے، ٹارگٹ اس کا یہ ہوتا ہے کہ یہ پاکستان کو گھٹیا ثابت کرے اور بھارت کا اعلی ثابت کرے، اہل لاہور سے التماس ہے کہ یہ جہاں بھی نظر آئے اس کے ساتھ ایک محب وطن والا سلوک کیا جائے کیوں کہ پاکستان کے ادارے اس اینکر کے سامنے بے بس ہیں۔
آہو
https://t.co/3V6ovDYUkb
ایک ماں کی فریاد۔۔۔!!
میرا بیٹا فیصل ولد محمد فضل…
جب وہ صرف 15 سال کا تھا، 13 جون 1996 کو اپنے والد کی سختی سے دل برداشتہ ہوکر گھر سے نکلا…
اور پھر کبھی واپس نہیں آیا۔
ہم اس وقت کراچی، سول اسپتال کے قریب رینبو سینٹر کے پاس رہتے تھے۔
بیٹا…
تمہارے جانے کے بعد میری زندگی وہیں رک گئی…
میں نے 1996 سے آج تک ایک بھی رات سکون سے نہیں سوئی۔
ہر دن، ہر رات، ہر دعا میں صرف تمہارا نام ہوتا ہے۔
آج بھی…
جب کسی انجان نمبر سے کال آتی ہے…
یا دروازے پر ہلکی سی دستک ہوتی ہے…
میرا دل دھڑک اٹھتا ہے…
کہ شاید میرا فیصل واپس آگیا ہے…
بیٹا…
اگر یہ پیغام تم تک پہنچ جائے تو بس ایک بار لوٹ آؤ…
میں تم سے کوئی سوال نہیں کروں گی…
کوئی شکوہ نہیں ہوگا…
بس تمہیں گلے لگا کر اپنی باقی زندگی گزار لوں گی۔
تمہارے بغیر میری دنیا ویران ہوچکی ہے…
دنیا بھر کے لوگوں سے اپیل ہے
ایک ماں کے درد کو سمجھیں…
اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں…
شاید کسی ایک شیئر سے یہ آواز فیصل تک پہنچ جائے…
کسی بھی اطلاع کے لیے واٹس ایپ کریں:
03162529829
تاریخ: 7 مئی 2026
#WaliullahMaroof
تاریخ خود کو دہراتی ہے🥷
👈اگر آپ بوسنیا کو نہیں سمجھتے،
تو آپ غزہ کو بھی نہیں سمجھیں گے…!💔
👈پہلے بوسنیا کو سمجھیں،
تاکہ آپ غزہ اور وہاں جو کچھ ہو رہا ہے، اسے سمجھ سکیں، اور حیران نہ ہوں…!
صربوں نے بوسنیا کے مسلمانوں کے خلاف نسل کشی کی جنگ چھیڑی، جس میں 3 لاکھ مسلمان شہید ہوئے۔💔
👈60 ہزار خواتین اور بچیوں کی عصمت دری کی گئی۔
👈15 لاکھ مسلمانوں کو بے گھر کر دیا گیا۔
کیا ہمیں یہ سب یاد ہے؟
یا ہم اسے بھول چکے ہیں؟ یا ہم نے اس کے بارے میں کبھی کچھ سنا ہی نہیں؟🥲
سی این این کے ایک اینکر نے بوسنیا کے قتل عام کی برسی پر معروف رپورٹر کرسٹیانا امانپور سے سوال کیا:
☘️"کیا تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے؟"
کرسٹیانا امانپور نے جواب دیا:
👈"یہ قرون وسطیٰ کی جنگ تھی—مسلمانوں کا قتل، محاصرہ اور ان کو بھوک کا شکار کیا جانا، اور یورپ نے مداخلت کرنے سے انکار کر دیا۔ وہ کہتے رہے کہ یہ ایک خانہ جنگی ہے، جو کہ سراسر جھوٹ تھا!"🥲
👈یہ ہولوکاسٹ تقریباً 4 سال جاری رہا۔
صربوں نے 800 سے زائد مساجد تباہ کر دیں، جن میں سے کچھ کا تعلق 16ویں صدی سے تھا۔
انہوں نے سرائیوو کی تاریخی لائبریری جلا دی۔
اقوامِ متحدہ نے مسلمانوں کے شہروں میں حفاظتی دروازے نصب کیے، لیکن وہ صرف دکھاوا تھا۔🗡️
👈صربوں نے ہزاروں مسلمانوں کو حراستی کیمپوں میں ڈال کر بھوکا پیاسا رکھا، یہاں تک کہ وہ ہڈیوں کے ڈھانچے بن گئے۔💔
ایک صربی کمانڈر سے پوچھا گیا کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟
اس نے کہا:
👈"کیونکہ یہ سور کا گوشت نہیں کھاتے!"
گارڈین اخبار نے ان دنوں بوسنیا کے عصمت دری کیمپوں کا نقشہ شائع کیا، جن کی تعداد 17 تھی، کچھ تو صربیا کے اندر ہی قائم کیے گئے تھے۔
صربوں نے بچوں تک کو نہیں بخشا—ایک 4 سالہ بچی کے بارے میں گارڈین نے خبر شائع کی:
"وہ بچی جس کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ مسلمان تھی!"💔
قصاب ملادیچ نے مسلمانوں کے ایک رہنما کو بلایا، اسے سگریٹ پیش کی، چند لمحے قہقہے لگائے، اور پھر بے دردی سے قتل کر دیا۔
سربرنیتسا کا قتل عام تاریخ کا ایک خوفناک سانحہ تھا۔🥲
👈بین الاقوامی فوجی، جو وہاں حفاظت کے لیے تعینات تھے، صربوں کے ساتھ جشن مناتے، رقص کرتے، اور بعض نے مسلمان خواتین کی عزت کا سودا خوراک کے بدلے کیا۔🥲
👈سربرنیتسا کی المناک کہانی:
دو سال تک محاصرہ جاری رہا،
مسلسل گولہ باری ہوتی رہی۔
یورپ نے بالآخر شہر کو صربوں کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا۔
مسلمانوں کو دھوکہ دیا گیا کہ اگر وہ ہتھیار ڈال دیں، تو انہیں امان ملے گی۔💔
👈جب انہوں نے ہتھیار ڈالے، صربوں نے 12 ہزار سے زائد مردوں اور لڑکوں کو الگ کیا، سب کو قتل کر دیا، اور ان کی لاشوں کی بے حرمتی کی۔
بعض مسلمانوں کی کھال پر گرم لوہے سے آرتھوڈوکس صلیب کی مہر ثبت کی گئی۔
ماؤں کے سامنے ان کے بچوں کو ذبح کیا گیا۔
جب قتل عام مکمل ہوا، تو قاتل کارادیچ نے اعلان کیا:💔
👈"سربرنیتسا ہمیشہ سے صربوں کی تھی، اور اب دوبارہ ہماری ہو گئی ہے!"
صربوں نے حاملہ مسلمان خواتین کو قید رکھا تاکہ ان کے بطن سے صربی بچے جنم لیں۔
ایک صربی فوجی نے ایک مغربی صحافی سے کہا:💔
👈"ہم چاہتے ہیں کہ مسلمان عورتیں صربی بچوں کو جنم دیں!"
30 سال گزر چکے ہیں، لیکن سبق نہیں سیکھا…
ہمیں بوسنیا یاد ہے،
ہمیں غرناطہ یاد ہے،
ہمیں فلسطین یاد ہے…💔
👈ہم ان سانحات کو کبھی نہیں بھولیں گے، اور کبھی بھی جھوٹے انسانی حقوق کے نعرے پر یقین نہیں کریں گے!🗡️
👈ایک فرانسیسی اخبار نے بوسنیا کے قتل عام پر لکھا:
"یہ ایک جدید دور کی جنگ تھی، مگر اسے قرونِ وسطیٰ کے طریقے سے لڑی گئی!"
یہ تاریخ بچوں کو سلانے کے لیے نہیں سنائی جاتی، بلکہ مردوں کو جگانے کے لیے سنائی جاتی ہے۔۔۔🥷
👈آج بھی تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے، اور امت مسلمہ کو متحد اور یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ ایسے سانحات دوبارہ نہ ہوں۔ ورنہ مظلوم ہمیشہ پستے رہیں گے🥷
معتبر ذرائع
UN، ICTY، Guardian)
قرآن میں ایک سورت ہے جو ایک خاص احساس کے لیے نازل ہوئی تھی۔ غم کے لیے نہیں، خوف کے لیے نہیں، تنہائی کے لیے نہیں۔ بلکہ اُس احساس کے لیے جب آپ سب کچھ ٹھیک کر رہے ہوتے ہیں لیکن پھر بھی کچھ کام نہیں بن رہا ہوتا۔ اور اللہ کا جواب... آپ کو رُلا دے گا۔
اس سورہ کے نازل ہونے سے پہلے نبی ﷺ کے ساتھ ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس کے بارے میں زیادہ لوگ بات نہیں کرتے۔ وحی رک گئی تھی۔ ہفتوں تک—کچھ علماء کے مطابق مہینوں تک جبرائیل علیہ السلام نہیں آئے۔ نہ کوئی آیات، نہ کوئی ہدایت۔ بس... خاموشی۔
اور نبی ﷺ — جو اللہ کے سب سے محبوب تھے — سوچنے لگے: "کیا مجھ سے کوئی غلطی ہو گئی؟ کیا میرے رب نے مجھے چھوڑ دیا ہے؟ کیا وہ مجھ سے ناراض ہے؟" قریش کے دشمنوں نے ان کا مذاق اڑایا اور کہا: "تمہارے رب نے تمہیں چھوڑ دیا ہے۔" اس بات نے انہیں گہرا دکھ پہنچایا۔
پھر اللہ نے اس خاموشی کو توڑا۔ کسی تنبیہ یا حکم کے ساتھ نہیں، بلکہ ایک قسم کے ساتھ:
وَالضُّحَىٰ وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَىٰ
"قسم ہے صبح کی روشنی کی، اور رات کی جب وہ چھا جاتی ہے۔"
اور پھر وہ آیت نازل ہوئی جو انسان کی زندگی کی ہر تاریک رات کا جواب بن جاتی ہے:
مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَىٰ
"تمہارے رب نے نہ تمہیں چھوڑا ہے اور نہ وہ تم سے ناراض ہوا ہے۔"
اللہ نے یہ نہیں کہا کہ 'صبر کرو' یا 'اور زیادہ کوشش کرو'، اس نے بس یہ کہا کہ میں نے تمہیں چھوڑا نہیں ہے، میں کبھی گیا ہی نہیں تھا۔
اللہ نے انہیں کوئی پانچ قدموں والا منصوبہ نہیں دیا، بلکہ ان کی اپنی زندگی کی تاریخ کو دلیل بنا دیا۔ گویا فرمایا: "اپنی زندگی کو دیکھو۔ دیکھو میں نے پہلے تمہارے لیے کیا کیا ہے۔ میں اُس وقت بھی تمہارے ساتھ تھا۔ تو اب کیوں تمہیں چھوڑ دوں گا؟" اللہ اپنے نبی ﷺ کی زندگی کی کہانی ہی یاد دلاتا ہے:
أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًا فَآوَىٰ۔ وَوَجَدَكَ ضَالًّا فَهَدَىٰ۔ وَوَجَدَكَ عَائِلًا فَأَغْنَىٰ
"کیا اس نے تمہیں یتیم نہیں پایا اور پناہ دی؟ کیا اس نے تمہیں راستہ تلاش کرتے نہیں پایا اور ہدایت دی؟ کیا اس نے تمہیں محتاج نہیں پایا اور غنی کر دیا؟"
رات کا مطلب یہ نہیں کہ وہ چلا گیا ہے۔ خاموشی کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ناراض ہے۔ کبھی کبھی اللہ خاموش ہو جاتا ہے، اس لیے نہیں کہ اُس نے تمہیں چھوڑ دیا ہے بلکہ اس لیے کہ جو آنے والا ہے وہ اس سے کہیں زیادہ بہتر ہے جو پہلے تھا۔
وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْأُولَىٰ
"اور آخرت تمہارے لیے پہلی زندگی سے بہتر ہے۔" (93:4)
اور یہ ہر دور پر لاگو ہوتا ہے۔ ہر باب پر، ہر موسم پر، ہر انتظار کے وقت پر۔ جو آنے والا مرحلہ ہے وہ اس مرحلے سے بہتر ہے جو ابھی ہے۔
وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ
"اور عنقریب تمہارا رب تمہیں اتنا دے گا کہ تم خوش ہو جاؤ گے۔" (93:5)
اس نے "شاید" نہیں کہا، اس نے کہا "عنقریب"۔ اس نے کہا کہ تم خوش ہو جاؤ گے۔ اسے ان دنوں کے لیے سنبھال کر رکھو جب خاموشی برداشت کے قابل نہ لگے۔
اور پھر اللہ وہ کام کرتا ہے جو نہ کوئی انسانی معالج، نہ کوئی سیلف ہیلپ کتاب اور نہ ہی کوئی موٹیویشنل اسپیکر کبھی کر سکا۔ اگر آپ اس وقت یہاں بیٹھے ہیں، دعا کر رہے ہیں مگر وہ قبول ہوتی محسوس نہیں ہو رہی، آپ اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں مگر کچھ بدلتا نظر نہیں آ رہا اور آپ کو لگنے لگا ہے کہ شاید اس خاموشی کا مطلب یہ ہے کہ آپ ہی میں کوئی کمی ہے... تو یہ سورت آپ کے لیے ہے۔ یہ صرف ایک یاد دہانی نہیں، بلکہ ایسے ہے جیسے اللہ اُس حصے سے براہ راست بات کر رہا ہو جو اندر سے ڈرتا ہے کہ شاید اسے بھلا دیا گیا ہے
❤️
مـــــᷟــᷴــᷝــᷢــᷧــᷟــريم طــᷢــᷬــⷩــⷶــⷮـــاہر
#BazmeNaz
⛔️The Indian Betrayal ‼️
⛔️ India invited Iran to participate In MILAN 2026, Iran honored this invitation and sent 200 sailors.
⛔️They were still there when the war broke out between Iran and US/Israel
⛔️It was returning from India with over 200 sailors on board when India tipped the United States that Iran was in their backyard, moment later the U.S navy arrived and sank it with several torpedos in the Indian Ocean.
⛔️More than 80 sailors have been confirmed dead with over 120 still Unaccounted for.
⛔️This is a dirty low level betrayal of the highest order😡😡.
افغانیوں پر تندور والا طنز کیوں کیا ؟
وہ پرچم جلائیں “ کرکٹ میچ ہو تو تب گالیاں “ پیدا یہاں ہوتے ہیں اور زندہ باد کا نعرہ اُن کا لگاتے ہیں “ بنوں میں ان کے شہری نکلتے ہیں بلوچستان میں ان کے شہری نکلتے ہیں
یوتھیے تو حمایت کرینگے کیونکہ دھرنوں کے لئے کرائے کے افغانی اب نہیں ملتے
یہ دو ٹکے کا بے غیرت بھگوڑا ملک دشمن صحافی خود امریکہ بھاگ گیا ہے اور وہاں سے بیٹھ کر میرے ملک کی فوج کے خلاف بکواس کر رہا ہے جبکہ اس کا منافق آقا عمران فوج کا ہی نمک حرام بوٹ پالشیا ہے۔ یہی PTI کا اصل غلیظ چہرہ ہے۔ میں بڑے عرصے سے آپ دونوں خاکساروں کو یہی سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ @ajmaljami@umardarazgondal
سعودی عرب کے سوشل میڈیا پر، چاہے ایک فالور والا ہو یا ایک ملین فالورز رکھنے والا، آج پورا میڈیا پاکستان کے حق میں آواز بلند کر رہا ہے۔ وہ دنیا کو بتا رہے ہیں کہ کیسے افغانستان، بھارت اور اسرائیل کے اشاروں پر پاکستان میں دہشت گردی کرواتا ہے، اور بے گناہوں کا قتل عام کیا جاتا ہے۔ ہم اپنے سعودی بھائیوں کے اس جذبے اور حمایت کے لیے تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔
على وسائل التواصل الاجتماعي في المملكة العربية السعودية، سواء كان صاحب متابع واحد أو مليون متابع، اليوم يُناضل الجميع دفاعًا عن باكستان. إنهم يوضحون للعالم كيف تُدار العمليات الإرهابية في باكستان بتوجيهات من أفغانستان والهند وإسرائيل، وكيف يُرتكب قتل الأبرياء. نحن ممتنون من أعماق قلوبنا لإخواننا السعوديين على هذا الدعم والمؤازرة.
طالبان نے پاکستان پر حملہ کیا، ہماری سرحدی چوکیوں پر قبضہ کیا اور محافظینِ سرحد میں سے چند جوانوں کو شہید کیا۔ اس کے جواب میں پاک فوج نے افغانستان میں موجود ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، سرحدی جواب دیا اور بعد ازاں فضائیہ نے بھی ان کے مراکز پر حملے کیے۔ یوں یہ صورتحال ایک باقاعدہ سرحدی اور رسمی جنگ کی شکل اختیار کر چکی ہے جسے افغانستان کی جانب سے پاکستان کے خلاف چھیڑا گیا۔
افواجِ پاکستان کی کارروائی ناگزیر اور بروقت تھی، تاہم یہ اقدام پہلے ہونا چاہیے تھا تاکہ اتنا نقصان نہ اٹھانا پڑتا۔ قومی سلامتی کا تقاضا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرگرم ہر انفراسٹرکچر کو جڑ سے اکھاڑا جائے، فیصلہ کن طور پر ختم کیا جائے اور اس خطرے کا مستقل خاتمہ کیا جائے۔
پوری قوم اس دفاعی معرکے میں افواجِ پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے۔ حکومت کی کارکردگی پر اختلاف ممکن ہے، بعض اقدامات پر اعتراض بھی ہو سکتا ہے، مگر قومی سلامتی ایسا معاملہ ہے جو ہر فرد پر شرعی اور قومی ذمہ داری عائد کرتا ہے۔ ہم پاکستان کے دفاعی اقدام کی مکمل تائید کرتے ہیں، اس کے ساتھ ہیں اور ہر ممکن تعاون کے لیے ہمیشہ آمادہ رہے ہیں۔ شیعہ جماعتیں، شیعہ جوان، شیعہ علماء اور شیعہ شخصیات دفاعِ وطن میں ہمیشہ صفِ اول میں رہے ہیں اور رہیں گے۔
افواجِ پاکستان سے یہ تقاضا بھی ہے کہ قطر، ترکی، امارات اور سعودی عرب کے دباؤ سے مرعوب نہ ہوں۔ یہ ممالک طالبان کے حامی اور دہشت گرد عناصر کے معاون رہے ہیں۔ بظاہر دوستی کے دعوے کیے جاتے ہیں مگر یہی ممالک ماضی میں پاکستان پر دباؤ ڈال کر طالبان کے خلاف کارروائیاں رکواتے رہے، حتیٰ کہ فضائی حملوں سے گریز کی دھمکیاں تک دی گئیں۔ طالبان حکومت نہ قانونی حیثیت رکھتی ہے اور نہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے، مگر اسے مختلف سطحوں پر مدد حاصل رہتی ہے۔
افغانستان کو دانستہ طور پر غیر یقینی اور غیر مستحکم خطہ بنا کر رکھا گیا ہے تاکہ پاکستان، چین، ایران اور دیگر علاقائی ممالک کو مسلسل عدم استحکام کا شکار رکھا جا سکے۔ اسی تناظر میں نریندر مودی کا اسرائیل دورہ، دونوں قیادتوں کی ملاقات اور اس کے فوراً بعد افغانستان کی جانب سے پاکستان پر حملہ—یہ تمام حقائق باہمی روابط کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ طالبان کے اندر پاکستان مخالف عداوت کے اسباب میں مودی، بعض عرب ممالک اور پاکستان کے اندر موجود خوارج و تکفیری عناصر بھی شامل ہیں، جو انہیں ایک مضبوط ریاست کے خلاف جارحیت کی جرأت دیتے ہیں۔
اب جبکہ پاکستان پر براہِ راست حملہ کیا گیا ہے تو لازم ہے کہ معاملے کو فیصلہ کن مرحلے تک پہنچایا جائے اور افغانستان میں موجود وہ تمام نیٹ ورکس مکمل طور پر ختم کیے جائیں جو پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ سرزمینِ پاکستان اور ملتِ پاکستان کی حفاظت فرمائے، اسے اندرونی و بیرونی دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھے، ملک سے دہشت گردی، فرقہ واریت، تکفیریت اور خارجیت کا خاتمہ فرمائے اور ان کے سرپرستوں کو رسوا کرے۔ آمین۔
#Pakistan #Afghanistan