آپ ہماری بدقسمتی تو دیکھیں کہ ہم ان لوگوں پر رشک کھاتے ہیں جنکے پاس انکے پیاروں کی قبریں ہیں ۔ ہم کہتےہیں کہ جب انکے رونے کا دل کرتا ہے تو وہ ان قبروں کے پاس جاکر روتے ہیں مگر ۔۔
ہم ریاست سے لاشیں مانگ رہے ہیں ۔۔ہم اس ریاست سے کہتے ہیں کہ آپ نے جن لوگوں کو مارا ہے انکی گلی سڑی لاشیں ہیں باقیات ہیں انکی جو ہڈیاں ہیں آپ صرف ہمیں وہ دے دیں ۔
رہنما بی وائے سی سمی دین بلوچ
@BalochYakjehtiC@SammiBaluch
Thank you for your prayers and messages. Alhumdulillah I am safe, but deeply heartbroken at the loss of our workers. Around 15 have been martyred and many injured. They stood by me and gave their lives for our cause. Their sacrifice will never be forgotten. May Allah grant them Jannah and give patience to their families. This is a debt on me, and I will carry it with responsibility and resolve.
آج پھر بلوچستان رو رہا ہے۔
کوئٹہ کی سڑک پر ایک 12 سالہ بچہ مارا گیا۔
نہ کوئی ہتھیار، نہ کوئی خطرہ—صرف ایک معصوم چہرہ، جس کی ماں نے صبح اسے جوتے پہنا کر بھیجا تھا، اور شام کو اس کی لاش واپس ملی۔
اور تم سب؟
جیسے ہمیشہ، خاموش۔
جیسے کبھی کچھ ہوا ہی نہیں۔
تمہیں کب پرواہ تھی؟
تم نے کب بلوچستان کو اپنا سمجھا؟
ہم تو ہمیشہ تمہارے لیے ایک غیر، ایک سوتیلا سوال رہے ہیں—جس کا جواب تم نے ہمیشہ گولیوں سے دیا ہے۔
جب ہمارے بچے مارے جاتے ہیں، تم صرف خبر پڑھ کر آگے بڑھ جاتے ہو۔
نہ دکھ، نہ شرم، نہ افسوس۔
تمہیں صرف تب درد محسوس ہوتا ہے جب درد تمہارے گھر کی دہلیز پر آتا ہے۔
فلسطین کے لیے تمہاری آنکھیں نم ہو جاتی ہیں، اور یہاں؟
تمہاری اپنی زمین پر، تمہاری اپنی مٹی میں، تمہارا اپنا بچہ مارا گیا—اور تم چپ ہو۔
کیونکہ تم نے کبھی ہمیں “اپنا” مانا ہی نہیں۔
ہم بس اتنا پوچھنا چاہتے ہیں:
کیا ہمارا خون سستا ہے؟
کیا ہمارے بچوں کی جانیں کم قیمتی ہیں؟
کیا ہم صرف اس لیے مارے جائیں گے کہ ہم آواز اٹھاتے ہیں؟
اب بہت ہو چکا ہے۔
میں اور میری پارٹی ان ماؤں کے ساتھ ہیں جن کے بچے واپس نہیں آئے۔
ہم ان سڑکوں پر بیٹھے ہر مظلوم کے ساتھ کھڑے ہیں۔
یہ جنگ اب خاموشی کی نہیں—یہ جنگ آواز کی ہے۔
ہم انصاف مانگتے ہیں، نہیں ملے گا تو چھینیں گے۔
اور یہ لاشیں تم سب کی بے حسی کی گواہی بن کر تاریخ میں لکھی جائیں گی
ظہور جمالزئی، جو نائب رحیم بخش جمالزئی کا بھائی ہے اور انجیرا (سابق وزیر اعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری کا علاقہ) کا رہائشی اور ذاتی سیکیورٹی گارڈ ہے، نے گزشتہ رات خضدار سے عنایت اللہ جتک کی بیٹی کو شادی کے رشتے سے انکار کرنے پر اغوا کر لیا۔ یاد رہے کہ ظہور جمالزئی نے اس سے پہلے عبدالسلام، جو کہ لڑکی کا منگیتر تھا، کو بھی شہید کیا تھا۔ آر سی ڈی روڈ خضدار سے رات 1 بجے سے بلاک ہے۔ عوام متاثرہ لڑکی کی بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
صحافت پر پابندیوں اور پاکستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی کہانی حامد میر کی زبانی ۔۔ سچ بولنا منع ہے ۔۔ پبلشر نے دوسرا ایڈیشن کم قیمت کے ساتھ شائع کر دیا ہوم ڈیلیوری کے لئے رابطہ عکس پبلی کیشنز میاں چیمبرز 3 ٹمپل روڑ لاہور
03004827500, 03484078844
قومی اسمبلی میں بات نہیں کرنے دی جاتی،، بی این پی مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل قومی اسمبلی کی نشست سے مستعفی۔۔ یہ اچھی خبر نہیں ہے۔۔ اب کیا حکومت اور ریاست سردار اختر مینگل کو انگیج کرے گی۔۔
دوسری جانب کیا عمران خان سے پس پردہ بات چیت چل رہی ہے، نواز شریف نے قومی ڈائیلاگ کا اشارہ دیا اور پھر تردیدیں آنا شروع ہو گئیں،، عمران خان نے فوجی تحویل سے بچنے کے لیےدرخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کر دی، جنرل ریٹائرڈ فیض کے وعدہ معاف گواہ بننے کے خدشے کا اظہار کر دیا۔۔ وزیر دفاع خواجہ آصف سے خصوصی گفتگو ہو گی۔
#FaislaAapKa
Hum News
@sakhtarmengal@humnewspakistan
Today is death anniversary of the venerable Sardar Attaullah Khan Mengal... He was a visionary leader, whose foresight & insight were truly remarkable. He astutely pointed out the challenges we face today, yet sadly, we often fail to acknowledge our national leaders. May he rest in Peace.
During the previous two terms of @pmln_org government in Punjab, @CMShehbaz started remarkable scholarship programs for students of Balochistan in the educational institutions of Punjab. However, unfortunately, the previous Punjab government considerably reduced these scholarship quotas. Since PMLN has once again formed government in the center and @GovtofPunjabPK, I request PM Shehbaz Sharif and @MaryamNSharif to revitalize these programs and increase the scholarship quota for students of Balochistan in the universities and colleges of Punjab.