آپکو بھی گرفتار کریں گے؟ صحافی کا وزیراعلی سہیل آفریدی سے سوال
کہاں ہیں پکڑیں نا ۔۔ اگر میں اکیلا بھی رہ گیا تو پھر بھی لانگ مارچ کرونگا۔ سہیل آفریدی کا جواب
عاصم منیر، گدی تو آپ کو چھوڑنی پڑے گی! آپ کی طاقت نہتی 70 سالہ نہتی عورتوں پر ہی چلتی ہے! جو طاقت یہاں دکھا رہے ہو یہ بلوچستان یا جنوبی پختون خواہ میں دکھاؤ نا!
میں جی ایچ کیو نہیں ہوں جو زمینوں پر قبضہ کرے۔ تمہارے جھوٹے الزاموں کا بھی مقابلہ کروں گا۔ کل ہی اوقاف کے نوٹس کے خلاف دعوا دائر کرونگا۔
میرے پاکستانیوں، خصوصاً نوجوانوں یہ اس GHQ کی ناجائز مَلَت سے چھٹکارا حاصل کرنے کا وقت ہے۔
27 کو اسلام آباد پہنچیں!
🚨🇵🇰 Videos just dropped of police raiding the homes of Tehreek-e-Insaf leaders (Khan party) in Sialkot.
What is this madness?
WTF is happening in Pakistan and why is nobody saying anything?
Writer: Samuel
Important Message from Former Prime Minister Imran Khan from Adiala Jail - 22 July 2025
Note: This tweet is based on the tweet from July 24, 2025.
“Never in the history of Pakistan has any political leader been subjected to the treatment that I am currently enduring. Nawaz Sharif committed corruption worth billions and was nevertheless granted every possible comfort in prison. In contrast, never before has the innocent and apolitical spouse of a political figure been imprisoned under such inhumane conditions as those imposed upon Bushra Bibi.
I am enduring the harshest prison term in the country’s history solely for the supremacy of the Constitution and in service of my nation. The level of oppression and authoritarianism is such that even the water I have for ablution is filthy and contaminated with dirt, unfit for any human being. Books sent to me by my family have been withheld for months. Access to television and newspapers has also been suspended. I have spent countless hours re-reading the same old books, but now even those are no longer available.
All my basic human rights have been violated. Even the minimum facilities accorded to ordinary prisoners under the law and the jail manual are denied to me. Despite repeated requests, I have not been allowed to speak to my children. Political meetings have also been restricted; I am only permitted to meet certain ‘choice individuals’, while all other interactions are barred.
I am waging a battle against a 78-year-old system, and my greatest success is that despite unprecedented oppression, the public stands firmly with me.
On February 8th (2024), the people expressed their trust in Pakistan Tehreek-e-Insaf by voting for you even in the absence of an electoral symbol. After such a clear mandate, it is the moral and political responsibility of every party member to become the voice of the people. It will be nothing short of disgraceful and condemnable if PTI leaders waste time on internal conflicts at this critical juncture. Anyone found engaging in factionalism within the party will be expelled. I am fighting for the future of our generations, and every sacrifice I make is for that cause. To create rifts within the party at this time would be a direct betrayal of my mission and vision.
The so-called government formed through Form 47 has crippled the judiciary through the 26th Constitutional Amendment. The way biased judges are now delivering blatantly unjust verdicts under these courts is visible to the entire nation. We must launch a robust campaign to liberate the judiciary, for no nation can survive, let alone progress, without judicial independence.”
جب نواز شریف بیمار ہوتا ہے تو یہی عدالتیں کہتی ہیں اگر اس کو کچھ ہوگیا تو حکومت ذمہ دار ہوگی جب واپس آتے ہیں تو عدالتیں ائیرپورٹ پر پہنچ جاتی ہیں حالانکہ سزا یافتہ مجرم ہوتے ہیں قوم کا پیسہ لوٹ کر گئے ہوتے ہیں دوسری جانب ایک سیاسی جماعت کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک ہو ریاستی ادارے اس کو own نہ کرتے ہوں ، ان کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہو، قانون کے مطابق ان کو ڈیل نہ کیا جاتا ہو تو وہ احتجاج کی طرف ہی جائے گی۔اور اس احتجاج کی آئین و قانون اجازت دیتا ہے اگر اس سے روکنا ہے تو آئین سے وہ شِق نکال دیں۔
ستائیس ستمبر کو ہم پورے زور و شور سے آئیں گے، عمران خان کی بہنوں اور خاندان کے اغواء سے اس تحریک کو ناکام بنانے کی کوشش کریں گے تو ایسا نہیں ہوگا،اگر شکیل خان پر سادہ کپڑوں میں ملبوس دہشتگرد حملہ کریں گے، صوبائی وزیر شکور خان کی گاڑی پر دہشتگرد حملہ کرکے اس کو اغواء کریں گے اور سوچتے ہیں کہ تحریک ناکام ہوگی تو ایسا نہیں ہوگا اس سے تحریک میں مزید جان آئے گی ان شاء اللہ۔ وزیراعلی @SohailAfridiISF
🚨اہم ترین
محسن نقوی کی پریس کانفرنس کی شدید الفاظ میں مختلف کرتے ہیں محسن نقوی کو گولی کی بات نہیں کرنی چاہیے ہم دہشتگرد نہیں ہیں بلوچستان میں محسن نقوی ایس ایچ او کی بات کرتا تھا وہاں لوگ بندوق کا مقابلہ بندوق سے کر رہے ہیں تو ان سے مقابلہ نہیں ہو رہا ۔
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی
🚨26 نومبر کو ہمارے شہدا کے جنازوں میں کس نے شرکت کی ؟ اعجاز ستی کی لاش تب دی گئی جب یقین دہانی لے لی کہ جنازہ کینٹ میں نہیں ہو گا 26 نومبر کو ہمارے شہدا کی لاشیں انہوں نے نہیں دیں دوسری طرف دہشتگرد ہمارے فوجی جوانوں کی لاشیں نہیں دیتے دونوں لاشیں نہیں دیتے ان میں پھر فرق کیا ہے ؟
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی
ایم پی اے پی کے 99 زاہداللہ خان کے فرزند حشمت خان وزیر کو کچھ دیر قبل اکبر علی پمپ کے مقام سے تین ویگو گاڑیوں میں سوار سادہ کپڑوں میں ملبوس نامعلوم افراد اپنے ساتھ لے گئے۔ فسطائیت اور سیاسی انتقام کی تمام حدیں پار کر دی ہیں۔
اگر اغواء کے وقت مزاحمت کرو گے یا تعاون سے انکار کرو گے، تو ایف آئی آر درج کی جائے گی۔
اگر سیاسی حکمت عملی کے تحت لانگ مارچ کی تاریخ ہفتہ یا دو ہفتے آگے کردی جائے تو فوج پر ہزاروں اہلکار اسلام آباد رکھنے ، چھٹیاں بڑھانے ، کنٹینر کھڑے رکھنے کی مصیبت بڑھے گی۔ آپ لڑائی میں ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ تھکا سکتے ہیں۔ تھکا دیں۔
وزیراعلٰی سہیل آفریدی 🚨
27 ستمبر کا لانگ مارچ ہر صورت ہوگا اگر یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ عمران خان کی بہنوں کو اغواء کرکہ ہم پیچھے ہٹ جائیں گے یا شکیل خان کو اغواء کرنے سے ہم پیچھے ہٹ جائیں گے یا فضل شکور کو اغواء کرنے سے ہم پیچھے ہٹ جائیں گے تو یہ انکی بھول ہے ہم مزید زور سے آئیں گے
اگر سادہ کپڑوں میں ملبوس دہشتگرد شکیل خان پر حملہ کریں گے تو اس سے یہ تحریک ناکام نہیں ہو گی اگر سادہ کپڑوں میں ملبوس دہشتگرد فضل شکور کی گاڑی پہ حملہ کریں گے اور اسے اغواء کریں گے تو اس سے تحریک میں مزید جان پڑے گی ! سہیل آفریدی ۔۔
🚨 24 نومبر 2024 کے بعد آج دو سال بعد ہم لانگ مارچ کرنے جا رہے ہیں، ان دو سالوں میں ہم نے ہر آئینی ، قانونی راستہ اختیار کیا، بطور سیاسی جماعت ہم نے اسمبلی کا استعمال کیا، عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا، خطوط لکھے لیکن کچھ اثر نہیں ہوا،
وزیر اعلٰی سہیل آفریدی
کیا صوبے میں وزیر اعلی کی رٹ ہے ؟؟ صحافی کا سہیل آفریدی سے سوال
وزیر اعلی کے پاس بندوق نہیں ہوتی کہ گولی چلائے اس وقت پولیس اور انتظامیہ کو یرغمال بنایا ہوا ہے ایک کابینہ ممبر پر گولیاں چلائی جا رہی ہیں یہ ملک کو خانہ جنگی کی طرف لے کے جا رہے ہیں یہ افسوس ناک ہے ہم دہشتگرد نہیں ہیں ، وزیر اعلی سہیل آفریدی کی پریس کانفرنس