اب فلسطین کے حق میں احتجاج کرنے سے روکا جا رہا ہےاور یہ کہا جا رہا ہے کہ موجودہ حالات کے پیش نظر ہجوم پر پابندی ہے.تو پی ڈی ایم اور پرویز خٹک کو کیوں اجازت ؟ بلکہ پروٹوکول دیے جارہے اور یہ پی ٹی آئی کے لیے نہیں بلکہ فلسطینی مسلمان بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے پرامن احتجاج کرنا تھا.
صحافت کے تمام اصولوں کے خلاف، آپ نے مجھ پر حملے کا الزام لگایا ہے۔ سینیٹر افنان اللہ نے چیئرمین پی ٹی آئی کو گالیاں دیں اور انہیں میری موجودگی میں 'بوٹ چاٹ'، یہودی اور یہود کا بیٹا کہا۔ اس کی زبان اشتعال انگیز اور چیلنجنگ تھی۔ میرا جواب کیا ہونا چاہیے تھا؟ اس کی بکواس سنتے رہنا یا اسے فوراً روکنا؟ جب میں اسے روکنے کے لیے کھڑا ہوا تو اس نے اپنی غلیظ بیان بازی جاری رکھی۔ اس لیے میں نے جو مناسب سمجھا وہ کیا۔ میں اپنے خلاف بد زبانی برداشت کر سکتا ہوں لیکن عمران خان کے بارے میں کسی بھی صورت میں گالیوں کی اجازت نہیں دے سکتا۔ آپ ایک نامور صحافی ہیں اور میں نے بطور صحافی آپ کے کردار کا ہمیشہ احترام کیا ہے۔ تاہم، میرے معاملے میں، آپ نے اس کی زبان سے کیے گئے حملے کا ذکر کرنے میں ناکام رہے ہیں جو بالآخر جھگڑے پر منتج ہوا۔ میرا خیال ہے کہ آپ کا نقطہ نظر متوازن ہونا چاہیے تھا کیونکہ اس طرح آپ سینیٹر عرفان اللہ کے اشتعال انگیز طرز عمل کی منظوری دے رہے ہیں۔ شکریہ
خواجہ صاحب خیریت ہے ناں؟ آج کل مسلم لیگ ن کو میڈیا بہت برا لگنے لگا ہے نواز شریف کی تصویروں والے اکاؤنٹس گالی گلوچ میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں ہیں لیکن میڈیا کو برا بھلا کہہ کر بجلی کے بلوں کے باعث عوام میں پیدا ہونے والی بے چینی ختم نہیں ہو گی بے چینی کا واحد علاج 90 دن میں الیکشن ہے
عمران خان میں کچھ تو خاص تھا جس کو گرانے کیلئے
مولوی اسلام کو بھول گئے, PPP والے بینظیر اور بھٹو کو بھول گئے۔ PMLN والے ووٹ کو غزت دلوانا بھول گئے، ANP اور MQM ولے قومیت کو بھول گئے، عدالتیں انصاف کو بھول گئیں، صحافی صحافت کو بھول گئے اور ادارے فرض شناسی کو بھول گئے.
@INDFAM_BBS
I have a shared the complete detail of the match between afg vs ban 1st T20i 2023 go to the link and see the match details and highlights of the match
https://t.co/WuNmViHaPr