وقت نے ہر شے پر زردی کی چادر ڈالنا شروع کر دی ہے۔راہداریوں پر لگی بیلوں پر خزاں نے اپنا رنگ جمانا شروع کر دیا ہے
جیسے محبت کے کسی پرانے خط پر وقت کی زرد چھاپ اتر آئی ہو
ہوا میں ہلکی سی نمی اور تھکن کا احساس ہے اداسی کی وہ خوشبو ہے جو صرف بچھڑنے کے بعد محسوس ہوتی ہے
مومنہ اقبال اور ثاقب چدھڑ کا تعلق ساڑھے پانچ سال تک رہا۔ باقاعدہ منگنی بھی ہوئی۔ منگنی کے بعد ثاقب کو علم ہوا کہ مومنہ کی پہلے دو شادیاں ہو چکی ہیں۔ اس پر دونوں کے تعلقات کچھ کشیدہ ہوئے مگر پھر صلح صفائی ہو گئی اور بات شادی کی طرف بڑھنے لگی تاہم کچھ وقت کے بعد ثاقب پر منکشف ہوا کہ مومنہ ایک بار پھر اسے اندھیرے میں رکھ کر کسی تیسرے کی دلہن بننے جا رہی ہے۔ اس پر ثاقب نے پوچھ گچھ کی تو ہراسمنٹ کا ہتھیار نکال لیا گیا، جو یقیناً کارگر رہے گا کہ فی الواقع یہ عورت کا معاشرہ ہے۔
بجلی بل پر کیو آر کوڈ کی آڑ میں صارفین کی معلومات چوری ہونے کا خدشہ،پاور ڈویژن نے ایڈوائزری جاری کردی
بجلی صارفین کے لئے حکومتی سبسڈی سکیم کی آڑ میں ہیکرز سرگرم ہوگئے ،صارفین کو خاص لنک پر کلک کرکے چار مراحل میں معلومات شئیر کرنے کا کہا جاتا ہے ، معلومات درج کرنے کے بعد اسی لنک پر 6 ہندسوں والا کوڈ درج کرنے کا کہاجاتا ہے، ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق بعض عناصر کیوآر کوڈ استعمال کرکے مزموم مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں،بل کے علاوہ متعلقہ معلومات کسی اورپلیٹ فارم پر درج نہیں ہوسکتیں ،معلومات کے اندراج کا طریقہ کار غلط اور غیرقانونی ہے ،جرائم پیشہ عناصرکے بارے میں اداروں کا آگاہ کردیا گیا ہے ،بجلی صارفین سبسڈی کے لئے کسی ڈیجیٹل یا کاغذ پر معلومات درج نہ کریں
مسلہ یہ ہے چھ سال مومنہ اور چدھڑ اک حرام رشتے میں رہے چھپ چھپ کر ملتے اکھٹے انجوائے کرتے رہے
اب کچھ تو ایسا ہوا ہے دونوں ایک دوسرے پر الزامات لگا رہے ہیں
دونوں کوئی چنے منے کاکے نہیں تھے کہ وہ جانتے نہیں تھے جو کچھ کر رہے ہیں وہ غلط ہے یا سہی
ابھی اس پولیس ملازم طلعت حبیب نے الفہد موبائل شاپ کے باہر بیٹھے ایزی پیسہ والے کے کاؤنٹر سے 99300/-کی رقم اپنے اکاؤنٹ میں ڈلوائی جب رقم مانگی تو وہ طیش میں آگیا اور پستول ��کھا کر گاڑی میں فرار ہوگیا اور ایزی پیسہ والے لڑکے شیخ فہیم کو جان سے مارنے کی دھمکی بھی دے
ایکشن کون لے
میں آپ کی بات سے سو فیصد اتفاق کرتا ہوں اور آئندہ مرد ہو یا خاتون جیسے ہی فتنہ فساد شروع کریں
انہیں وہیں پکڑ کر نمٹنا چاہیے اور پولیس پر ہاتھ اٹھانے والیوں کو تو موقعہ پر چھتر پولا ہونا چاہیے
Gender Equality Prevails
۔۔
امید ہے عظمی بخاری صاحبہ میری بات سے اتفاق کریں گی ۔۔
عمران خان 3 سال کورونا میں لے کر چلتا رہا، ہم��رے گھروں میں راشن اور وظیفے پہنچائے، غریب عوام کے کاونٹر اور ریڑھیاں نہیں اٹھائیں، میری ساری فیملی نواز لیگ کو ووٹ دیتی ہے، لیکن بات سچ کروں گا۔ لاہور کے شہری کی رائے
🚨BREAKING: For the first time, the original Pakistani cypher — cable I-0678, the document that triggered the removal of former Pakistani Prime Minister Imran Khan — is being released in full by Drop Site.
اس سے ثابت ہوتا ہے پاکستانی صحافی صحافت نہیں کرتے۔دلالی کرتے ہیں پیسہ پھینک تماشہ دیکھ والا حساب
انکے پاس خبر کا اصل سورس بھی نہیں ہوتا
ایک بندے نے اپنے اسٹوڈیو میں بیٹھ کر فیصلہ سنا دیا تھا کہ کوئی سائفر نہیں
منصور علی نے دعویٰ کیا تھا میری اگر ایک خبر بھی جھوٹی نکلی تو صحافت چھوڑ دوں گا
منصور علی خان نے سائفر پر کہا تھا یہ جھوٹ ہے اب کچھ لوگ اسے صحافت چھوڑنے کا کہہ رہے ہیں
تھوڑا وقت دیں ہفتہ دو ہفتہ، بندہ بے غیرت نہیں ہے اپنی کہی ہوئی بات کی لاج رکھے گا اور صحافت کو ٹھوکر مار دے گا
تعلیم کا بجٹ کم کر دیا گیا ہے سکولز پرائیویٹ کر دیے گئے ہیں یہ ایم سی ہائی سکول اسلام نگر فیصل آباد ہے ایسے ماحول میں بچوں نے کیا تعلیم حاصل کرنی ہے بہتر ہے سکولز مستقل بند کر دیے جائیں
’’جو سپورٹ لاڈلے کو ملی اس کا 30 فیصد بھی ہم کو ملا ہوتا تو پاکستان راکٹ کی طرح اوپر جاتا‘‘ شہباز شریف (20 مئی 2022)
اس بیان کو 4 سال ہو گئے ہیں، 100% سپورٹ ہے۔ راکٹ کی طرح اوپر بجلی گیس کے ��ل اور گھر کا خرچ گیا ہے
مداخلت اور سازش دونوں ثابت ہو گئی ہے۔
امریکی میڈیا چینل Drop Site نے کل سائفر کی کاپی پبلک کر دی۔ بیرونی مداخلت ثابت۔
مولانا فضل الرحمان کا یہ بیان کہ سب پا��ٹیوں کو جنرل باجوہ اور فیض نے بلایا اور کہا آپ نے عدم اعتماد کی تحریک لانی ہے، سازش کو بھی ثابت کر دیتا ہے۔
انکوائری ہوتی تو ایک آدمی جنرل باجوہ نے سامنے آجانا تھا
میں چیختا رہا شور مچاتا رہا تمام جرنیلوں کو کہا چیف جسٹس کو لکھا کہ سایفر کی تحقیقات ہونی چاہئیں
زداری شہباز کو کہا آو بریفنگ اٹینڈ کرو سب بھاگ گئے وزیر کابینہ میں نہیں آئے ۔۔۔ عمران خان
موجودہ رجیم تو الف ننگی تھی جنہوں نے اسٹیبلشمنٹ سے ملکر 8 فروری کا الیکشن چوری کیا مگر اب سائفر لیک سٹوری کے بعد مزید برہنہ ہو گئ ہے
ن لیگ پی پی نے جنرل باجوہ کے ساتھ ملکر عمران خان کی حکومت گرائی
اسوقت ایک ایک ووٹ اتنا قیمتی تھا ائیر فورس کا جہاز تک استعمال کرنا پڑا
غیر مقبول عمران خان
رجیم چینج سے پہلے عمران خان غیر مقبول نہیں تھا، عمران خان کا کور ووٹر خاموش تھا ۔ جس قدر تیز رفتار تبدیلی کی انہیں امید تھی وہ ہو نہ سکی تو لوگ مایوس ہوئے ، پھر انہی لوگوں کو رجیم چینج کے بعد سے اب تک یہی سمجھ آرہی ہے کہ وہ تیز رفتار تبدیلی آکیوں نہ سکی۔ عمران خان غیر مقبول نہیں تھا عمران خان کا کچھ ڈس کنیکٹ ہوگیا تھا۔ عمران خان 2008 سے لیکر آج تک پاپولر پالیٹکس کا کھلاڑی ہے ۔ حکومت میں آنے کے بعد دو اڑھائی سال تک عمران خان کے روایتی جلسے جلوسوں کو بریک لگ گئی۔ اس کی وجہ سے لوگ اوجھل بھی ہوئے لیکن جیسے ہی عمران خان نے جلسوں کا سلسلہ شروع کیا گیج وہیں پر جاپہنچی۔
نو اپریل کو عمران خان کی حکومت ختم ہوئی۔ دس اپریل کو سارا پاکستان بغیر کسی کال کے سڑکوں پر تھا۔ پاکستان کی تاریخ میں اس سے پہلے ایسا نہیں ہوا۔ عمران خان غیر مقبول نہیں تھا۔ عمران خان کو غیر مقبول دکھایا جارہا تھا۔ دکھانے والے کون تھے؟ جی ہاں یہی میڈیا ہاوسز جو آجکل برہنہ ہوئے پھرتے ہیں۔ وہی صحافی جو جون 2021 سے بتا رہے تھے کہ گل ہوگئی ہے ، “ تجربہ کار “ آرہے ہیں۔ یہ وہی لوگ تھے جو سندھ ہاوس میں ہونے والی سودے بازیوں میں بھی بروکر تھے ، جو سیاستدانوں کے جہازوں کے بھی ہمسفر تھے۔
یہ وہی لوگ ہیں جن کا خیال تھا کہ نشان چھین لینے سے ، کیمپین نہ کرنے سے ، عمران خان کو جیل میں ڈال دینے سے تحریک انصاف تیس چالیس تیس چالیس تیس چالیس۔ یہ وہی ہیں جن کا خیال تھا کہ اسحاق ڈار آئے گا معیشت چلائے گا۔ یہ وہی ہیں جن میں سے کسی کا پٹرول پمپ نکلتا ہے ، کسی کے لیے کسی ادارے کی چئیرمینی نکلتی ہے ، کسی کے لیے مراعات اور لاکھوں تنخواہ کی نوکری۔
یہ مری ہوئی لکیریں ہیں اب انہیں پیٹنے سے حاصل کچھ نہیں ، لیکن تاریخ کی درستی ضروری ہے۔ سوشل میڈیا تب بھی ان سے طاقتور تھا لیکن اس میڈیا کی سانسیں چلتی تھیں۔ رجیم چینج اور اسکے بعد انکے زوال کو گئیر لگ گیا۔ رجیم چینج نا ہوتا تو یہ میڈیا پانچ سات سال مزید نکال جاتا۔
اب واپس پلٹتے ہیں ، دس اپریل ، یہ وہ دن تھا جب ابھی نااہلوں کے اس ٹولے نے ایک دن بھی اقتدار میں نہیں گزارا تھا ، ابھی انکے تباہ کن فیصلے بہت آگے تھے ، ابھی تو نئی حکومت آئی سٹاک مارکیٹ مستحکم ہوئی روپیہ اوپر گیا والی سوچ تھی اس کے باوجود لوگ عمران خان کے لیے بغیر کسی کال کے سڑکوں پر نکل آئے اور یہ سلسلہ پورا رمضان چلتا رہا۔ ہر روز لوگ مختلف شہروں میں نکلتے اور عمران خان سے اظہار یکجہتی کرتے۔
کچھ غلطیاں بھی ہوئیں ، کچھ کوتاہیاں بھی اور غلط سیاسی فیصلے بھی ، جن کو ماپنے کا ہر کسی کا پیمانہ اپنا اپنا جدا جدا ، لیکن وقت نے ثابت کیا ��ہ عمران خان کے سیاسی و معاشی فیصلے بھی بہترین تھے اور عمران خان کی سفارتی پالیسی بھی۔ عمران خان پونے چار سال اقتدار میں رہا۔ نااہلوں کے اس ٹولے کو اقتدار سنبھالے چار سال ہوچکے ہیں۔ وہ پونے چار سال کہاں اور یہ چار سال کی ذلت و رسوائی کہاں۔
🇵🇰🇺🇸 Pakistan found a shortcut to Washington and it runs through the Trump family's wallet.
After the cypher, after Khan, after the military flipped Pakistan's entire foreign policy, Munir needed to make sure the relationship stuck. So when Trump moved into crypto, Pakistan built an entire government body around it overnight. The Pakistan Crypto Council appeared almost overnight, and within weeks of its creation the Trump family's own firm World Liberty Financial had a delegation on a plane to Islamabad.
That delegation was led by Zach Witkoff, son of Trump envoy Steve Witkoff, and it landed in Islamabad with one agenda. By the end of the visit, with Prime Minister Shehbaz Sharif and Field Marshal Munir both personally sitting in the room, Pakistan's Finance Minister had signed a deal committing to route a portion of Pakistan's annual remittances, somewhere between $36 to $38 billion a year, through the Trump family's own USD1 stablecoin. A deal that puts money directly through a firm the Trump family majority owns.
It kept going. When rare earth supply chains became a hot topic in Washington, Pakistan announced a sweeping $500 million rare earths agreement with a Missouri based company. Beyond a symbolic first shipment, nothing commercial has actually moved under that deal. When Trump floated an international stabilization force for Gaza, Pakistan volunteered troops before anyone asked twice.
The pattern is consistent. Every time Trump had a priority, Pakistan showed up with something to offer, crypto routes, rare earths, soldiers, whatever was needed to stay in the headlines and in Washington's good books.
Pakistan promised much and delivered little. But the promises were always enough to keep Islamabad relevant.
The cypher set all of this in motion. A government willing to put Trump family money ahead of its own national interest to keep the relationship alive.
Source: Drop Site News
یہ وہ دن تھا جب پوری قوم باہر نکلی تھی۔کراچی سے ملتان ۔لاہور سے خیبر تک تب خان صاحب نے اینڈ پر لوگوں کو واپس گھر بھیج دیا۔کہ اگلے لائحہ عمل کا انتظار کریں
اسی دن ڈٹ جاتے تو آج جیل میں نا ہوتے
یہ رہا میر جعفر آرٹیکل چھ کا حقدار
اس نے 2 اپریل 2022 میں جب ابھی عمران خان کی حکومت موجود تھی تب فارن آفس سے اور ملک کے سربراہ سے اجازت لئے بغیر روس کی مزمت کردی تھی
یہ ہے وہ غدار ��س نے سائفر میں امریکی احکامات پر عمل کیا اور ملک سے غداری کی
Summary:
Imran Khan is a political prisoner in Pakistan because of the Biden Administration.
Interference in foreign elections or in this case the vote of “no confidence” in 2022 is a result of failed foreign policy.
Will Trump/Rubio take any action to correct this injustice?