سماج کا ترازو اس قدر پلید ہو چکا ہے کہ زہد، تقویٰ، اطاعت اور تسلیم و رضا کی تمام تر صوفیانہ اصطلاحات صرف مفلوک الحال طبقے کا مقدر بنا دی گئی ہیں۔ جن کا بس چلتا ہے، وہ نظامِ عدل کو اپنے آستانوں پر سجائے بیٹھے ہیں اور جو بے نوا ہیں، ان سے کہا جاتا ہے کہ پاداشِ اعمال پر صبر کرو۔ اخلاقیات اور ایثار کی تمام تر نصیحتیں دراصل طاقتور کی جانب سے گھڑا گیا وہ جادوئی خول ہیں جس کے ذریعے کمزور کو اس کی مظلومیت پر فائز رکھا جا سکے، تاکہ وہ اپنے حقوق کا تقاضا کرنا ہی بھول جائے۔