How can we celebrate Eid when Danial Nasir a student has been missing for 3 months? His family continues to wait for his safe return How can we celebrate Eid in such pain? We demand the safe release of Danial Nasir and all other missing Baloch persons🙂
#ReleaseDanialNasir
قابض ریاست کی حراست میں، دانیا ل ناصر کی جبری گمشدگی کو طویل عرصہ گزر چکا ہے، مگر ان کے خاندان کو آج بھی ان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دی گئی۔ کسی بھی شہری، خاص طور پر ایک طالب علم کو بغیر قانونی کارروائی کے لاپتا کرنا بنیادی انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے خلاف ہے۔ عالمی برادری کو آواز اٹھانی چاہیے کہ ہر لاپتا شخص کے خاندان کو سچ، انصاف اور جواب دہی ملے۔
#ReleaseDanialNasir
#SaveBalichStudents
#BalochMissingPersonsDay
#EndEnforcedDisappearances
@BBCUrdu
Enforced disappearances constitute a grave breach of both constitutional safeguards and binding international human rights law.
The case of Danial Nasir is not an isolated incident it reflects a disturbing pattern of impunity. On what legal grounds is he being held? Why is he denied access to due process, legal representation, and a fair trial?
If the state possesses evidence, it must present it before an independent court. If not, his continued disappearance amounts to arbitrary detention and a blatant violation of fundamental rights.
Silence is complicity. Accountability is not optional it is an obligation.
#ReleaseDanialNasir
#SaveBalochStudents
#EndEnforcedDisappearances
#HumanRights
100 دن گزر چکے ہیں دانیال ناصر اب بھی جبری طور پر لاپتہ ہیں۔
یہ صرف ایک فرد کی گمشدگی نہیں، بلکہ قانون، انصاف اور انسانی حقوق پر ایک سنگین سوال ہے۔ عیدالاضحیٰ کی خوشیوں کے درمیان ہمارا گھر کرب، بےچینی اور اذیت کی تصویر بنا ہوا ہے، جبکہ ایک طالبعلم نامعلوم حراست میں ہے۔
ہم ریاستی اداروں سے فوری، شفاف اور جوابدہ کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں:
یا تو دانیال ناصر کو عدالت میں پیش کیا جائے، یا فوری طور پر باحفاظت رہا کیا جائے۔
مزید خاموشی ظلم کو تقویت دیتی ہے اب انصاف ناگزیر ہے۔
#ReleaseDanialNasir
#EndEnforcedDisappearances
#ThisEidAskForRelease
#SaveBalochStudents
How can we celebrate Eid when Danial Nasir a student has been missing for 3 months? His family continues to wait for his safe return How can we celebrate Eid in such pain? We demand the safe release of Danial Nasir and all other missing Baloch persons🙂
#ReleaseDanialNasir
عید الاضحیٰ کے اس مقدس موقع پرجہاں ہر طرف رونق ہےہمارا پُرونق اور پُرسکون گھر دانیال کی مبینہ جبری گمشدگی کےباعث شدید آزمائش اور ذہنی اذیت سے گزر رہاہے
ہم اربابِ اختیار سےمطالبہ کرتے ہیں کہ دانیال کی باحفاظت بازیابی کو یقینی بنا کر ہمیں اس نہ ختم ہونےوالےانتظار سےنجات دلائی جائے۔
ہماری عیداس دن ہوگی جس دن میرابھائی دانیال گھرلوٹ آئے گا
دنیابھر میں عیدالاضحیٰ کی تیاریاں ہیں مگرہمارا گھر دانیال کےبغیر شدیدذہنی اذیت میں مبتلاہےرمضان اورعیدِالفطربھی اسی انتظارمیں گزرگئےاوراب دوسری عیدبھی آ گئی
ہمارےلیے یہ عیدیں اب خوشی کی نہیں بلکہ انتظار اور صدمےکی علامت ہیں
ملک بھر میں بلوچ طلبہ خوف کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ دانیال کا علاج کے لیے جاتے ہوئے اغوا ہونا اس بات کی علامت ہے کہ بنیادی انسانی حقوق بھی محفوظ نہیں۔ ہم اس کی فوری اور بحفاظت رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
#ReleaseDanialNasir
غلام قوم کے لیے زندگی نہیں ہوتی، وہ صرف ظالم کی مرضی سے سانس لیتی ہے۔ جب چاہیں سانس لینے دیں، جب چاہیں اسے جرم بنا دیں۔ آج بلوچ اسی کرب سے گزر رہے ہیں جہاں سچ بولنا اور جینا دونوں جرم بن چکے ہیں۔
دانیال ناصر، ایک طالب علم، کو آج 98 دن ہو گئے ہیں زبردستی لاپتا ہوئے اور بلاوجہ قید میں رکھا گیا ہے۔ ہم اس کی فوری اور بحفاظت رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ #ReleaseDanialNasir
#ThisEidAskForRelease
#SaveBalochStudents
#EndEnforcedDisappearances
یہ سوچ کر ہی روح کانپ اٹھتی ہے کہ میرا بھائی پچھلے3 ماہ سے ذندان میں کس حال میں ہوگا
یاد رکھیے کہ سارے اسیر مجرم نہیں ہوتے۔ اگر کوئی الزام ہے بھی تو اسے عدالت کے سامنے پیش کرنا ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے
ہم حکومتی اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ دانیال ناصر کو فی الفور بازیاب کر کے۔
دانیال ناصر کی جبری گمشدگی پر بلوچ طلبہ اور سیاسی حلقے شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔ ریاست اپنے طرزِ عمل سے یہ تاثر دے رہی ہے کہ یہاں طلبہ کیلئے پُرامن جدوجہد اور اظہارِ رائے کی کوئی گنجائش نہیں۔
ایک طالبعلم کو دن دہاڑے لاپتا کرنا کسی مہذب ریاست نہیں بلکہ جبر کی علامت ہے۔ دانیال ناصر کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے۔
#ReleaseDanialNasir
#SaveBalochStudents
#ThisEidAskForRelease
ہماری عید تو اسی دن ہوگی جس دن میرا بھائی دانیال گھر لوٹ آئے گا۔۔
دنیا بھر میں مسلمان عید الاضحیٰ کی تیاریوں میں مصروف ہیں مگر ہمارا گھر شدید ذہنی اذیت کا شکار ہے رمضان،عید بھی اسی تڑپ میں گزر گئی اور اب دوسری عید بھی آ گئی،لیکن ہمارا پیارا دانیال اب تک واپس نہیں آیا۔
دانیال ناصر علاج کی غرض سے کراچی آیا تھاجسے 16فروری کو NCCI ہسپتال کے قریب سے مبینہ طور پر جبری لاپتہ کر دیا گیا۔ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 10-A ہر شہری کو منصفانہ ٹرائل کا بنیادی حق دیتا ہےمگر تین ماہ سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود ہمیں کوئی اطلاع نہیں دی جا رہی کہ دانیال کو کس جرم کی اتنی بڑی سزا دی جا رہی ہےجہاں ایک طرف دانیال کسی نامعلوم اذیت گاہ میں ہے اور دوسری طرف ہمارا پورا خاندان اس کی جبری گمشدگی کے باعث ہر لمحہ ذہنی کرب سے دوچار ہے۔
#ReleaseDanialNasir
#SaveBalochStudents
#ThisEidAskForRelease
#EndEnforcedDisappearances
ریاستیں اُس وقت کمزور دکھائی دیتی ہیں جب وہ کتاب، شعور اور پُرامن آوازوں سے خوف کھانے لگتی ہیں۔
بلوچستان میں طلبہ، سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے کارکنان کو مسلسل نشانہ بنانا صرف جبر نہیں بلکہ اختلافِ رائے کو خاموش کرنے کی منظم کوشش ہے۔
VBMP اُن ہزاروں خاندانوں کی آواز ہے جو برسوں سے انصاف، سچ اور اپنے پیاروں کی واپسی کے منتظر ہیں۔
طاقت کا اصل معیار عوام کی آواز دبانا نہیں بلکہ اُن کے حقوق اور عزت کا تحفظ کرنا ہوتا ہے۔
دنیا کو اب بلوچستان پر خاموشی توڑنی ہوگی، کیونکہ ظلم پر خاموش رہنا بھی ناانصافی کا حصہ بن جاتا ہے۔ #Balochistan #VBMP #HumanRights
#SaveBalochistan
انتظار۔۔۔٭
میں بھی یوسفؑ کی طرح کنویں میں ہوں،
یا اللہ!
مجھے بھی انتظار ہے مصر کے قافلے کا...
دنیال ناصیر کہاں ہے؟
ریاست اگر واقعی مضبوط ہوتی تو کتاب اٹھانے والے طلبہ سے خوفزدہ نہ ہوتی۔
بلوچ طلبہ کو لاپتہ کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں سوال پوچھنا جرم بنا دیا گیا ہے۔
ایک طالبِ علم کی گمشدگی صرف ایک خاندان کا دکھ نہیں،
یہ آئین، انسانی حقوق اور انصاف کے پورے نظام پر فردِ جرم ہے۔
تاریخ گواہ ہے
آوازوں کو دبانے والی ریاستیں وقتی خاموشی تو پیدا کر سکتی ہیں،
مگر مزاحمت کو ختم نہیں کر سکتیں۔
#ReleaseDanialNasir #SaveBalochStudents
Danial Nasir’s disappearance has turned our family’s life into a never-ending nightmare. We are caught between the grief of loss and the hope of his return, unable to move forward or find rest. The state must realize that when they take one student, they break the hearts and...
Across the country, Baloch students are facing a climate of fear that disrupts their education and personal safety. Danial’s abduction while seeking healthcare shows that even a student's basic right to life is being ignored. We demand that students be protected by the law and we ask authorities to ensure his safe release.
#ReleaseDanialNasir
#SaveBalochStudents
دانیال ناصر، NUML یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ایک تعلیم یافتہ نوجوان، علاج کی غرض سے کراچی گئے تھے۔
مگر 16 فروری 2026 کو NCCI ہسپتال کراچی کے قریب اُن کی مبینہ جبری گمشدگی نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آیا اس ملک میں قانون اور آئین ہر شہری کیلئے یکساں حیثیت رکھتے ہیں یا نہیں۔
ایک ریاست کی ساکھ صرف طاقت سے قائم نہیں رہتی بلکہ اُس اعتماد سے قائم رہتی ہے جو عوام اپنے اداروں پر کرتے ہیں۔ جب ایک تعلیم یافتہ نوجوان بغیر کسی شفاف قانونی عمل کے لاپتہ ہو جائے، اور اُس کے اہلِ خانہ کو معلومات تک میسر نہ ہوں، تو یہ صورتحال صرف ایک خاندان کا مسئلہ نہیں رہتی بلکہ ریاستی ذمہ داری، قانونی شفافیت اور انسانی حقوق سے متعلق ایک سنجیدہ قومی سوال بن جاتی ہے۔
تعلیم یافتہ نوجوان کسی ریاست کیلئے خطرہ نہیں ہوتے؛ وہ اُس کا فکری سرمایہ، سماجی استحکام اور مستقبل ہوتے ہیں۔ ایسے حالات جہاں طلبہ خود کو غیر محفوظ محسوس کریں، وہاں بےاعتمادی، اضطراب اور احساسِ محرومی میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ کسی بھی معاشرے کیلئے خطرناک علامت ہے۔
ریاستی اداروں کی اصل قوت قانون کی بالادستی، جوابدہی اور انصاف میں ہوتی ہے، نہ کہ خوف اور خاموشی میں۔
ہم حکومتِ پاکستان، متعلقہ ریاستی اداروں، انسانی حقوق کی تنظیموں، صحافیوں اور سول سوسائٹی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ دانیال ناصر کی فوری اور بحفاظت بازیابی یقینی بنائی جائے اور اُن کے اہلِ خانہ کو قانونی و انسانی بنیادوں پر مکمل معلومات فراہم کی جائیں۔
#ReleaseDanialNasir
#SaveBalochStudents
#HumanRights
@BBCUrdu@Ahmad_Noorani@ShahidAslam87@MohUmair87@SaddiaMazhar@PakSarfrazbugti
دانیال ناصر، National University of Modern Languages (NUML) کا گریجویٹ، اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایک بہتر پیشہ ورانہ مستقبل کا حق دار تھا۔ مگر 16 فروری سے وہ مبینہ طور پر خفیہ حراست میں رکھا گیا ہے، جہاں اسے نہ اپنے خاندان سے ملنے دیا جا رہا ہے اور نہ ہی قانونی معاونت تک رسائی دی جا رہی ہے۔
تعلیم یافتہ بلوچ نوجوانوں کو ان کی شناخت اور پس منظر کی بنیاد پر نشانہ بنانا صرف افراد پر حملہ نہیں بلکہ پوری ایک نسل کے مستقبل پر حملہ ہے۔
#ReleaseDanialNasir
#SaveBalochStudents
#EndEnforcedDisappearance
#HumanRights
@BBCUrdu@SaddiaMazhar@MohUmair87@Ahmad_Noorani@ShahidAslam87
It has been 3 months since Danial Nasir was forcibly disappeared and there is still no news about him No one should be taken away like this without accountability This is against basic human rights and justice
We ask Where is Danial Nasir?
#ReleaseDanialNasir#SaveBalochStudents