عمر بھی ضمیر اور جوتے کی مانند ہے،جس کی موجودگی کا احساس اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک وہ تکلیف نہ دینے لگیں۔وقت کو انسان جتنی بار تقسیم کرے گا زندگی کی رفتار اتنی ہی تیز اور نتیجاً موت اتنی قریب ہوتی چلی جائے گی۔اب جب کہ زندگی اپنے آپ کو کافی کے چمچوں اور گھڑی کی ٹک ٹک سے ناپتی ہے+