تاریخ کے اوراق پلٹائیں!
اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان سے زیادہ مقبول لیڈر بنایا تھا جس کے مرنے کے ۴۵ سال بعد بھی اُس کی نسلیں اُس کا نام لے کر حکومتیں کرتی رہی ہیں!!
اب مسئلہ یہ ہے کہ عمران خان کی نسلیں شاید حکومت نہ کرسکیں لیکن عمران خان کے نام پر پتا نہیں کتنے لیڈر، کتنے صحافی جھیلنے پڑینگے!!
Green, beautiful Islamabad vs. polluted, dirty Delhi
It proves the Indus Valley people were right to form a separate country from the Ganges River people in 1947.
🌿🏔️🇵🇰 vs. 🌫️🇮🇳
پروپیگنڈے اور الزام تراشی کا یہ طریقہ واردات بہت پرانا بھی ہے اور گھسا پٹا بھی۔ اگر آپ صحافی ہیں تو آپ کو اس وزیر مملکت کا نام بھی بتانا چاہئیے تاکہ اس سے جواب لیا جا سکے اور اس کے ساتھ کوئی ثبوت بھی ہونا چاہئے۔
اس قسم کی صحافت کا مقابلہ ریاست کو ضرور کرنا چاہئے۔ ان صاحب کو سائبر کرائم میں بلا کے ضرور نام اور ثبوت مانگنے چاہییں اور اگر نہ دے سکیں تو ان کو وہی سزا ملنی چاہئے جو کسی بھی جھوٹے اور بلیک میلر کی ہو سکتی ہے۔
ہاں اگر یہ وزیر مملکت کا نام اور بل بارے درست انفارمیشن دے دیں تو اس وزیر کو برطرف کرنا چاہیئے جو تھائی لینڈ میں مساج کے بل وصولی کے لئے جمع کرواتا ہے۔ جب وزیراعظم اعلان کرتے ہیں کہ وزرا کی بچت مہم میں تنخواہیں تک بند ہیں تو ایسے بلوں کا کیا جواز؟
دیکھیں سبزیاں اور فروٹ ایکسپورٹ کرنا بظاھر ہمیں سادہ لگتا ھے اتنا سادہ مسلہ نہیں
سبزیاں پیرش ایبل آئیٹم ھوتی ہیں۔ دو طرح بھیجی جا سکتی ھیں ایک بذریعہ شپ اور دوسرا ہوائی جہاز۔
شپ پر وقت لگتا ھے، وہی چیز بھیجی جا سکتی ھے جو چند دن تک فریش رہ سکے اور صرف فروزن (جمی ہوئی) سبزیاں ہی بھیج سکتے ہیں۔ فریز کرنے کی صرف ایک فیکٹری ہے کہیں لاھور میں۔ جب ہوائی جہاز کارگو سروس نہ ھو اور پی آئی اے ایک خاص وزن تک ہر جہاز میں اجازت نہ دے تو کیسے کوئی شخص بھیج سکتا ھے ۔ کینیڈا میں کافی لوگ پاکستان سے فروٹ اور سبزیاں درآمد کرنا چاہتے تھے ، ایمبیسی میں ھوتے ہوئے 2014 میں ہم نے بڑی کوششیں کیں لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔ بھارت سے بھنڈی جاتی تھی اور اسے بھارتی حکومت اور ائرلائن مدد فراہم کرتی تھی۔ چیک کریں ہماری آئر کارگو سروس کس کس ملک میں ہے، کب سے ھے، اس پر آج تک کتنا کام ھوا ھے
میاں صاحب کا دلی احترام ہے، مگر انہیں اپنی کیسیٹ بدلنے کی ضرورت ہے۔ ان کی عوام سے کیا توقعات تھیں؟ مطلب، کیا عوام کوئی خونی انقلاب برپا کر دیتے؟ احتجاج سے آج تک دنیا کے کس بڑے ملک میں طاقت کے مراکز میں سیاسی فیصلے ہوئے ہیں؟ پاکستان میں سیاست، طاقت کی تقسیم کا انسٹرومنٹ ہے جس میں طاقتور طبقات ہی کھیلتے ہیں۔ عوام تو ابھی شہری کے درجے تلک نہیں پہنچے۔ ان سے منظم طاقتوں کے خلاف کھڑے ہو جانے کا مطالبہ درست نہیں۔ حقیقت تو یہی ہے کہ جنرل باجوہ کو آپ نے اپوائنٹ کیا اور پھر اسی بدبخت نے آپ کے ساتھ جو کیا سو کیا۔ اور پھر اس کے بعد، اس نے شاید آپ سے معافی تلافی کی۔ اس سب میں، میں، یعنی مبشر، کہاں کھڑا تھا؟
قصہ مختصر: ریاست و وطن کے لیے ممکنات تلاش کیجیے، پلیز میاں صاحب۔ اور یہ والی کیسیٹ اب بدل ڈالیں۔