ایک ڈیلیوری بوائے پارسل لے کر گاہک کے گھر پہنچا۔ گاہک پارسل لینے کے لیے باہر آئی اور جیسے ہی ڈیلیوری بوائے نے اسے پارسل دیا، وہ خاتون کے ہاتھ سے گر گیا۔ اس پر خاتون نے غصے میں ڈیلیوری بوائے کو مارنا شروع کر دیا۔
غصے میں ڈیلیوری بوائے نے بھی خاتون پر ہاتھ اٹھا دیا اور اسے زمین پر گرا کر لاتوں اور تھپڑوں سے بری طرح مارا۔
غلطی خاتون کی تھی، لیکن ڈیلیوری بوائے کو بھی اس حد تک نہیں جانا چاہیے تھا۔
پیمز ہسپتال میں جو ہؤا!!
پوری تفصیل کے ساتھ خاتون نے بتایا!!
لیکن اس ایک سانحے پر اس حکومت کو فارغ کردینا چاہیے, یہ حکومت نے جرم کیا ہے, ہسپتال کے ACs ناجانے کتنے سالوں میں دیکھا تک نہیں ہوگا,
یاد رہے یہ ظالم ریجیم عاصم منیر کا مسلط کردہ ہے!!
مصطفٰی کمال وفاقی وزیر صحت ہیں، ان کے نیچے اسلام آباد میں صرف 2 اسپتال ہیں، ایک پمز اور دوسرا پولی کلینک۔ سابق وزیراعظم کا ٹیسٹ کرنا تھا، مشین خراب۔ آج 15 ماوں سے بچے چھن گئے۔ 3 اسپتال ٹھیک سے نہیں چل پا رہے، ابھی اس بندے نے نئے صوبے بنوا کر وہاں سسٹم ٹھیک کرنا ہے
میرا بھتیجا پمز میں پیدا ہوا تو میں وہیں موجود تھی ایک عورت بھاگتی ہوئی آئی اور اس نے بتایا کہ اوپر آگ لگ گئی ہے میں فوراً اوپر کی جانب بھاگی اور اپنے بھتیجے کو اٹھا کر وہاں سے نکالا وہاں پمز کا کوئی عملہ موجود نہیں تھا
میں جلدی سے اپنے بھتیجے کو لے کر نیچے آئی تو دیکھا کہ پمز کے عملے نے ہمیں ہی ایک کمرے میں بند کر دیا تھا میں نے ان سے کہا کہ اوپر آگ لگی ہوئی ہے مگر انہوں نے جواب دیا کہ آپ باہر نہیں جا سکتیں کیونکہ بات پھیل جائے گی
اس وقت بھی ان بے حس لوگوں کو اپنی بدنامی کی فکر تھی انہیں یہ خوف لاحق تھا کہ کہیں یہ خبر باہر نہ پہنچ جائے
شرم آنی چاہیے ایسے بے حس لوگوں کو
بچی کہتی ہے کہ میں نے عملے سے کہا کہ اوپر جائیں اور بچوں کو بچائیں مگر پمز کا کوئی اہلکار اوپر نہیں گیا وہ ان معصوم بچوں کو آگ میں جلتا ہوا دیکھتے رہے اور کسی نے انہیں بچانے کی کوشش نہیں کی
اس پورے واقعے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں اور غفلت کے مرتکب تمام ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرتے ہوئے انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جانا چاہیے