نیم سرکاری اعدادوشمار کے مطابق آزاد کشمیر میں مہاجرین کے 12 اراکینِ اسمبلی کو مجموعی طور پر سال کے تقریباً 21 یا 22 کروڑ روپے کے فنڈز ملتے ہیں اس رقم کو 12 MLA's میں تقسیم کریں تو ایک ایم ایل اے کو سال کا تقریباً پونے دو کروڑ روپے کا فنڈ ملتا ہے، جبکہ آزاد کشمیر کے 41 اراکینِ اسمبلی کو فی کس سالانہ 14 ارب روپے سے زائد کے ترقیاتی فنڈز ملتے ہیں، مطلب 41 ایم ایل ایز کو 5 سال میں مجموعی طور پر 500 ارب روپے سے زائد فنڈز ملتے ہیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ آزاد کشمیر کے تمام مسائل، کرپشن، بدعنوانی، گورننس کی ناکامی اور ادارہ جاتی خرابیوں کا بوجھ 12 مہاجر MLA's پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، گویا پورے نظام کی تباہی کی واحد وجہ یہ 21 یا 22 کروڑ روپے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام کو معیاری تعلیم، صحت، صاف پانی، بہتر سڑکیں، روزگار کے مواقع اور بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی ذمہ داری اُن 41 اراکین اسمبلی پر عائد ہوتی ہے جن کے پاس اربوں روپے کے وسائل اور حکومتی اختیارات موجود ہیں، اگر عوام آج بھی ناقص سروسز، بدانتظامی اور بنیادی سہولتوں کی کمی کا شکار ہیں تو اس کا جواب بھی وہیں تلاش کیا جانا چاہیے جہاں وسائل اور اختیارات موجود ہیں، اسی طرح عوامی ایکشن کمیٹی کے حامیوں سے بھی چند سوالات بنتے ہیں، بجلی سستی کرانے کا دعویٰ اپنی جگہ، لیکن کیا بجلی عوام کو بلا تعطل مل بھی رہی ہے؟ آٹے کی قیمت کم ہونا یقیناً خوش آئند ہے، مگر اس آٹے کا معیار کیا ہے اور اس کی نگرانی کس نے کرنی تھی؟ آزاد کشمیر اور پاکستان میں مقیم 20 سے 25 لاکھ مہاجرین کشمیر آپ کا فنڈ کیسے کھاگئے، آپ کا حق حکمرانی کیسے کھا گئے؟ آپ کے کل بجٹ کا بڑا حصہ تو وفاقی حکومت اپنی جیب سے ادا کررہی ہے کیونکہ آپ کا ریونیو جنریشن نہ ہونے کے برابر ہے، آزاد کشمیر کا سالانہ بجٹ 3 کھرب 10 ارب روپے سے زائد ہے، مقامی آمدن اور ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی رقم تقریباً 111 ارب روپے ہے، باقی 199 ارب روپے وفاقی حکومت مالی معاونت کی صورت میں فراہم کرتی ہے، آزاد کشمیر میں بجلی اور دیگر شعبوں میں ریلیف اور سبسڈیز کا بوجھ وفاقی حکومت اور پاکستانی عوام برداشت کرتی ہے، مسئلہ مہاجرینِ کشمیر کی 12 نشستوں کا نہیں، بلکہ اُس تعصب کا ہے جو مخصوص طبقوں کی جانب سے آزاد کشمیر اور پاکستان میں مقیم مہاجرین کشمیر کے خلاف پروان چڑھایا جا رہا ہے، اگر یہ رویہ جاری رہا تو مستقبل قریب میں آزاد کشمیر کے موجودہ سیاسی و آئینی تشخص پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، یہی وجہ ہے وفاقی حکومت آزاد کشمیر کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی تجویز پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے، پاکستان کے حکومتی اور عوامی حلقوں میں اب یہ بات شدت سے محسوس کی جارہی ہے کہ آزاد کشمیر کو ہرممکن ریلیف دینے کے باوجود یہ خطہ وفاق کیلئے مالی بوجھ بنتا جارہا ہے۔
7 جون 2026
🟤 خیبر پختونخوا میں گندم بحران : ناقص منصوبہ بندی کی قیمت
خیبر پختونخوا کی حکومت کرپشن اور منصوبہ بندی کے فقدان کی وجہ سے ہر سال گندم کی پیداوار میں ناکام رہتی ہے۔ نتیجہ یہ کہ صوبہ پنجاب اور وفاق پر انحصار کرتا ہے، پھر نالائقی چھپانے کے لیے مظلومیت کا ڈھونگ رچایا جاتا ہے۔
اس سال پی ٹی آئی حکومت نے بروقت وفاق اور پنجاب کو گندم کی طلب سے آگاہ تک نہیں کیا۔ نتیجتاً صوبہ شدید بحران کا شکار ہے۔
اعداد و شمار کچھ یوں ہیں:
♦️ صوبائی ضرورت: 53 لاکھ 7 ہزار میٹرک ٹن
♦️ مقامی پیداوار: صرف 16 لاکھ 32 ہزار میٹرک ٹن
♦️ خلا: 36 لاکھ 75 ہزار میٹرک ٹن
گزشتہ تین برسوں میں طلب بڑھ گئی مگر پیداوار 1.3 سے 1.5 ملین ٹن کے قریب ہی رہی۔ جدید طریقوں سے پیداوار 2.5 سے 3 ملین ٹن تک پہنچ سکتی تھی۔
اب وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی پنجاب پر الزامات لگا رہے ہیں، حالانکہ بحران بروقت خریداری، ذخیرہ اندوزی اور رابطے نہ کرنے کا نتیجہ ہے۔
‼️سب سے بڑا اسکینڈل: سرکاری گوداموں سے 1700 ٹن گندم غائب، 19 کروڑ 60 لاکھ روپے کا نقصان۔ ریکارڈ فراہم نہ کرنا احتساب کی ناکامی کی دلیل ہے۔
بیج کی صورتحال بھی دکھاتی ہے: ایک لاکھ ٹن درکار، صرف 5 ہزار ٹن دستیاب اور وہ بھی تاخیر سے۔ کاشت اکتوبر میں شروع ہوتی ہے، مگر قیادت دھرنوں اور سوشل میڈیا میں مصروف رہی۔
یہ صرف انتظامی ناکامی نہیں، بلکہ گہری ساختی ناکامی اور سیاسی ترجیحات کی غلطی ہے۔
The AJK Government has banned the Fraud Shaukat Mir's Joint Action Committee, citing its involvement in violent protests, attacks on security personnel, and threats to public order.
JAAC activities endangered peace and stability in the state.
Kashmiris stand against JAAC.
PTI punks have been unable to show any evidence of these massacres. Now their entire social media is beating the drums of another “massacre” and this time in Kashmir. They are doing what India has been unable to do for close to 8 decades now. IK is never coming out of jail and this entire PTI paraphernalia needs to rot and decay to its eventual demise.
Indian Youthia, Afghan, and Fraud Action Committee–paid propagandist accounts have started fake coordinated campaigns about civilians killed in AJK by Police and Rangers.
Reality: JAAC has been rejected by local youth; Youthia are circulating fake propaganda videos, images.
Iran has a plan, Israel has a plan, meanwhile U.S. which started this war on the behalf of Netanyahu has no plan whatsoever, U.S. has never been seen this helpless in the last 100x years.
The CMH Rawalakot armed mob attack by the Joint Awami Action Committee exposed its violent agenda.
A Rangers man was martyred and police injured. Such chaos only serves those seeking instability in AJK. Kashmiris want rights through peace, not violence.
🚨🇵🇰 BANNED JOINT ACTION COMMITTEE EXPOSED NOW
Shaukat Mir’s armed JAAC goons attacked CMH Rawalakot, martyring 3 Azad Kashmir Police personnel and 1 FC soldier, while injuring several others.
On the same day Pakistan eliminated 50+ TTP terrorists in KPK, JAAC attacked police.
JAAC is now an armed militant group.
“امن پسند” مظاہرین نے راولا کوٹ میں تین پولیس اہلکار اور ایک ایف سی کا جوان شہید کیا ہے اور ایسا کرکے انہوں نے اپنے مستقبل کا تعین خود کر لیا ہے وقت نے ثابت کیا ہے کہ گزشتہ دو سالوں میں انکو ٹھنڈا کرنے کی تمام سیاسی کوششیں عارضی ثابت ہوئیں ہیں
کشمیر میں بھی آپریشن گولڈسمتھ متحرک۔۔۔
🔺یہ بات تو روز اول سے عیاں تھی کے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے پیچھے بیرون ملک بیٹھی ہندتوا اور صہیونی طاقتیں تھیں۔ ان کا مرکز برطانیہ تھا۔ UKPNP کے را اور صہیونی ایجنسیوں سے روابط اور فنڈنگ بھی منظر عام پر آ چکی ہے۔
🔺اس گٹھ جوڑ نے آٹے چینی کا بہانہ بنا کر آزاد کشمیر کے حالات خراب کرنے کی بھرپور کوشش کی لیکن حکومت آزاد کشمیر، وفاقی اداروں اور آزاد کشمیر کے غیور عوام کی بردباری اور دانشمندی سے ان کے مذموم ارادے مٹی میں مل گئے۔
🔺میدان میں مکمل ناکامی کے بعد اب یہ لوگ دوبارہ اس میدان میں آ رہے ہیں جس سے انہوں نے عراق، لیبیا اور مشرق وسطی میں آگ لگائی۔ باوثوق زرائع کے مطابق برطانیہ کے زرائع ابلاغ BBC کے پاکستان میں موجود نمائندے اسوقت مظفر آباد آزاد کشمیر پہنچ کر جعلی وڈیو پیکجز اور خبریں بنا رہے ہیں۔ یہ پوری کوشش کر رہےہیں کہ جس آگ کو بجھایا جا سکے اس کو دوبارہ اژدہا والی پھونک ماریں۔
🔺برطانیہ اور اس میں موجود صہیونی جریدوں کا شیوا ہے کہ برطانیہ میں تو وہ ریاست مخالف ایک چھوٹی سے پوسٹ لگانے والے کو بھی بیس سال قید کر دیتے ہیں ہر دوسرے، خاص کر مسلم ممالک میں ہمیشہ انتشاریوں کو بچانے کے لیے ہیومن رائٹس کا چورن لے آتے ہیں۔
زمینی حقائق:
▪️عمر نذیر کا ڈرائیور شاہزیب فورسز کی فائرنگ سے نہیں بلکہ قافلے میں موجود کسی فرد کی گولی کا نشانہ بنا ہے۔ شاہزیب کو قتل کے بعد نامعلوم افراد گاڑی میں ڈال کر سی ایم ایچ کے دروازے پر چھوڑ کر فرار ہو گئے۔
▪️آج دن بھر سی ایم ایچ گیٹ پر دھرنا جاری رہا۔ مظاہرین کی جانب دے ایمرجنسی مریضوں کو بھی اندر جانے نہیں دیا جا رہا تھا۔ دھرنے میں مقررین نے قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو دھمکیاں دیتے ہوئے کہا 'غیر مقامی فورسز کو واپس بلایا جائے، ورنہ انہیں کاٹ کر دریائے جہلم میں پھینک دیں گے'
▪️مرکزی سٹیج سے تقاریر میں قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے اہلکاروں کو قتل کی دھمکیاں دی گئی۔
انتہائی معتبر ذرائع کے مطابق آزاد کشمیر کے متعدد اضلاع اور تحصیلوں کی انجمن تاجران نے ہڑتال کا بائیکاٹ کیا تھا جبکہ کور کمیٹی کے ممبران میں بھی اختلاف تھا۔ ریاست کی جانب سے بار بار مذاکرات کی دعوت دی جاتی رہی مگر ایکشن کمیٹی مذاکرات میں شریک نہ ہوئی۔
▪️اس وقت قتل کی ایف آئی آر درج ہوچکی ہے اقر لاش کا پوسٹ مارٹم ہوچکا ہے۔ ریاست جموں و کشمیر انتظامیہ کو معاملے کی تحقیقات کرکے اصل قاتلوں کو سامنے لانا چاہیے۔
▪️اس کے علاوہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی ہڑتال ٹمبر مافیا کی سہولت کاری کا سبب بن رہا ہے۔راولاکوٹ سے پانیولا کے درمیان سڑک پر مختلف جگہوں سے بیس چیڑھ کے دیو قامت درخت کاٹ کر راستے بند کئے گئے ہیں اور ٹمبر مافیا اس سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔
آزاد کشمیر انتظامیہ زبردست اقدام۔۔۔
آزاد کشمیر انتظامیہ نے کلعدم تنظیم “عوامی جوائنٹ ایکشن” کے دفاتر بند کرنا شروع کر دیے ہیں۔
یہ اقدام شرپسندی کے اڈوں کو ختم کرنے، امن و امان بحال کرنے اور قانون کی بالادستی قائم کرنے کے لیے نہایت ضروری اور درست فیصلہ ہے۔ ریاست اب مزید انتشار اور افراتفری برداشت نہیں کرے گی۔ یہ امن و استحکام کی طرف ایک اہم اور مثبت قدم ہے۔
عوامی جوائنٹ ایکشن نے مذاکرات اور مفاہمت کے تمام راستے بند کر کے حکومت کے نرم رویے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے عوام کو زبردستی احتجاج پر اکسایا، سڑکیں اور مارکیٹیں بند کروائیں، پولیس پر فائرنگ کروائی اور احتجاج کے نام پر اسلحہ اور تشدد کو فروغ دیا۔
بڑی خبر: آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ نے مہاجر نشستوں کے معاملے پر حکومتی مؤقف درست قرار دے دیا🙌
اب حکومت کو چاہیے ان بھارتی کٹھ پتلیوں کو خاندانوں سمیت بھارت پھینکا جائے تاکہ پرامن آزاد کشمیر کی دھرتی پر دوبارہ کوئی انتشاری شوکت نواز پیدا نہ ہو