امام حسین علیہ السلام
آگاہ ہو جاؤ! اس بدنسب ابن بدنسب (عبید اللہ ابن زیاد) نے مجھے دو راستوں کے درمیان لا کھڑا کیا ہے، ایک تلوار (جنگ) کا راستہ اور دوسرا ذلت و رسوائی (بیعت) کا راستہ۔ لیکن ذلت ہم سے بہت دور ہے
(ھیھات منا الذلۃ)
مقتل الحسین۴ ج2 ص7۔
بحار الانوار ج45 ص8۔
امام جعفر صادق علیہ السلام
کربلا کی مٹی ایک محترم اور محفوظ حرم ہے۔ جو شخص بھی کسی خوف یا مصیبت کی حالت میں وہاں پناہ لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ہر شر اور خوف سے امان عطا فرما دیتا ہے
کامل الزیارات ص272۔
روایت میں ہے کہ کر بلا میں لعینوں نے عرب میں کوئی ایسا لوہے کا ہتھیار نہیں چھوڑا جس سے مولا عباس ص کو نہ مارا ہو۔ بنی ہاشم میں سب سے دراز قد مولا عباس ص کا تھا اور سب سے چھوٹی قبر ِ مبارک آپ کی ہے
السلام علیک یا ابا الفضل العباس علمدار ص
امام جعفر صادق علیہ السلام
آسمان میں امام حسین۴ کے زائروں کے لئے دعا کرنے والوں کی تعداد ان کے لئے زمین پر دعا کرنے والوں کی تعداد سے بہت زیادہ ہے
کامل الزیارات باب40 ح2.
امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا کہ میرے جدِ امجد امام حسینؑ نے کربلا کے میدان میں فرمایا
جو شخص بھی ہماری مظلومیت کی پکار (ھل من ناصر ینصرنا) کو سنے اور ہماری مدد کو نہ پہنچے، اللہ تعالیٰ اسے اوندھے منہ جہنم کی آگ میں ڈال دے گا
امالی شیخ صدوق، ص131۔
امام جعفر صادق ص
“جب امام مھدی عج کا ظہور ہو گا تو اُن کے ناصرین کے لئے تلواریں آسمان سے نازل ہوں گی ان تلواروں پر ہر سپاہی کا نام اور اسکے باپ کا نام درج ہو گا۔”
غبیتِ نعمانی
امام جعفر صادق ص
جب مھدی عج ظہور کریں گے تو امام حسین ص کے قاتلین کے باقی افراد اپنے اجداد کے گناہ کی سزا پائیں گے
پوچھا گیااللہ کہتا ہے:کوئی کسی دوسرے کے گناہ کا بوجھ نہیں اُٹھاۓ گا
فرمایا:خدا نے درست فرمایالیکن امام حسین ص کے قاتلین کے افراد اجداد کے رویہ پر خوش اور فخر کرتے