آپریشن سرچ لائٹ 25 مارچ 1971 کی رات مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوج کی جانب سے شروع کیا گیا ایک بڑا فوجی کریک ڈاؤن تھا، جس کا مقصد بنگالی قوم پرست تحریک کو طاقت کے ذریعے کچلنا اور مشرقی پاکستان پر مرکزی حکومت کا کنٹرول بحال کرنا تھا۔ اس آپریشن میں ہزاروں شہریوں کے قتل اور بڑے پیمانے پر تباہی کے واقعات پیش آئے۔
1970 کے عام انتخابات میں شیخ مجیب الرحمٰن کی عوامی لیگ نے قومی اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل کی تھی، اس لیے اسے حکومت بنانے کا حق حاصل تھا۔ لیکن اقتدار کی منتقلی پر سیاسی قیادت کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے اور قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔ اس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان میں شدید احتجاج اور سول نافرمانی کی تحریک شروع ہوئی ۔
فوج نے ڈھاکا میں یونیورسٹی، پولیس لائنز، ایسٹ پاکستان رائفلز کے ہیڈکوارٹرز اور دیگر مقامات کو نشانہ بنایا۔ طلبہ، اساتذہ، پولیس اہلکاروں اور عام شہریوں کو قتل کیا گیا اسکے بعد یہ فوج کاروائی دوسرے شہروں تک پھیل گئی ۔
اسی کارروائی کے دوران شیخ مجیب الرحمٰن کو گرفتار کر لیا گیا۔ تاہم فوجی طاقت کے استعمال سے بنگالی تحریک ختم نہ ہوئی؛ مزاحمت بڑھتی گئی اور آزادی کی جنگ نے شدت اختیار
اس کا نتیجہ کیا نکلا؟
بنگالی مزاحمت میں اضافہ: فوجی آپریشن نے علیحدگی کی تحریک کو ختم کرنے کے بجائے مزاحمت کو مزید شدت دی۔
بنگلہ دیش کی آزادی کی جنگ: بنگالی آزادی پسندوں نے مکتی باہنی کے نام سے مزاحمت منظم کی اور جنگ کئی ماہ جاری رہی۔
پاکستان کی تقسیم: دسمبر 1971 میں بھارت کی فوجی مداخلت اور جنگ کے بعد پاکستانی فوج نے 16 دسمبر کو ڈھاکا میں ہتھیار ڈال دیے اور بنگلہ دیش ایک آزاد ملک بن گیا۔
تاریخ کا بنیادی سبق: 1970 کے انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت کو اقتدار منتقل نہ کرنا، سیاسی بحران کو فوجی طاقت سے حل کرنے کی کوشش، اور عام شہریوں پر تشدد، ان عوامل نے پاکستان کی تقسیم تک پہنچنے میں اہم کردار اد کیا ۔
جبکہ جی ایچ کیو کی تاریخ بتاتی ہے کہ جرنیلوں نے کبھی تاریخ سے سبق نہیں سیکھا اور جو لوگ اپنا سبق یاد نہیں رکھتے وہ فیل ہو جاتے ہیں اور تاریخ دہراتے ہیں ۔
No other measure captures more starkly the devastation, destruction and human misery that 75 years of the Pakistan Army's direct and indirect rule, its relentless abuse and misuse of power, and its stranglehold over Pakistan have inflicted upon our country and its people.
23% of Pakistanis, nearly 6 CRORE human beings, live in extreme and abject poverty.
The THIRD largest recorded number of people living in extreme poverty in the WORLD, after Nigeria and the Democratic Republic of Congo.
Now compare Pakistan's 23% with India at 2.6%, Sri Lanka at 2.7% and Bangladesh at 5.9%.
Look at those percentages.
Look at the millions of lives destroyed, the generations condemned to deprivation, denied basic nutrition, healthcare, education, opportunity and human dignity.
75 years of military domination, unconstitutional interventions, political engineering, elite capture and the systematic destruction of civilian institutions.
And this is what Pakistan Army has to show for it.
This is the human cost of the Pakistan Army's abuse and misuse of power.
This is its legacy.
That's why hanging Asim Munir and all his aiders and abettors, in and out of uniform, is essential to fix Pakistan
سب کو جیلوں میں ڈال دو، جھوٹے مقدمے بناؤ، ملک کو لوٹو اور پھر اپنی نام نہاد جیت کا جشن مناؤ۔
یاد رکھو، نہ یہ کرسیاں ہمیشہ رہیں گی، نہ ان پر بٹھانے والے۔ اکثر لوگ بھول جاتے ہیں کہ سب فانی ہے، باقی صرف اعمال اور اللہ کی عدالت ہے۔
#ReleaseAllPoliticalPrisoners
طالبان کی واپسی اور عاصم منیر :
دہشت گردوں کی واپسی کا فیصلہ کور کمانڈرز کی کانفرنس میں جرنل باجوہ کی صدارت میں ہوا اور عاصم منیر بھی پوری طرح شریک نظر آ رہے ہیں نیچے سرکاری ویڈیو میں ، سیاسی حکومت تو ظاہر ہے انکے حکم پر ہی چلتی تھی ان معاملوں میں -ان سب افسروں میں عاصم منیر سب سے تجربہ کار تھے کیونکہ ISI اور MI دونوں کے سربراہ رہے تھے - انکا مشورہ سب سے اہم تھا -
چار سال 3000 کے قریب TTP کے لوگوں کو بلا کر رکھا اور کوئی شکایت نہیں کی مگر جب خیبر کی حکومت کو زبردستی نکالنا تھا انکا بہانہ بنایا کے صوبائی حکومت کچھ نہیں کر رہی -ناکام خود ہوے اور ملبہ دوسروں پر- میر تقی میر نے اسی دن کے لیے لکھا تھا:
" ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی
چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا "
" کس کا کعبہ کیسا قبلہ کون حرم ہے کیا احرام
کوچے کےان باشندوں نے سب کو یہیں سے سلام کیا "
الزام لگا کر نکال دیا اب ذمے داری سر پر پڑی ہے تو دہشت گرد تو بھول گئے اور لگے ہیں منتخب عوام کے نمائندوں کو پکڑنے ، جیسے وہ کروڑوں لوگوں کے دل بدل دیں گے - کچھ ہی دن میں پختون آتے ڈال کا بھاؤ سمجھا دیں گے جیسے مجبور ہو کر بلوچ لوگوں نے وہ ٹھکائی کی ہے کے عورتوں کو بھی جیلوں میں بند کر دیا - خوف کا عالم دیکھیں -
عاصم منیر اپنے آپ کو ان حالات سے نہیں نکال سکتے ، اب اونٹ پہاڑ کے نیچے آ ہی گیا ہے -
Prominent Israeli rabbi Dov Lior issued a religious ruling allowing Israeli "settlers" to take olives from Palestinian land in the occupied West Bank, claiming that the land belongs to Jews and that harvesting the olives demonstrates Jewish ownership.
Lior argued that Palestinians have no ownership rights over the land or its crops, even in areas far from Israeli settlements.
Source: Israeli Channel 13
Prominent Israeli rabbi Dov Lior issued a religious ruling allowing Israeli "settlers" to take olives from Palestinian land in the occupied West Bank, claiming that the land belongs to Jews and that harvesting the olives demonstrates Jewish ownership.
Lior argued that Palestinians have no ownership rights over the land or its crops, even in areas far from Israeli settlements.
Source: Israeli Channel 13
🇮🇱 Netanyahu says Jews have the non-negotiable right to the lands of Israel:
" This is our homeland. It’s called Judea; that’s where Jews come from, and we’ve been attached to it for thousands of years.
The entire claim remains on a fraudulent premise — that Judea is to the Jews as France is to the French or Italy is to the Italians.
That premise is false.Categorically false.
France is the state of French citizens.
Italy is the state of Italian citizens.
Israel is the state of Israeli citizens — not of Jews worldwide.
Jews are not a nationality attached to a sovereign state.
They are a group of people dispersed across many countries, holding many citizenships.
Most Jews are not Israeli. They don't vote in Israel. They do not live under Israeli law. They owe Israel no political allegiance.
Zionism survives by erasing that distinction.
اغواء کی جو کہانی سامنے آ رہی ہے، وہ انتہائی خوفناک اور دل دہلا دینے والی ہے۔ بیٹے اور بیٹی کو ساتھ لے جانا، اور اغواء کے دوران اہلِ خانہ کے ساتھ جس قسم کا سلوک کیے جانے کی اطلاعات ہیں، وہ انتہائی قابلِ مذمت اور افسوسناک ہیں۔ طاقت کا اس قدر خوفناک استعمال ہوگا، کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔
مگر اقتدار اور طاقت کا نشہ ہمیشہ قائم نہیں رہتا۔ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے، فرعون کو بھی اپنے اقتدار اور طاقت پر بڑا ناز تھا، مگر وقت نے اسے بھی عبرت کی مثال بنا دیا۔
یاد رکھیے! وقت کا پہیہ بڑا ظالم ہے، یہ ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا۔ آج جو طاقت کے نشے میں دوسروں کو بے بس سمجھتے ہیں، کل حالات کا رخ ان کے خلاف بھی ہو سکتا ہے۔ وقت بدلتے دیر نہیں لگتی، اور تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ طاقت نہیں، کردار اور عمل کرتے ہیں۔
خاتون نے غیر قانونی گورنر راج اڑا کر رکھ دیا!
پختونخوا کے عوام 13 سال سے ووٹ دیتی آرہی ہے,
کیوںکہ پختونخوا کے عوام نے امن و ترقی پی ٹی آئی کے دور میں دیکھا ہے!
یہ گورنر راج اگر پنجاب میں لگائی جائے یا سندھ میں تو خون لیگ اور زرداری ڈاکو کیا کرینگے؟؟
میرے ملک کے مستقبل کا سوال نہ ہوتا، میرے لوگوں کی زندگیاں داؤ پر نہ لگی ہوتیں تو مجھے اس خدائ کے دعویدار مافیہ کی مراد سعید فوبیا پر ہنسی آتی۔
مئی جون ۲۰۲۲ میں مراد سعید دہشت گردی کے پھیلاؤ کا ریاست مخالف پراپگنڈہ کررہا تھا۔ لوگوں کو اُکسا رہا تھا۔
ارشد شریف پر جعلی ایف آئ آرز انہوں نے کاٹیں، اُس کو ہراساں کرنے ان کے ہرکارے اُس کے گھر تک گئے، قتل انہوں نے کیا۔ مطلوب ہوا مراد سعید۔
عمران خان کے گھر پر ان کے پہ در پہ حملے ناکام ہوئے تو مراد سعید کے لائے شرپسندوں نے زمان پارک میں ڈیرے ڈال رکھے تھے۔
جوڈیشل کمپلیکس میں عمران خان کی زندگی پر حملہ انہوں نے کیا عمران خان کے زندہ بچ نکلنے پہ قصوروار مراد سعید تھا۔ اس لیے وہ درکار تھا، ”زندہ یا مردہ”۔
۹ مئی کو کالر سے گھسیٹ کر تشدد کرکے اغوا عمران خان کو انہوں نے کیا۔ فالس فلیگ انہوں نے کیا۔ ذمہ دار مراد سعید تھا۔
۵ اکتوبر کو وزیر علی امین گنڈاپور لانگ مارچ لے کر آئے، روابط مراد سعید سے تھے۔ (پھر اُسی علی امین گنڈاپور کو ان کے ٹاوٹس یقین دہانیاں کراتے رہے کہ آپ کو وزارت سے ہٹانے کی سازش مراد سعید نے رچائی)۔
۲۶ اکتوبر کو گولی کیوں چلائی کا جواز یہ تھا کہ مراد سعید کنٹینر پر موجود تھا، بلکہ لانگ مارچ کے لیے افغانستان سے ۱۵۰۰ بندہ لے کر آیا تھا۔ وہی مراد سعید جس نے اپنی قوم کو ساتھ ملا کر انہیں مجبور کیا تھا کہ اپنے فوجی ٹرکوں میں، اپنے لائے ہوؤں کو اُس افغانستان چھوڑ کر آئیں جس کے ساتھ بارڈر کی سیکیوریٹی ان کی ذمہ داری تھی۔
عمران خان نے قبائلی نوجوان سہیل آفریدی کو وزیر اعلی نامزد کیا بندوقوں کا رُخ پھر مراد سعید کی جانب ہوگیا۔ روپوش مراد سعید نے جیل میں بیٹھے عمران خان سے اپنے دستِ راست کی منظوری کرالی۔
سہیل آفریدی امیدوں پر پورا نہیں اتر رہا تھا، تو ”عمران خان کو مروانا چاہتا ہے؛ جان نشینی کا طلبگار“؛ مراد سعید
۲۷ ستمبر کے لانگ مارچ کا اعلان ہوا تو ٹاؤٹوں نے جا کے اہل خانہ کو پیغام دیا کہ خان صاحب سے ملاقاتیں نہیں ہوسکتیں کیونکہ مراد سعید کو ان کا پیغام پہنچ جاتا ہے پھر وہ احتجاج پر زور دلواتا ہے۔ یعنی ان کے جائز حقوق چھیننے کا مجرم بھی مُراد سعید۔
خیبر پختونخواہ کے امن کا سودا انہوں نے کیا، یہاں کے وسائل کا اختیار انہیں چاہئیے تھا۔ خان صاحب کی رہائی کے بدلے عوام کے خون کی بلی یہ مانگ رہے تھے۔ مذاکرات ناکام مُراد سعید نے کیے۔
گورنر سے لے کر، وزیر داخلہ، وزیر اطلاعات، سیکٹر کمانڈرز سے لے کر، اُس کے میڈیائی پالتوؤں اور پارٹی کے اندر کے ٹاؤٹوں سے لے کر سوشل میڈیائ گھس بیٹیھوں تک۔ سب کی نااہلیوں، بے غیرتیوں اور غداریوں کے لیے موردِ الزام مراد سعید۔
بات میری قوم کے مستقبل، میرے لوگوں کی زندگیوں کی نا ہوتی تو مجھے آپ خدائ کے دعویداروں کی اس مراد سعید فوبیا پر ہنسی آتی۔
اصل توجہ طالب معاملات؛
تین سال سے زائد عرصے سے عمران خان جعلی کیسز میں سزا بھگت رہا ہے۔ ۹ مہینے سے عمران خان کو غیر انسانی قیدِ تنہائی میں ڈال رکھا ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق اُن کو ان کا بنیادی علاج کا حق نہیں دیا جارہا۔ ان کی اہلیہ، بہنوں، رشتہ داروں کو ناجائز قید کا سامنا ہے۔
پاکستان کی واحد، عوامی منتخب کردہ خیبر پختونخواہ کی حکومت کو اس دہشت گردی کا بہانہ بنا کر معطل کیا گیا جس کی واپسی کے منصوبوں کے متعلق ان کے آرمی چیف سے لے کر وزراء تک کے بیانات موجود ہیں۔ آج اسی کے بہانے پی ٹی آئ کو کرش کیا جارہا ہے۔
۴ کروڑ عوام کا منتخب نمائندہ، ان کا وزیر اعلی لاپتہ اور حبس بے جاء میں ہے۔ صوبائ اسمبلی کے سپیکر سے لے کر وزراء، منتخب نمائندگان، ایک سابق وزیر اعلی اور سیاسی کارکنان اغوا ہیں۔ ان کے عیال کے جان و مال غیر محفوظ ہیں۔
خیبر پختونخواہ کے عوام کی بلی چڑھا کر بیرونی آقاؤں کی خوشنودی مطلوب اور یہاں کی عوام اور ان کے وسائل کا سودا کیا جارہا ہے۔
عاصم منیر اور اس کے حواری ۲۵ کروڑ عوام کے مجرم ہیں۔ ان کی زندگیوں ان کے ملک اور اس کے وسائل کا سودا کرکے اپنی طاقت کو دوام دے رہے ہیں۔ ملک میں آئین و قانون اور بنیادی حقوق معطل ہیں اور بدترین فسطائیت کا دور ہے۔
باقی مافیہ کی تکلیف اور چیخ و پکار بھی بے معنی نہیں ہے، اکتوبر کا مہینہ ہے اور ایک مظلوم کا بہیمانہ قتل چار سال سے انہیں سکون کی نیند سونے نہیں دیتا میں نے تو کہا تھا کہ یہ خون تیزاب بن کر تمہاری رگوں میں اترے گا۔
🇮🇱 🇵🇸 Marked as press. Beaten anyway.
Heidi Levine, a Washington Post photographer, says about 50 masked men charged at her in the West Bank.
Witness videos show her being VIOLENTLY beaten on the ground.
She was covering Palestinians harvesting olives and was clearly marked as press. Levine sustained severe injuries during the assault and is now facing emergency surgery.
Netanyahu has condemned the violence but questioned the journalists version…despite her CLEAR physical injuries!
Writer: Bri
حماد اظہر سے 3 سال بعد ڈنڈا اور پٹرول بمب بر آمد کر نے والا فارم 47 کی جعلی وزیر اعلی مریم صفدر کی پنجاب پولیس کا انسپکٹر منصب خان
اس سائنسدان،مہان اور کلاکار تفتیشی افسر کو اب یقینی طور ستارہ امتیاز ملے گا کیونکہ حماد اظہر نے 3 سال وہ ڈنڈا اور پٹرول بمب جو 9 مئی کو اس کے پاس تھے،وہ سنبھال کر رکھے ہوئے تھے تاکہ پنجاب پولیس کا یہ مایہ ناز پولیس افسر منصب خان حماد اظہر سے برآمد کرے،اور حماد اظہر پر مال مقدمہ کے طور پر برآمدگی ڈال دے😂۔کیا کہنے جعلی وزیر اعلی مریم صفدر کی گلو بٹ پنجاب پولیس کے
@Hammad_Azhar@PTIofficial
کوئی پوچھے کہ جنرل صاحب پنجاب کا سب سے بڑا اثاثہ تو وہاں کے انسان ہیںHuman Resource وہ آپ نے کتنا develop کر لیا ہے؟ ذرا بارڈر کے دوسری طرف ھندوستانی پنجاب میں تعلیم کا معیار تو دیکھیں؟