کاش ہم اپنے قائد کے مزاج سے کچھ سیکھیں۔
کیا ہی اچھا ہو اگر بطور جمعیت کے ذمہ دار، کارکن اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہمارا رویہ بھی اپنے قائد کی طرح وسیع الظرف ہو۔ ہم بھی طنز کے نشتر برسانے سے، کم از کم عارضی طور پر ہی سہی، گریز کریں۔ ہم بھی اپنا نقطۂ نظر قائدِ جمعیت کی بصیرت، حکمت اور جماعتی پالیسی کی روشنی میں پیش کرنے کی کوشش کریں۔
کاش یہ صرف خواہش نہ ہو بلکہ ہم اس پر عمل بھی کریں۔
ہماری قیادت کے پاس دلائل ہیں، ایک واضح سیاسی سوچ ہے، وسیع تر بصیرت ہے اور حالات کے مطابق دوراندیش موقف ہے۔ مگر افسوس کہ یہ سب بہت سے لوگوں تک نہیں پہنچ پاتا۔ ان تک ہمارا وہ سطحی اور جارحانہ انداز پہنچتا ہے جس کے نتیجے میں جماعت کا سنجیدہ بیانیہ پسِ منظر میں چلا جاتا ہے اور بازاری انداز غالب آجاتا ہے۔
کیا ہم اس رویے کی حوصلہ شکنی نہیں کرسکتے؟
یہ ہم ہی ہیں کہ ہم میں سے ہی
کوئی بلا کا قوم پرست بنا ہوا ہے،
کوئی چوٹی کا سیاسی مخالف،
کوئی جماعت سے جانے والوں کے خلاف تلوار لیے کھڑا ہے،
کوئی اپنوں کی دستار اچھالنے میں بھی تامل نہیں کرتا،
کوئی اپنے ذاتی موقف کو جماعتی بیانیے پر مسلط کرنے کی سر توڑ کوشش کررہا ہے،
اور کوئی مولانا صاحب کے لچکدار، مدبرانہ اور حالات شناس موقف کو ہضم ہی نہیں کرپاتا۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ سب نے اپنے اپنے رخ متعین کر رکھے ہیں اور اس سے ایک انچ ادھر ادھر ہونے کا ارادہ تک نہیں ۔
لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان سب کے درمیان اگر کوئی چیز پسِ منظر میں چلی گئی ہے تو وہ جماعتی پالیسی، جماعت کا اجتماعی بیانیہ اور مولانا صاحب کی بصیرت پر مبنی سیاسی حکمتِ عملی ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ سوشل میڈیا پر ہماری ہر بات صرف ہماری ذاتی رائے نہیں سمجھی جاتی۔ جب ہم جمعیت علماء اسلام کے نام، وابستگی اور شناخت کے ساتھ گفتگو کرتے ہیں تو ہمارے الفاظ سے جماعت کی تصویر بنتی ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ ہم اختلاف بھی کریں تو تہذیب کے ساتھ، تنقید بھی کریں تو دلیل کے ساتھ، اپنا موقف بھی پیش کریں تو جماعتی پالیسی کی حدود اور قائد کی بصیرت کو سامنے رکھتے ہوئے۔
ہمیں اپنے قائد کی صرف تقریریں نہیں، ان کا مزاج بھی اپنانا ہوگا؛ صرف موقف نہیں، موقف پیش کرنے کا طریقہ بھی سیکھنا ہوگا۔
کیونکہ جماعت کا بیانیہ بلند آواز، طنز اور طعنوں سے نہیں؛ دلیل، حکمت، وقار اور وسیع الظرفی سے مضبوط ہوتا ہے۔
کاش ہم سب اپنے اپنے رخ سے تھوڑا سا پلٹ کر جماعت کے اجتماعی مفاد کی طرف دیکھیں تو کتنا ہی اچھا ہو ۔
#سمیع_سواتی
ٹوئٹر X کی ابتدائی رہنمائی
تحریر : سمیع سواتی
X اکاؤنٹ کیسے بنائیں، پوسٹ کیسے کریں اور اپنا اکاؤنٹ کیسے بہتر بنائیں؟
ساتھیو!
آج کی قسط خاص طور پر ان احباب کے لیے ہے جو ابھی X یعنی ٹوئٹر پر نئے ہیں، یا اکاؤنٹ تو بنا چکے ہیں لیکن اسے صحیح طریقے سے استعمال کرنا نہیں جانتے۔
کوشش یہ ہے کہ اس سلسلے کو صرف پرانے X صارفین تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ جو ساتھی آج پہلی مرتبہ X استعمال کررہے ہیں وہ بھی یہاں سے آسانی کے ساتھ شروع کرسکیں۔
اس لیے آج ہم بالکل بنیادی باتوں سے شروع کریں گے۔
سب سے پہلے X اکاؤنٹ کیسے بنائیں؟
اپنے موبائل میں X کی application انسٹال کریں یا X کی ویب سائٹ کھولیں۔
وہاں Sign Up کا اختیار ہوگا۔
آپ Email یا Phone Number کے ذریعے اکاؤنٹ بنا سکتے ہیں۔
اپنا اصل اور قابلِ رسائی Email یا موبائل نمبر استعمال کرنا بہتر ہے، کیونکہ بعد میں اکاؤنٹ کی حفاظت اور verification کے لیے اس کی ضرورت پڑسکتی ہے۔
اکاؤنٹ بناتے وقت:
اپنا نام لکھیں۔
اپنی تاریخ پیدائش درست درج کریں۔
Email یا موبائل نمبر verify کریں۔
ایک مضبوط Password بنائیں۔
پھر اپنا Username یعنی @ والا نام منتخب کریں۔
مثلاً:
@SamiiSwati
یہ Username آپ کی X پر شناخت ہوگا۔
کوشش کریں کہ نام مختصر، آسان اور یاد رہنے والا ہو۔
اکاؤنٹ بننے کے بعد سب سے پہلے کیا کریں؟
فوراً پوسٹیں شروع نہ کردیں۔
پہلے اپنی Profile مکمل کریں۔
اچھی اور واضح Profile Photo لگائیں۔
Header Photo لگائیں۔
اپنے بارے میں مختصر اور واضح Bio لکھیں۔
جےیوآئی سے وابستہ احباب اپنی اضلاع کی ٹیم کا ھیش ٹیگ جیسے #TeamJUISindh مناسب ہے کہ اسے بائیو میں لکھیں ۔
جےیوآئی پاکستان کی ویب سائٹ کا لنک شامل کریں۔
یاد رکھیں:
اچھی Profile دیکھنے والے کو پہلی نظر میں بتاتی ہے کہ آپ کون ہیں اور کس موضوع پر بات کرتے ہیں۔
اب Follow کیا ہے؟
X پر Follow کا مطلب ہے کہ آپ کسی دوسرے اکاؤنٹ کو اپنی Timeline میں دیکھنا چاہتے ہیں۔
مثلاً آپ کسی صحافی کو Follow کرتے ہیں تو اس کی نئی پوسٹس آپ کے سامنے آتی رہیں گی۔
آپ جماعتی قائدین یا سیاسی رہنماؤں، صحافیوں، تجزیہ کاروں، میڈیا اداروں، مقامی نمائندوں، تنظیموں اور اپنے دلچسپی کے دوسرے اکاؤنٹس کو Follow کرسکتے ہیں۔
لیکن ہر شخص کو اندھا دھند Follow نہ کریں۔
کوشش کریں کہ آپ کی Following بھی معیاری ہو۔
Follow Back کیا ہے؟
مثلاً آپ نے کسی شخص کو Follow کیا۔
اس نے بھی آپ کو Follow کرلیا۔
اسے Follow Back کہتے ہیں۔
لیکن ایک بات سمجھیں:
ہر شخص کو صرف اس لیے Follow کرنا ضروری نہیں کہ اس نے آپ کو Follow کیا ہے۔
ہمیں تعداد کے بجائے متعلقہ اور حقیقی audience بنانی ہے۔
اگر کوئی ساتھی آپ کے موضوعات میں دلچسپی رکھتا ہے، اچھا content بناتا ہے اور آپ کے مقصد سے متعلق ہے تو اسے Follow کرنا مفید ہوسکتا ہے۔
نئے اکاؤنٹ پر Followers کیسے بڑھائیں؟
اس کا سب سے آسان اور محفوظ طریقہ یہ ہے:
اچھا Content بنائیں۔
اپنے موضوع سے متعلق لوگوں کو Follow کریں۔
متعلقہ پوسٹس پر اچھے Replies دیں۔
اہم پوسٹس کو Repost یا Quote کریں۔
اپنی Profile مکمل رکھیں۔
اور مستقل مزاجی سے کام کریں۔
صرف اس مقصد کے لیے سینکڑوں لوگوں کو Follow نہ کریں کہ وہ لازماً Follow Back کریں گے۔
Follower کی تعداد بڑھانے سے زیادہ اہم یہ ہے کہ صحیح لوگ آپ کو Follow کریں۔
اب Post کیسے کریں؟
X پر Post کرنا بہت آسان ہے۔
اپنی Timeline میں Post کا اختیار منتخب کریں۔
اپنی بات لکھیں۔
ضرورت ہوتو تصویر،ویڈیو یادوسری media شامل کریں۔
پھر Post کردیں۔
لیکن پوسٹ کرنے سے پہلے ایک بار ضرور پڑھیں۔
دیکھیں:
الفاظ درست ہیں؟
نام درست ہے؟
خبر درست ہے؟
تصویر اسی موضوع کی ہے؟
کوئی غلط معلومات تونہیں؟
یہ چھوٹی سی عادت آپ کےاکاؤنٹ کوبہت سی غلطیوں سے بچاسکتی ہے۔
اچھی Post کیسی ہوتی ہے؟
اچھی Post ضروری نہیں کہ بہت لمبی ہو۔
کبھی دو تین جملوں کی مختصر بات بھی بہت مؤثر ہوتی ہے۔
کوشش کریں کہ پوسٹ کی پہلی لائن ایسی ہو کہ پڑھنے والا رک جائے۔
مثلاً:
"آج کے اجلاس میں ایک اہم بات سامنے آئی۔"
پھر مختصر انداز میں اصل بات بتائیں۔
اگر آپ کسی خبر پر اپنی رائے دےرہے ہیں توخبر اور اپنی رائے کو الگ رکھنا بہتر ہے۔
اگر تصویر ہے تو وہ واقعی اسی موضوع سےمتعلق ہو۔
اگر ویڈیو ہے تو کوشش کریں کہ اس کیساتھ مختصر وضاحت بھی موجود ہو۔
Reply کیسے کریں؟
کسی کی Post کے نیچے Reply کرنے کا مطلب صرف "ماشاءاللہ" یا "بالکل درست" لکھنا نہیں۔
اچھا Reply وہ ہےجس میں کوئی بات شامل ہو۔
مثلاً:
اپنی رائے دیں
کسی نکتے کی وضاحت کریں
کوئی سوال کریں
یا پوسٹ میں موجود بات کومزید آگےبڑھائیں۔
اچھا Reply بھی آپ کےاکاؤنٹ کی شناخت بناتا ہے۔
جاری ہے۔۔۔۔
سکھر: قائد سندھ علامہ راشد خالد محمود سومرو کا امن عالم اجتماع کے پنڈال کا دورہ
سکھر: جےیو آئی سندھ کے سیکریٹری جنرل و قائد سندھ علامہ راشد خالد محمود سومرو نے وفد کے ہمراہ امن عالم اجتماع 2027 کے پنڈال کا دورہ کیا اور انتظامات کا جائزہ لیا۔
اس موقع پر جےیو آئی مرکزی ناظم مفتی سعود افضل ہالیجوی، ضلع سکھر کے امیر مولانا محمد صالح انڈھڑ، ضلع شکارپور کے امیر مولانا عبداللہ مہر، ضلع جیکب آباد کے سیکریٹری جنرل مولانا سلیم اللہ خان بروہی، ضلع دادو کے سیکریٹری جنرل اظہار الحق صدیقی، ضلع سکھر کے سیکریٹری جنرل مولانا عبد الحمید مہر مفتی نصیر احمد بھٹو، مولانا محمد الیاس چنہ، مولانا جمال مصطفیٰ تینو، میر آصف علی مگسی، فقیر سکندر نقشبندی، حاجی عبدالغفار بھٹو، اسداللہ حیدری، جان محمد جمالی، مولانا جواد انڈھڑ سمیت دیگر ذمہ داران ان کے ہمراہ تھے۔
وفد نے اجتماع کے انتظامات، مختلف شعبہ جات اور پنڈال کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔
ڈیجیٹل میڈیا سیل، جےیوآئی سندھ
#JUIAmanAlamIjtima2027
#TeamJUISindh
جی ابابیلو!
ان دنوں یقیناً ایکس پر کچھ مزہ نہیں آ رہا ہوگا، ایک جیسی صورتحال ہے ، کیونکہ ہم تحریکی لوگ ہیں اور قیادت سے ملنے والی دلیل کی طاقت ہی ہمارا اصل زیور ہے۔
فی الحال جب غلاظت کے منہ بند ہیں تو کیوں نہ اس فرصت کو غنیمت جان کر اپنی صفوں کو مضبوط اور مربوط کریں؟
جیسے فیس بک پر ہم ایک مضبوط کمیونٹی بن چکے ہیں، ویسے ہی ایکس پر بھی ایک دوسرے سے جڑیں۔ روزانہ باقاعدگی سے سرگرم رہیں، جماعتی سرگرمیوں، قیادت کے مؤقف اور اپنی مثبت آواز کو بھرپور انداز میں آگے بڑھائیں۔
فالو اور فالو بیک دن میں 4،5 مرتبہ وقفے سے ضرور کریں۔ حد پوری ہوجائے تو کچھ دیر وقفہ، پھر دوبارہ سلسلہ جاری۔ ساتھ ہی ایک دوسرے کی مفید پوسٹس پر حقیقی لائک، ری پوسٹ اور ریپلائی بھی باقاعدگی سے کریں ۔
یاد رکھیں! فالوورز ایک دن میں ہزاروں نہیں بڑھیں گے، مگر تسلسل، نظم اور باہمی تعاون سے آہستہ آہستہ سب کے فالوورز ہزاروں میں پہنچ سکتے ہیں۔
میری دیرینہ خواہش ہے کہ ہر ابابیل کی آواز ہزاروں لوگوں تک پہنچے۔ اسی مقصد کے لیے فالوورز مہم شروع کرنے کا ارادہ ہے، لیکن کامیابی تب ہی ہوگی جب آپ سب بات مانیں گے اور عملی تعاون کریں گے۔
احباب مشورہ بھی دیں۔
ایسا کون سا آسان، منظم اور مؤثر طریقہ اپنایا جائے جس سے کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ ساتھیوں کے فالوورز بڑھ سکیں؟
آئیں، ایک دوسرے کا ہاتھ تھامیں، اپنی آواز کو مضبوط کریں اور ایکس پر بھی اپنی صفوں کو منظم و مربوط کریں۔
(نوٹ پوسٹ پوری پڑھیں اور سب تک پہنچائیں )
سب سے پہلے ان تمام اکاونٹس کو فالو کریں ۔
@MoulanaOfficial@juipakofficial@ziaurrehman76@SoomroOfficial
دیوبندی اس وقت تک دیوبندی اور حق پرست ہوتا ہے، جب تک یہ حکومت سے مدرسے اورمسجد کیلیے تعاون نہیں لیتا اور جس دن سے اس نے تعاون لیا یا ارادہ کیا اسوقت سے یہ دیوبندی نہیں بلکہ حکومت کے ہر شر کا وکیل اور مزدور محض ہوگا اوراسکے ہر غلط پروپیگنڈے کامشین ہوگا۔
قائد جمعیت علماء ہند مفتی ارشد مدنی صاحب.
مولانا کے حق سچ میں کیڑے نکالنے والوں آج محسن نقوی کے بیان پر خاموش کیوں ہو کیا زبان پر چالے پڑ گئے ہیں یا ابھی تک گلے سے غلامی کا پٹہ نہیں کھلا یا جس نے تمھارے ضمیروں کے سودے کئے ہیں ان کے اشارے کے منتظر ہو
اسی لئے تو کہتے ہیں کہ جن کے ضمیر بک چکے ہیں وہ سچ کا ساتھ نہی دے سکتے
آج محسن نقوی صاحب نے جو باتیں کی ھیں وہ 1973 کے آئین کے تحت ان کے لیے گئے حلف سے روگردانی ھے انکو فوری طور اپنی وزارت سے استعفی دے دینا چاھئیے یا وزیراعظم کو فی الفور انکو وزارت سے سبکدوش کردینا چاھئیے
#شہدائےجمعیت_باجوڑ#سالار_امن_مولانا#پیغام_امن_جمعیت#عوام_کو_جینے_دو
#ابابیلوں_کا_شکریہ
جنرل فیض حمید کا مولانا راشد سومرو کو فون !
کیا کہا ؟
خدا کیلئے مولانا فضل الرحمٰن صاحب سے میری بات کروائیں، مولانا فضل الرحمٰن نے کیا جواب دیا ؟
مولانا کے بھائی انجینئر ضیاء الرحمٰن نے سب کچھ بتا دیا۔
#سلیکشن_مافیا_نامنظور#مولانا_سے_معافی_مانگو#آئین_شکن_مقدس_گائے
#حلف_نبھاؤ_بارڈرجاؤ
#مولانا_شان_پاکستان