@bushalt977@RShahzaddk انگلینڈ سے انے کے بعد اپ لوگوں نے چور خان کو کہیں اور بارات لے جانے دیا ہی نہیں۔۔۔ ان کو ایک کی ضرورت ہوتی اور اپ جیسے یوتگئیے اپنی دس دس باجیاں پیش کرتے۔۔۔۔ بے شرموں
@RShahzaddk کسی غریب کے اوپر تو یہ بڑی دشوار پڑ سکتی ہے ہمارے ہاں بیس تیس خاندان مل کر ایک انجمن بناتے ہیں جو پھر گھر والوں اور مہمانوں کے کھانے کی ترتیب بناتے ہیں۔۔۔
میری رائے یہ ہے کہ مقامی طور پر جو لوگ اچھا کماتے ہیں تو اپنی طرف سے غریب گھرانوں کو ایسے سانحات پر مکمل سپورٹ کریں۔۔۔
پختون خواہ اور پاکستان کے اوپر صرف اسٹیبلشمنٹ کے خبر مسلط ہے مگر
ان کا سب کچھ لنگڑے قیدی کیلئے وقف ہے
جس سے پختونوں کی حالت مسلسل گرتی جارہی ہے۔۔۔
کوئی پرسان حال نہیں ۔۔۔ پختونوں کو اٹھنا ہوگا۔۔۔ورنہ ان کی نسلیں بھی رلتی رہے گی۔۔۔
کے پی میں عوام کے منتحب نمائندوں پر غنڈا پور کی حکومت کا جبر دیکھیں کیسے پشتونوں کو مار رہا ہے
آپ کو یہاں کوئی ڈالر کا پجاری یوٹیوبر یا صحافی احتجاج کرتا نظر نہی آئے گا
ان کو ظلم سے مسلہ نہی ان کا مسلہ ڈالر اور کمائی ہے
وفاقی حکومت ان بغیرت سیاسی ٹولے سے نمٹ لے گی کیوں کہ سپر پاوراور کورٹ حکومت کا سہارہ ہے اور یہ بات قوم کیلئے بہتر بھی ہے مگر کے پی کی صوبائی حکومت اور وہاں کے مجبور عوام کا کیا بنے گا جہاں کی صوبائی سطح کے سیاستدان غنڈا پور سے سہمے ہوئے ہیں اور قوم کیلئے ایک بات بھی نہیں کر سکتے
@JUIAnswersBack دیکھے جی صوبائی حکومت تو فقط اسٹیبلشمنٹ کی ٹٹو والی کردار ادا کررہی ہے ہمیں تو اسٹیبلشمنٹ کی ناک رگڑوانی تھی مگر ٹٹوؤں کو ہی آنکھ نہیں دکھا سکتے۔
اب ایسے حالات میں عوام کس کی طرف دیکھیں، یہ بات کرنا کہ حکومت زمہ دار ہے
تو یہ بات غلط ہے کیونکہ ہم تو اس حکومت کو مانتے ہی نہیں۔
پختونخوا میں گنڈا پور نے صحافت کی زبان کو تالا لگایا
کرم ایجنسی کے خراب حالات پر کوئی صوبائی حکومت سے سوال نہیں کرسکتا کہ آپ کو احتجاج کی پڑی اور یہاں خون کی ہولی جاری ہے
۔۔۔
یاد رہے کہ مرکز اور صوبہ دونوں ذمہ دار ہے