عمران خان کے حکم کی تکمیل — وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا نے حلف اٹھا لیا۔
میری جانب سے پاکستان تحریکِ انصاف کے تمام کارکنان اور عوامِ خیبرپختونخوا کو دلی مبارکباد!
یہ عوامی مینڈیٹ اور جمہوری استحکام کی تاریخی جیت ہے۔
#PTI#ImranKhan#CMKP#KhyberPakhtunkhwa#PTIKhyberPakhtunkhwa #Democracy #CMOath
نو منتخب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کا اپنے عہدے کا حلف لینے کے فوری بعد بانی چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کا فیصلہ۔
وزیر اعلیٰ کا عمران خان سے ملاقات کے لئے کل 16 اکتوبر کو اڈیالہ جانے کا فیصلہ۔
وزیر اعلی کی عمران خان سے ملاقات کے انتظامات کے لئے صوبائی حکومت نے وفاقی اور پنجاب حکومتوں کو باقاعدہ مراسلہ ارسال کردیا۔
اس سلسلے میں محکمہ داخلہ خیبر پختونخوا نے وفاقی سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری داخلہ پنجاب کو مراسلہ ارسال کیا۔
وزیر اعلیٰ کی عمران خان سے ملاقات کروانے کے لیے ضروری انتظامات کیے جائیں، مراسلہ
وزیراعلی سہیل آفریدی 🔥
قوم مزاحمت چاہتی ہے ، عمران خان کی رہائ چاہتی ہے ، ڈرون اٹیک کا خاتمہ چاہتی ہے ۔۔ آپ کھل کر کھیلیں انشاء اللہ ہم سب آپ کے ساتھ ہیں ۔۔
مولانا اپنا سیاست ختم کررہےہیں لیگی وفد نے مولانا کو کہا CM کا انتخاب غلط ہےآپ اپنے امیدوار کے ذریعے چیلنج کرےہم ساتھ دیں گے، مولانا چیلنج کرنےگیا۔ دوسری طرف عدالت نےکہا انتخاب بلکل درست ہوا گورنر حلف لیں، گورنر نےکہا میں آئینی زمہ داری پوری کروںگا۔ تو اس سب میں مولانا کوکیا ملا؟
"خیبر پختونخوا حکومت میں تبدیلی کا عمل احسن طریقے سے مکمل ہونے پر اپنے تمام ممبران اسمبلی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ خیبرپختونخوا کے اراکین نے جس طرح نظرئیے پر ڈٹ کر، بنا کسی اگر مگر کے میرے نامزد کردہ وزیر اعلیٰ کو ووٹ دئیے ہیں، وہ قابلِ ستائش ہے۔ میں علی امین گنڈاپور کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے بغیر کسی تردد کے ایک نہیں تین مرتبہ استعفیٰ دیا۔ یہ ہموار ٹرانزیشن اس بات کا ثبوت ہے کہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے نظرئیے کا بول بالا ہے۔
سہیل آفریدی کو خصوصی پیغام دینا چاہتا ہوں کہ وہ میرا اوپننگ بیٹسمین ہے لہٰذا اسے کھل کر کھیلنا چاہیئے۔
پاکستان تحریک انصاف ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے اس سے منسلک لوگوں کو صرف اس لیے غدار کہہ دینا کہ وہ کسی پالیسی سے متفق نہیں انتہائی خطرناک عمل ہے۔ اس بنیاد پر غداری کے سرٹیفیکیٹ بانٹنے اور ریاست مخالفت کا لیبل لگانے والوں کی دکان بند ہونی چاہیے۔
بطور سیاستدان ایسی کسی بھی پالیسی پر تنقید کرنا میرا حق ہے جو عوام کے مفاد ، ملکی سالمیت اور جمہوریت کے خلاف ہو۔ ایسی ہر پالیسی کی مخالفت کی ہے اور کرتا رہوں گا جو ملکی مفاد کے خلاف ہو۔خیبرپختونخوا میں عوام نے ہمیں مینڈیٹ دیا ہے اور ہم ڈی جی آئی ایس پی آر کو نہیں خیبرپختونخوا کی عوام کو جوابدہ ہیں۔ اس لیے ہم پاکستان اور صوبے کی عوام کے مفاد کے خلاف کبھی نہیں جائیں گے۔
میری فوج سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔ فوج بھی میری ہے، ملک بھی میرا ہے اور عوام بھی میری ہے۔ میرے اپنے خاندان کے کئی لوگ فوج سے تعلق رکھتے ہیں- 1965 کی جنگ میں ہمارے زمان پارک کے 8 میں سے 7 گھروں سے میرے خاندان کے لوگ فوج میں تھے اور ملک کا دفاع کر رہے تھے۔ مجھے افسوس ہوتا ہے جب دہشتگردی کی جنگ میں فوج کے سپاہیوں کا خون بہتا ہے مگر اس کے باوجود بد امنی قائم رہتی ہے اور دونوں طرف ہمارے لوگ مارے جاتے ہیں۔
تاریخ سے ثابت ہے کہ صرف ملٹری آپریشنز دہشتگردی کا حل نہیں ہیں۔ ہمارا اصولی موقف ہے کہ خیبرپختونخوا میں ملٹری آپریشنز قابل قبول نہیں ہیں کیونکہ اس میں “کولیٹرل ڈیمج” کے نام پر معصوم لوگ شہید ہوتے ہیں، اور وہ اپنے علاقوں سے دربدر ہوتے ہیں۔ کئی دہائیوں سے بڑے بڑے آپریشن کر کے دہشتگردی ختم کرنے کی کوشش میں ہیں مگر یہ ناسور ختم نہیں ہو رہا۔ ہر سال بہت سا قیمتی خون بہہ رہا ہے، کبھی فوج اور پولیس فورسز کے اہلکاروں کی شہادتیں ہوتی ہیں تو کبھی معصوم شہری دہشتگردی کے واقعات میں جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔
ہمیشہ کہا ہے کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے بند کمروں کے فیصلوں کی بجائے ایک موثر، سیاسی بصیرت پر مبنی جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ سیاسی نمائندوں اور خیبرپختونخوا حکومت کی موجودگی اور مشاورت کے بغیر بنائی گئی کوئی بھی پالیسی قابل قبول نہیں۔ دہشتگردی کے خلاف پالیسی بناتے ہوئے تمام اہم اسٹیک ہولڈرز سے بات کی جائے چاہے وہ مقامی قبائل ہوں یا خیبرپختونخوا حکومت، وفاقی حکومت یا افغان حکومت۔ افغانستان کے ساتھ بات چیت کے بغیر دہشتگردی کا مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔
خیبرپختونخوا کی نئی حکومت کو ایک مرتبہ پھر سے ہدایت کرتا ہوں کہ دہشتگردی کے خلاف تمام فریقین کے ساتھ بات کر کے موثر اور جامع حکمت عملی بنائیں تاکہ صوبے میں موثر اور دیرپا امن قائم ہو اور نتیجتاً معیشت بحال ہو۔
ہر جمہوری معاشرے میں عوام کو احتجاج کا حق حاصل ہوتا ہے۔ نہتے لوگوں پر تشدد کرنا اور سیدھی گولیاں چلانا کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔ تحریک لبیک کے ساتھ جو ظلم ہوا، تحریک انصاف تین سال سے یہی ظلم برداشت کر رہی ہے۔ 26 نومبر کو ڈی چوک میں بھی ایسے ہی خون کی ہولی کھیلی گئی جب ہمارے نہتے کارکنان پر سنائپرز سے گولیاں چلوائی گئیں۔ میں مریدکے سانحے میں بیہمانہ تشدد اور نہتی عوام کو گولیاں مارنے کی پر زور مذمت کرتا ہوں”
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام (14 اکتوبر، 2025)
نکل آیا وارداتیہ 🚨یہ وہ حرام خور ڈیزل ٹاوٹ ہے جو اپنے ہی دینی بھائیوں پر ہونے والے ظلم پر نہیں بولا ۔لیکن ن لیگ کے ساتھ مل کر KPK کے سہیل آفریدی وزیراعلی کے خالف عدالت جا رہا ہے ۔حرام خور کا کہنا ہے آفریدی کی سلیکشن غیر آئینی ہے .لیکن جو قتل وغارت سٹرکوں پر ہوا اس پر اس کی زبان کو لقوی مار گیا تھا ۔
سعد رضوی نے حکومت کا چھٹا کھٹا کھول کے رکھ دیا۔
فلسطین ہم پر بازی لے گیا جن گولیوں سے ان کو مارا گیا وہ اسرائیلی اسلحہ تھا ہمیں جن سے مارا گیا وہ پاکستان اسلحہ ہے💔
تحریک لبیک کے لوگوں پر گولیاں چلائی گئی، ان کو شہید کیا گیا ان کا ذمہ دار ن لیگ، پیپلزپارٹی اور ان کو ہینڈل کرنے والے ہیں۔نعیم حیدر پنجوتہ
@NaeemPanjuthaa
سعد رضوی کو اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ استعمال ہو چکے ہیں سعد رضوی surrender کر چکے تھے ماؤں کے دودھ کے واسطے دے رہے تھے اللہ رسول کے واسطے دے رہے تھے کہ safe exit دے دو گولی نا چلاؤ لیکن پھر بھی خون خرابا کیا گیا۔
ڈاکٹر شہباز گل
فوکس اڈیالہ جیل پر 🚨
عمران خان کچھ دن پہلے کہہ رہے تھے کہ 4 ستمبر سے مجھے 3 ہفتوں کے لیے ایک چھوٹے سے سیل میں بند کیا گیا تھا۔
چھ دن تک بجلی بند رکھی گئی