In a determined effort to eliminate terrorist threats and dismantle the khwarij and terrorist networks, over the last few days, Security Forces conducted a series of high tempo joint intelligence driven operations along with Police, as part of relentless counter terrorism campaign aimed at eliminating Indian Proxies, Fitna Al Khwarij and Fitna Al Hindustan. These operations have yielded major successes, inflicting significant blows to the terrorist networks killing forty nine terrorists/ Khwarij and effectively thwarting any attempt to undermine peace and stability.
In Khyber Pakhtunkhwa, twelve khwarij belonging to Indian sponsored Fitna Al Khwarij were sent to hell in multiple high tempo intelligence based operations in Bannu, North Waziristan, Orakzai and Khyber Districts. During these operations, a large quantity of explosive, IED detonating remotes, weapons, ammunition and motor cycles were recovered and destroyed.
In Balochistan, thirty seven terrorists belonging to Indian Sponsored Fitna Al Hindustan were effectively neutralised in ten intelligence based operations in Mastung, Mach, Khuzdar and Panjgur Districts. A significant quantity of weapons, explosive drums and remote detonation equipment were seized and destroyed.
The Security Forces of Pakistan remain resolute and unwavering in their commitment to defend the nation’s frontiers. Sanitization operation are being conducted to eliminate any other Indian sponsored Kharji/ terrorist found in the area as relentless Counter Terrorism campaign under vision “Azm e Istehkam” (as approved by Federal Apex Committee on National Action Plan) by Security Forces and Law Enforcement Agencies of Pakistan will continue at full pace to wipe out the menace of foreign sponsored and supported terrorism from the country.
پشین،سرانان بازار میں دن دہاڑے پولیس تھانے کو بموں سے اڑا دیا،جوکہ تشویشناک ہے۔سوال یہ ہے کہ صوبائی حکومت،ریاستی ادارے اور انتظامیہ کہاں ہیں؟دعوے کہاں گئے؟کہ بلوچستان میں سب کچھ اچھا ہے۔جواب دو ۔
دنیانیوز کے ایک ٹاک شو میں شرکت کی دعوت ملی،قبول کی،پھر فون آیا،کہا اوپر سے حکم ہے،کہ حافظ صاحب کو شو میں نہیں لینا۔
جناب۔۔یہ آئین کی خلاف ورزی ہے،اور آئین کی خلاف ورزی بغاوت ہے۔
کوئی بات نہیں حافظ صاحب۔۔۔میرے پر بھی پچھلے تین سالوں سے فیض حمید نیٹ ورک کی باقیات،مرزائی نیٹ ورک اورمُلحدین کے نیٹ ورک کے سر صدقے۔۔۔جنہیں میری ذات اور میرے پرو پاکستان،پرو ناموسِ رسالتٌ اور پرو ختمِ نبوتٌ نظریات سے الرجی ہے۔۔۔الیکٹرانک میڈیا میں اکثر جگہ پابندی ہے۔۔!!! میں نے کبھی سوشل میڈیا پر رونا نہیں رویا۔۔بلکہ سوشل میڈیا میں اٗس سے بھی بڑھ کر اپنی سوچ فکر اور بیانیے کو پروموٹ کررہا ہوں۔۔۔!!!!
سیاست اور معاشرت میں یہ “ہلکی پُھلکی بھوک میں ہلکا پُھلکا ٹک” لگا رہتا ہے۔۔۔!!!!
#شہدا_ہمارا_فخر_ہیں
#مولانا_انسان_بنو_شیطان_نہ_بنو
گودی عمارت کے مفتی آج کل سومنات مندر میں آپنا ڈی این اے ڈھونڈ رہے ہیں، خبر دار اگر پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی گودی عمارت گندی نسل نمک حرام
سومنات کے مندر توڑنے کی مہم میں محمود غزنوی کے سات جرنیل ہندو تھے اور یہ سب اس سونے کے مال غنیمت کے لالچ میں اکٹھے ہوئے تھے ….جب بات مال کی ہو تو کیا ہندو کیا مسلمان… کیا ملا کیا ساقی
مبارک ہوا افغانی گودی عمارت کا ڈے این اے آپ کے ابا واجداد کے ساتھ جا ملا سومنات کے مندر تو آپ لوگوں کے بڑوں کے تھے آپ تو پاکستان میں نام نہاد مسلمان بنے پھرتے ہو پیچھے شجرہ تو وہی سومنات کے مندر سے ہے آپ لوگوں کا
حافظ صاحب۔۔۔شہاب الدین غوری،احمد شاہ ابدالی،محمود غزنوی اور شیر شاہ سوری کے وقت میں اُن کا ڈی این اے مسلمانوں سے ملتا تھا۔۔لیکن اب پچھلی کچھ دہائیوں سے “ڈالرز مائی سین” کے ٹیکے لگوا لگوا کر یہ افغانی اپنا ڈی این اے “سومنات کے مندر” اور “رام رام ستے ہے” والوں کے ساتھ جوڑنے میں فخر محسوس کرنا شروع ہو گئے ہیں۔۔۔ویسے میری رپورٹ کے مطابق آپ بھی افغانی ہیں اور اب آپ پاکستانی بن چکے ہیں۔۔۔ماشاءاللہ آپ کا بیٹا پاک فوج میں بھی ہے۔۔۔حافظ صاحب اللہ نہ کرے اگر وہ اپنا فرض کی ادائیگی میں اپنے وطن پر قربان ہوجائے تو کیا مولانا فضل الرحمن کے شہداء کے حوالے سے غیر اخلاقی،غیر انسانی اور غیر شرعی بیانیے کے مطابق مطابق اُس کی قربانی تنخواہ اور پیٹی کے لیے ہوگی اور پاکستان اور پاکستان کی عوام پر تو اُس کا کوئی احسان نہیں ہوگا۔۔۔۔؟؟؟
حافظ صاحب۔۔۔میں آپ کے جواب کا منتظر ہوں۔۔!!
Let’s start healthy debate
#ہمارے_شہداء_ہمارا_فخر
حافظ صاحب۔۔۔شہاب الدین غوری،احمد شاہ ابدالی،محمود غزنوی اور شیر شاہ سوری کے وقت میں اُن کا ڈی این اے مسلمانوں سے ملتا تھا۔۔لیکن اب پچھلی کچھ دہائیوں سے “ڈالرز مائی سین” کے ٹیکے لگوا لگوا کر یہ افغانی اپنا ڈی این اے “سومنات کے مندر” اور “رام رام ستے ہے” والوں کے ساتھ جوڑنے میں فخر محسوس کرنا شروع ہو گئے ہیں۔۔۔ویسے میری رپورٹ کے مطابق آپ بھی افغانی ہیں اور اب آپ پاکستانی بن چکے ہیں۔۔۔ماشاءاللہ آپ کا بیٹا پاک فوج میں بھی ہے۔۔۔حافظ صاحب اللہ نہ کرے اگر وہ اپنا فرض کی ادائیگی میں اپنے وطن پر قربان ہوجائے تو کیا مولانا فضل الرحمن کے شہداء کے حوالے سے غیر اخلاقی،غیر انسانی اور غیر شرعی بیانیے کے مطابق مطابق اُس کی قربانی تنخواہ اور پیٹی کے لیے ہوگی اور پاکستان اور پاکستان کی عوام پر تو اُس کا کوئی احسان نہیں ہوگا۔۔۔۔؟؟؟
حافظ صاحب۔۔۔میں آپ کے جواب کا منتظر ہوں۔۔!!
Let’s start healthy debate
#ہمارے_شہداء_ہمارا_فخر
انتظار کیجئے کہ کب اور کتنے بجے مولانا جماعت کسی طرح اقتدار پوڑیاں اوپر چڑھے گی اور مولانا اپنے شہدا والے بیان سے یوٹرن لیں گے اور پھر یہی مولانا کا شوشل میڈیا ہمیں بتائے گا کہ شہداء تنخواہ کیلئے نہیں بلکہ مادر وطن حفاظت واسطے جان قربان کرتے ہیں
تھوڑا سا انتظار اور پھر یبن گٹیٹا