حکومت اور PMDC طلبہ کے ساتھ تاریخ مت دہرائیں۔
میڈیکل کے انٹری ٹیسٹ میں شفافیت یقینی بنائی جائے۔
شہری سندھ کے میرٹ کا قاتل کوٹہ سسٹم آج بھی زندہ ہے۔
22 ستمبر کو ہونیوالے میڈیکل ٹیسٹ میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے، ایک بار پھر تاریخ کو دہرایا گیا تو بھر پور احتجاج کیا جائیگا، شہری سندھ کے طلبہ کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑیں گے۔
یہاں راتوں رات PMDC کو PMC کر دیا جاتا ہے، کبھی وفاق تو کبھی صوبے کے نام پر طلبہ کو پریشان کیا جاتا ہے، یہ ایک تلخ تاریخ ہوچکی ہے کہ انٹری ٹیسٹ کی شفافیت پر ہمیشہ سوالیہ نشان رہتا ہے، کوٹہ سسٹم کے نام پر میرٹ کا قتل کردیا جاتا ہے،کراچی میں ہزاروں طلبہ کیلئے صرف 2 سینٹر قائم کئے گئے ہیں۔
ساڑھے 3 کروڑ کی آبادی کے شہر میں میرٹ کی نشستوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا،اگر اس بار بھی پرانی تاریخ کو دہرایا گیا تو مہاجر قومی موومنٹ ہر سطح پر طلبہ کی آواز کے ساتھ کھڑی ہوگی۔
♦️♦️♦️یہ بلڈوزرز،سرکاری مشینری،بکتر بند اور انگنت پولیس موباۂلیں۔۔۔۔وجہ بیت الحمزہ گرانے کی تڑپ و خواہش۔۔۔۔۔اور پھر کوئ اور ہیڈ کوارٹر بھی نہیں بچ سکا♦️♦️♦️
صدر کی ایک مارکیٹ 77 ارب روپے ٹیکس دیتی ہے اور ہمیں ہی بنیادی سہولتوں سے محروم رکھا جاتا ہے ہمارا ہی گلا دبانے کی کوشش کی جارہی ہے، میں کسی قومیت کے خلاف نہیں ہر شخص کو سینہ ٹھوک کر اپنی شناخت کو بتا نا چاہیے آفاق احمد منافقت کو پسند نہیں کرتا۔
شہر پر نادیدہ قوتوں نے مہاجر پٹھان مہاجر سندھی فسادات کرائے جو اس شہر قبضہ کرنا چاہتی ہے،
احتجاج میں شرکت کرنے والے تمام افراد کا شکریہ۔
فیصلہ کر لو کہ آزادی کا سودا نہیں کرینگے، آج آفاق نے فیصلہ کرلیا ہے، آخری سانس تک کے-الیکٹرک کو لگام ڈالے گا۔
آج کا احتجاج علامتی احتجاج ہے۔
جب عدالتیں سننے کو تیار نہیں تو اب فیصلہ سڑکوں پر ہوگا۔
جس دن آفاق احمد دھرنے پر بیٹھ گیا اور عوام کے الیکٹرک کے دفاتر کا محاسرہ کریگی اس دن کے-الیکٹرک کے دفاتر پر کراچی کے نوجوانوں کا قبضہ ہوگا۔
کالج کی لڑکی کا بس ڈرائیور کے ساتھ نکاح
اسکے ماں باپ نے بڑے لاڈ و پیار سے پرورش کی ، جوان ہوئی تو والدین کی رضا مندی کے بغیر کالج کی بس کے ڈرائیور سے خفیہ نکاح کر لیا ، باپ کو جب پتہ چلا تو بیٹی نے جواب دیا۔
میرا نکاح بو چکا ھے ، بہتر یہی ہے کہ آپ اپنے ہاتھوں مجھے رخصت کر دیں ورنہ میں خود ان کے پاس چلی جاوں گی؟
باپ نے کہا کہ اگر آپ کا یہ حتمی فیصلہ ہے تو آپ نے گھر سے جو کچھ لینا ھے لے لیں اور خود ہی اپنے شوہر کے پاس چلی جاؤ ، لیکن یہ یاد رکھنا ، اب آپ کا ہم سے اور ہمارا آپ سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ آپ ہمارے لیئے مر گئیں اور ہم آپ کیلئے وہ خوشی خوشی سامان پیک کرکے اپنے شوہر کے پاس چلی گئی۔ تقریبا آٹھ سال بعد اسکی ملاقات ایک قریبی عزیز سے ہوئی اور وہ اسے اپنے گھر لے آیا.
خیر خیریت دریافت کرنے کے دوران اس نے زار و قطار رونا شروع کر دیا۔ وہ سمجھا کہ شاید گھر کے حالات صحیح نہیں ہوں گے۔ والدین کی نافرمانی اور جدائی کا پچھتاوا اسے لائے جا رہا ہو گا۔ تمام گھر والے اسے دلاسے دینے لگے اور رونے کیوجہ دریافت کرنے لگے۔ بہت اصرار کے بعد اس نے رونے کی وجہ بتائی وہ کچھ یوں گویا
ہوئی۔
میں نے والدین کی نافرمانی کی ، ان سے تمام تعلقات ختم ہو گئے۔ اسکا پچھتاوا تو مجھے ساری زندگی رھے گا ۔ مالی لحاظ سے بھی مجھے کوئی پریشانی نہیں ھے۔ اللہ ک�� دیا سب کچھ ھے۔
لیکن میرے لیے جو سب سے زیادہ تکلیف دہ بات ھے وہ
کچھ
اور ھے میری صرف ایک ہی بیٹی ھے میرے شوہر جب نماز پڑھنے کے بعد دعا مانگتے ہیں تو میں نے چپکے سے کئی بار انکی
دعا سنی ھے وہ روتے ہوئے اور گڑگڑاتے ہوئے اللہ پاک سے صرف
ایک ہی دعا مانگ رہے ہوتے ہیں۔
يا الله !!!!! میری بیٹی ماں پہ نہ جائے .
یا اللہ !!!! میری بیٹی ماں یہ نہ جائے
یا اللہ !!! یہ اپنی ماں کیطرح گھر سے بھاگ کے کبھی شادی نہ کرے۔ یہ اپنی ماں کیطرح اپنے والدین کی عزت کو کبھی رسوا
نہ کرے۔۔۔۔
یہ دعا تمام لڑکوں اور لڑکیوں کیلیئے ایک پیغام ، ایک .
.... نصیحت اور ایک اعلان ھے ، اگر کوئی سمجھے تو۔۔
اللہ پاک کسی بھی ماں باپ کو اپنی اولاد کی رسوائی سے بچائے ، آمین