امام حسین ع نے ارشاد فرمایا۔
اگر تمہاری زندگی میں دو ایسے راستے آجائیں کہ ظالم تمہیں گردن اٹھانے نہ دے اور دین گردن جھکانے نہ دے تو تیسرہ راستہ گردن کٹانے کا راستہ ہے ۔
میں جو مہکا تو میری شاخ جلا دی اس نے
سبز موسم میں مجھے زرد ہوا دی اس نے
پہلے ایک لمحے کی زنجیر سے باندھا مجھ کو
اور پھر وقت کی رفتار بڑھا دی اس نے
میری ناکام محبت مجھے واپس کر دی
یوں مرے ہاتھ، میری لاش تھما دی اس نے
پڑھئیے گا ضرور پوسٹ اچھی لگے ریٹویٹ بھی کر دینا کچھ سبق زندگی آسان کر دیتے ہیں 💯
ایک خاتون بتاتی ہیں میری عمر چھتیس سال ہے. میری لوو میرج ہوئی تھی. ہم کلاس فیلوز تھے اور ایک دوسرے کو چھ سال سے جانتے تھے. ہم بہترین دوست تھے. دورانِ تعلیم ہی ہم نے فیصلہ کرلیا تھا کہ میرے شوہر کے جاب میں سیٹل ہونے کے بعد گھر والوں کی رضامندی سے ہم شادی کرلیں گے. میرے شوہر کی جاب کے بعد ہمارے گھر والے ملے اور ہماری شادی ہوگئی. اللہ نے ہمیں ایک بیٹے سے نوازا.
مجھے کالج کے زمانے سے ہی اندازہ تھا کہ میرے شوہر مزاج کے تیز ہیں. انہیں غصہ جلدی آتا ہے. لیکن ساتھ رہنے پر اندازہ ہوا کہ جب بھی انہیں غصہ آتا ہے ہمارا ہمیشہ جھگڑا ہوتا ہے. مجھے ہمیشہ یہ محسوس ہوتا تھا کہ وہ مجھے کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن سچ کہوں تو ایسا بھی نہیں تھا یہ میری غلط فہمی تھی. جب بھی جھگڑا زیادہ ہوتا میں اپنے بچے کو لے کر میکے چلی جاتی. میرے میکے والے مجھے سہارا دیتے، تسلیاں دیتے کہ اس نے تمہیں کیا لاوارث سمجھ رکھا ہے. میری بہنیں فون پہ میرے شوہر کو بے نقط سناتیں. بہرحال صلح صفائی ہوجاتی اور میں گھر آجاتی. لیکن یہ بات ہم دونوں جانتے تھے کہ ہم دونوں ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں اور میں اپنے شوہر کو کبھی بھی نہیں چھوڑنا چاہتی. لیکن ہر جھگڑے کے دوران انہیں یہ ضرور کہتی کہ اگر مجھے چھوڑنا ہے تو چھوڑ دیں. مجھے علم ہے کہ یہ سب میں صرف اپنی انا کو بلند رکھنے کے لیے کہتی تھی.
ایک بار ہمارا جھگڑا اتنا بڑھا کہ انہوں نے پہلی بار مجھ پہ ہاتھ اٹھایا اور گھر سے باہر نکال دیا، میں اچھی طرح جانتی تھی کہ اس بار بھی غلطی میری ہی ہے، کیوں کہ میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر اپنے شوہر سے بحث کرتی تھی اور یہ ضد اور بحث جھگڑے کی صورت اختیار کرتی تھی، بہرحال میں سیدھا اپنے میکے آگئی جیسے میں ہر بار آجایا کرتی تھی، اور میں جانتی تھی کہ میرے شوہر میری باتوں کو ضد کو میری محبت میں درگزر کرتے ہیں. اس بار پھر ویسا ہی ہوا جیسے ہمیشہ ہوتا تھا میرے شوہر آئے مجھے منایا اور واپس اپنے گھر چلی گئی. لیکن مجھے ہمیشہ یہ احساس ہوتا تھا کہ میرے والد والدہ بجائے مجھے تلقین کرنے کے مجھے روک کیوں لیتے ہیں مجھے کیوں نہیں کہتے کہ بیٹی کچھ بھی ہو اپنا مسلہ آپس میں سلجھایا کرو بات بات پے گھر نہیں چھوڑا کرتے، مجھے کیوں نہیں کہتے!
تین ماہ بعد ہمارا پھر سے جھگڑا ہوا اور میں ہمیشہ کی طرح بچہ اٹھا کر اپنے میکے چلی آئی. دو دن بعد مجھے خبر ملی کہ میرے شوہر اسپتال میں ہیں. میرے گھر والوں نے مشورہ دیا کہ مجھے انہیں دیکھنے جانے کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ میری بہنوں کا کہنا تھا کہ یہ سب ڈرامہ ہے تمہیں ایموشنلی بلیک میل کرنے کے لیے. وہ ایک ہفتہ اسپتال میں رہے. نہ میں ملنے گئی اور نہ ہی کال کی.
کچھ دنوں بعد مجھے طلاق کا سمن ملا، مجھے طلاق نہیں چاہیے تھی. مجھے اپنے شوہر سے محبت تھی. میں اپنا گھر خراب نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن میری انا آڑے آ رہی تھی. مجھے لگا کہ طلاق کا منع کرکے میں نیچی ہوجاؤں گی. میں نے انہیں کال کی کہ جب چاہیں طلاق دے دیں. میں بھی اس جہنم میں نہیں رہنا چاہتی.
کورٹ میں ہمارا کیس آسانی سے نمٹ گیا. اور اس طرح جولائی دو ہزار نو میں میری طلاق ہوگئی.
میرے شوہر نے کچھ ہی عرصے بعد دوسری شادی کرلی. ان کے بچے بھی ہوگئے لیکن میرے بچے سے ملنے اکثر آتے ہیں.
میں اپنے بچے کے ساتھ میکے میں رہتی ہوں، یوں سمجھیں کہ لاوارثوں والی زندگی گزار رہی ہوں، مجھے اب احساس ہوا ہے کہ شوہر کتنی بڑی نعمت ہے، کتنا بڑا سائبان ہے، کتنا بڑا سہارا ہے جسے میں کھو چکی تھی.
میرے تمام بہن بھائی اپنی اپنی زندگی میں خوش ہیں. میری وہ بہنیں جو خود فون کرکر کے میرے شوہر کو باتیں سنایا کرتی تھیں ان سے بدتمیزی کیا کرتی تھیں، وہ اب مجھے موردِ الزام ٹہراتی ہیں، تم اگر چاہتی تو اپنا گھر بچا سکتی تھی.
جب یہ بات میں اپنی ماں سے کہتی، تو ان کا جواب تھا: میرا تم پے کوئی زور تو نہیں تھا، سب میں تمہاری مرضی شامل تھی.
مجھے اب احساس ہوتا ہے کہ میں اپنی شادی بچا سکتی تھی اگر میں نے ہر بات میں دوسروں کو نہ انوالو کیا ہوتا، کبھی کبھی ہمارے خیرخواہ ہی ہمیں ڈبوتے ہیں. میں ابھی بھی یہ نہیں کہہ رہی کہ میرے شوہر یا میری غلطی نہیں تھی لیکن ہمارے جھگڑے اتنے بڑے نہیں تھے جن کی وجہ سے طلاق لی جاتی.
یہ میری درخواست ہے سارے کپلز سے کہ جہاں تک ہوسکے اپنے معاملے خود نمٹائیں. آپ کا خود سے بڑھ کر کوئی خیرخواہ نہیں...!! 💯 تحریر @Miannasirch
تصویر کا پوسٹ سے کوئی تعلق نہیں