سنو !!💗
عین ممکن ھے کہ ھم جنت میں بھی نہ مِل سکیں یہاں ذات کا مسئلہ ھے وھاں درجات کا۔ لیکن زندگی جب تک میرے اندر سانس لیتی رھے گی میرا دِل تمہارے لیے دھڑکتا رھے گا۔
"اٹک جیل کی بیرک نمبر 3 کا قیدی نمبر 804"
دریائے سندھ کے کنارے آباد اٹک جیل کی بیرک نمبر 3 کے قیدی نمبر 804!!! کیا تمہیں معلوم ہے تم کن بدترین جرائم کی سزا بھگت رہے ہو؟ نہیں تمہیں نہیں معلوم، کیونکہ تم شاید اس دنیا کے باسی نہیں ہو تمہارا جسم تو اس دنیا میں مقیم ہے لیکن تمہاری روح شاید دور کہیں تخیل کی پرواز کر رہی ہے ایک ایسی تخیلاتی پرواز جس تک ہماری دنیا کے باسیوں کی پُہنچ ہی نہیں ہے۔
تمہاری اس دنیا میں آمد شاید غلط ہوئی ہے تم بونوں کی سرزمین پر ایک قدآور شخص پیدا ہوئے ہو تمہارے جرائم کی فہرست بہت طویل ہے شاید تم نہیں جانتے لیکن میں بتا دیتا ہوں
تو سنو اے اٹک جیل کی بیرک نمبر 3 کے قیدی نمبر 804!!!
تم نے ایامِ نوجوانی میں ہی جرائم کی دنیا میں قدم رکھ دیا تھا جب ماں باپ نے تمہیں اعلیٰ تعلیم کیلئے انگلینڈ بھیجا تو تمہیں کیا ضرورت تھی کھیلوں کی دنیا میں قدم رکھنے کی؟ تم بھی اُن ہزاروں نوجوانوں کی طرح اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے وہاں کوئی اچھی نوکری کرتے اپنی آئندہ زندگی کو اپنے لیے آسودہ، آسان اور خوشحال بنا لیتے، کیا ضرورت تھی یہ عزم کرنے کی کہ میں نے اپنے مُلک کا نام پوری دنیا میں روشن کرنا ہے؟ کیا ضرورت تھی اپنے لیے ایک مشکل راستہ اپنانے کی؟ اس راستے میں کامیابی کوئی نوشتہ دیوار نہیں تھی بلکہ ناکامی کا چانس اُس سے کہیں زیادہ تھا۔
جاری ہے۔۔
"حصہ اول"
نوٹ: طویل تحریر کے پیش نظر اسے میں مختلف حصوں میں پیش کروں گا تاکہ قارئین بور نہ ہوں اور اُنکا تجسس برقرار رہے اگر آپ اس تحریر کے مزید حصے پڑھنا چاہتے ہیں تو میرے نوٹی فیکیشن آن کر لیں۔ شکریہ