”بڑا انسان وہ ہوتا ہے جو اپنی ذات کیلئے زندگی نہیں گزارتا بلکہ دوسروں کیلئے جدوجہد کرتا ہے۔ تاریخ نے کبھی امیر لوگوں کو یاد نہیں رکھا بلکہ صرف ان لوگوں کو یاد رکھا جو اپنے پیسے سے انسانیت کی خدمت کرتے ہیں۔“ کپتان عمران خان
ہماری عدلیہ اور ریاستِ مدینہ میں سب سے بہترین ہتھیار انصاف تھا، معاشرے میں انصاف تھا۔ لیکن ہمارے انصاف کا یہ لیول ہے کہ ہماری کورٹ کے تین ججز حکم دیتے ہیں کہ عمران خان صاحب کا علاج شفا انٹرنیشنل میں ہو، لیکن نہ قانون مانا جاتا ہے اور نہ عدالت کا حکم۔
ججز کو اپنے گریبان میں دیکھ کر سوچنا ہوگا کہ اس ملک کو کس طرف لے کر جا رہے ہیں۔ اگر آپ انصاف نہیں کر سکتے، اپنے فیصلے امپلیمنٹ نہیں کر سکتے، اگر امیر کے لیے ایک قانون اور غریب کے لیے دوسرا، طاقتور کے لیے ایک قانون اور کمزور کے لیے دوسرا ہے تو پھر قوم کیوں اپنا پیسہ اور پسینے کی کمائی ان فضول کاموں میں برباد کرے؟
اگر فیصلے بھی آپ ہی نے کرنے ہیں اور پارلیمنٹ، باقی ادارے بھی آپ ہی نے چلانے ہیں تو پھر دوسرے اداروں کا کام کیا ہے؟ بہتر ہے تنخواہیں بھی آپ لے جائیں اور سارے فیصلے بھی آپ ہی کریں۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا @SohailAfridiISF
”جیسے ظلم مجھ پر اور میری پارٹی پر کیے گئے، ہمارا قصور کیا تھا ؟ ہمارا قصور صرف یہی تھا کہ چوروں کا جو ٹولہ ملک پر مسلط کیا گیا، اسے ہم ماننے کو تیار نہیں ہیں۔“ کپتان عمران خان
#TorturingImranKhanIsACrime
ویڈیو میں نظر آنے والوں میں سے کسی کوئی ایک جو فارم 45 پر آیا ہو؟؟؟ کوئی ایک سرکاری افسر جو میریٹ پر لگا ہو ؟
تو پھر سانحات پر افسوس کیسا ؟ جب کوئی ایک بھی کی ریٹ پر نہیں آئے گا تو عوام کے ساتھ مخلص کیوں ہوگا ؟
Fire kills 14 newborn babies at PIMS. Just imagine the gravity of it. Losing your newborn because one of the country’s premier hospitals didn’t even have a proper system to handle a fire.
The country is run by monsters.
جب عمران خان صاحب کی حکومت کو گھر بھیجنا تھا تو رات 12 بجے عدالت لگا دی گئی،جب تحریک انصاف سے بلے کا نشان چھیننا تھا تو 24 گھنٹے بعد سپریم کورٹ میں کیس لگ گیا تھا اوراب عمران خان صاحب کی صحت کا معاملہ ہے تو 20 دن بعد کی تاریخ ڈال دی گئی ہے، یہ انصاف کادوہرا معیار کیوں
احمد حسن
ہیلتھ کارڈ لانے کا مقصد یہ تھا کہ سرکاری ہسپتال اب بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں ، آدھے مریض پرائیویٹ ہسپتالوں میں جانے چاہئیں لیکن عمران خان کی نفرت میں ہیلتھ کارڈ ختم کردیا گیا
ہیلتھ کارڈ کے لیے کہا گیا کہ پیسے نہیں ہیں لیکن میڈیا کو پچاس ارب سے زائد دینے ، گیارہ ارب کا جہاز خریدنے ، آئی پی پیز کو ہزار ہا ارب دینے ، آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے ججز کی تنخواہیں بڑھانے ، اراکین اسمبلئ، اسپیکر ، چیئرمین سینٹ اور وزرا کی تنخواہیں بڑھانے کے لئے پیسہ موجود ہے ، یہ اشرافیہ کا نظام ہے
جب عمران خان صاحب کی حکومت کو گھر بھیجنا تھا تو رات 12 بجے عدالت لگا دی گئی،جب تحریک انصاف سے بلے کا نشان چھیننا تھا تو 24 گھنٹے بعد سپریم کورٹ میں کیس لگ گیا تھا اوراب عمران خان صاحب کی صحت کا معاملہ ہے تو 20 دن بعد کی تاریخ ڈال دی گئی ہے، یہ انصاف کادوہرا معیار کیوں
احمد حسن
ڈاکٹر عظمی اور ڈاکٹر فیصل سلطان نے اپنی پریس کانفرنس میں صرف اس دھوکہ دہی کا واقعہ بیان کیا جو دھوکہ ان کو رات دیا گیا، کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہ اس بے دردی سے عدالت کی حکم عدولی کریں گے، علیمہ خان