میں بھی زخموں کی نمائش میں کھڑا ہوں لیکن
روح کے زخم کوئی مجھ کو دکھانے نہیں دیتا
چاہے اک اور محبّت ہی ضروری ہے مگر
دل تیرے بعد کسی سے بھی نبھانے نہیں دیتا
سانس لیتے ہوئے بھی ڈرتا ہوں
یہ نہ سمجھیں کہ آہ کرتا ہوں
بحرِ ہستی میں ہوں مثالِ حباب
مٹ ہی جاتا ہوں جب ابھرتا ہوں
یہ بڑا عیب مجھ میں ہے اکبرؔ
دل میں جو آئے کہہ گزرتا ہوں
#اکبر_الٰہ_آبادی
ابھی اک شور سا اٹھا ہے کہیں
کوئی خاموش ہو گیا ہے کہیں
جو یہاں سے کہیں نہ جاتا تھا
وہ یہاں سے چلا گیا ہے کہیں
میں تو اب شہر میں کہیں بھی نہیں
کیا مرا نام بھی لکھا ہے کہیں
اسی کمرے سے کوئی ہو کے وداع
اسی کمرے میں چھپ گیا ہے کہیں
جون ایلیا#
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ
آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ
کچھ تو مرے پندارِ محبت کا بھرم رکھ
تو بھی تو کبھی مجھ کو منانے کے لیے آ
اب تک دلِ خوش فہم کو تجھ سے ہیں امیدیں
یہ آخری شمعیں بھی بجھانے کے لیے آ
#احمد_فراز