کل ملا کر کہانی یہ ہے۔
عمران خان نے عاصم منیر کو ذہنی مریض کہا تو درست کہا، عاصم منیر نے عمران خان کو ذہنی مریض کا تو زیادتی ہے۔
عمران خان نے نواز شریف اور زرداری کو کرپٹ کہا تو درست کہا، دوسری طرف سے عمران خان کو کرپٹ کہا گیا تو زیادتی ہے۔1/1۔
پشاور میرا ہے اور میں پشاور کا ہوں میں جہاں بھی رہوں پشاور کے لوگوں اور پشاور سے میری محبت نہ کوئی کم کر سکتا ہے نہ ہی پشاور کے لوگوں سے مجھے کوئی جدا کرسکتا ہے، مجھے اللہ کے کرم سے پشاور نے بہت عزت دی میں اسی مٹی کا ہوں۔
میں عوامی نیشنل پارٹی کا حصّہ تھا، حصّہ ہوں، اور آخری دَم تک حصّہ رہوں گا، ثمر بلور کے ذاتی فیصلے سے میرا تعلق نہیں۔
بلور خاندان نے قُربانیاں باچا خان بابا اور ولی خان بابا کی راہ پر چلتے ہوۓ دی ہیں اور آگے بھی اُنہی کے راستے پر انشاءاللّٰه چلتا رہوں گا۔
@BBCUrdu ہمیں تو ساری عمر یہ بتایا گیا تھا کہ شیعہ کافر ہے لیکن آج حقیقت بلکل اسکے برعکس ہے، ایک شیعہ ملک کافروں پرحملہ کر رہا ہے اور خود کو مسلمان کہنے والوں کے ممالک کافروں کی امداد کر رہے ہیں اور انکی راہ ہموار کر رہے ہیں، تو آخر کافر کون ہوا؟
ہمیں تو ساری عمر یہ بتایا گیا تھا کہ شیعہ کافر ہے لیکن آج حقیقت بلکل اسکے برعکس ہے، ایک شیعہ ملک کافروں پرحملہ کر رہا ہے اور خود کو مسلمان کہنے والوں کے ممالک کافروں کی امداد کر رہے ہیں اور انکی راہ ہموار کر رہے ہیں، تو آخر کافر کون ہوا؟
اس قوم کو کیسے سمجھاؤ ہم نے سر ہتھیلی پر رکھ کر ایک بیانئے کے خاطر انکی جنگ لڑ رہے ہیں مگر اس قوم کو شعور ہی نہیں کہ یہ تخت اسلام آباد تخت لاہور کے لیے لڑ رہے ہیں
عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر محترم ایمل ولی خان
@AimalWali
کیا خیبر پختونخوا حکومت کے پاس اس کا کوئی جواب ہے؟ بیرسٹر سیف الزام تراشی چھوڑیں اور ذمہ داری قبول کریں! مرکزی حکومت نے پی ٹی آئی حکومت کے حالیہ دعوؤں کو صاف مسترد کر دیا ہے کہ پی ٹی ایم کے خلاف کریک ڈاؤن وفاقی حکومت کی ہدایت پر ہوا تھا۔ وفاق نے واضح کیا ہے کہ اس معاملے میں کوئی حکم ان کی طرف سے نہیں دیا گیا، تو پھر خیبر پختونخوا حکومت اس کارروائی کا جوابدہ کیوں نہیں ہے؟
#StateTerrorismAgainstPashtunJirga
#StateAttackedPashtunJirga
پشتون جرگے کے خلاف ریاستی درندگی مسلسل جاری ہے۔
خیبر پختونخوا پولیس نے ملاکنڈ یونیورسٹی کے 16 سٹوڈنٹ تنظیموں کے مشران کو پشتون جرگے کی حمایت پر گرفتار کر دئے۔
پولیس نے طلباء پر تشدد اور غداری کے FIRs درج کر دئے ہے۔
ایمل خان، عباس، شادمان، زاهد، واحد ودود، فیضان، اسدالله قاسمي، خیبر یوسفزئی، طارق شا، اسد خان، اصیل خان، حیدرخان، ازل خان، اتل خان، عبدالرزاق، احسان اللہ اور دیگر طالب علم اس وقت خیبر پختونخوا پولیس کے زیر حراست ظلم جبر سہہ رہے ہیں۔
اي ده پيرنګی تنخواه داره پوليسه ته په خدائ که هيڅ هم وکړې.دا سړئ په بار بار درته وائي چی جرګه به په هر حالت کي کیږی او په دې تر موږ تاسو شه خبر ياست چی ده مشر خبره ده کاڼی کرشه وی.انشاالله
خو بيا هم تاسو.
@ManzoorPashteen ✌️❤️
#PashtunNationalCourt11October#StateAttackedOnPtm