@GlobalReportNow You should don’t trust this government. You know very well that this government is slavers of American government and they all against Imran khan .
“اس ملک کے ججوں کو خود پر شرم آنی چاہیے۔ ہم نے بارہا عدلیہ سے رجوع کیا، لیکن انہوں نے اپنی ذاتی مراعات کے عوض اپنے ضمیر کا سودا کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنی دیانتداری بیچ ڈالی ہے۔
وہ جانتے ہیں کہ وہ مجھے توڑ نہیں سکتے، اس لیے وہ میری اہلیہ کو اذیت پہنچاتے ہیں۔ صرف مجھے بلیک میل کرنے کے لیے ججز بشریٰ بی بی کے ساتھ اس قدر غیر انسانی سلوک کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟ انہیں دن کے 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، اور پورے ہفتے میں مجھ سے ملاقات کے محض 30 منٹ دئیے جاتے ہیں، اور اکثر تو اس ملاقات پر بھی پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ اسلام میں عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو نقصان پہنچانے کی ممانعت ہے۔ ان کے مقاصد بالکل واضح ہیں۔
جج معاشرے میں انصاف کے ذمہ دار ہوتے ہیں، لیکن اس ملک کے ججز کو خود پر شرم آنی چاہیے” -
ناحق قید سابق وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنے بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران پیغام
(21 مارچ، 2026)
March 15 became the International Day against Islamophobia because of Imran Khan.
The leader who fought the cause of Muslims worldwide is illegal imprisoned in Pakistan.
Imagine stepping into a space where 172,000+ driven creators, experts, and entrepreneurs are building thriving communities that collectively generate over $1 billion every year.
https://t.co/9fnnV7AzbS
میں یہ نغمہ شہید علی بلال، جسے پیار سے ظلِ شاہ کے عُرف سے جانا جاتا تھا، سے منسوب کرتا ہوں۔ وہ ایک مخصوص انداز میں اپنے وطن سے محبت کرتاتھا۔ دورانِ حراست تشدد سے اسکی اذیت ناک موت ان پستیوں کو ظاہر کرتی ہے جن میں ہماری کرپٹ،بےرحم اور ظالم مقتدر اشرافیہ اتر چکی ہے۔
وہ جوامریکی مطالبات کےسامنےسرِتسلم خم کرے؛جوروس سےمعاہدوں سے بازرہے اورچین کیساتھ ہمارےسٹریٹیجیک اشتراک میں کمی لائے۔اگرایک وزیراعظم پاکستان کی خودمختاری+آزادخارجہ پالیسی پراصرارکرتاہےتواسےہٹایا جائیگا اوراسکی جگہ شہبازشریف جیسےایک غلام مجرم کو وزراتِ عظمیٰ پر بٹھایاجائےگا
انا لله و انا علیه راجعون
دنیا کے دو ارب مسلمانوں میں سے صرف یہ ایک 86 سالہ مسلمان زندہ تھا، جس نے خم ٹھونک کر استعمار اور سامراج کی سب سے بڑی طاقت کا نہ صرف انکار کیا بلکہ اپنی قوم کو مزاحمت کیلئے تیار کیا۔ محلات، پُر تعیش زندگی، شان و شوکت کو ٹھوکر مار کر درویشی کی زندگی گزاری، نہ کوئی بیرون ملک اثاثہ، نہ فیکٹریاں، نہ رئیل اسٹیٹ، پہلے بہو اور داماد شہید ہوئے اور پھر خود، وہ طاغوت کیلئے موت کا سایہ اور مستضعفین زمانہ کیلئے امید تھے، زندگی وہ ہے جو انہوں نے گزاری اور موت کی سعادت بھی وہ ہے جو انہیں طاغوت سے ٹکرا کر نصیب ہوئی نہ کہ کسی محل کے بستر پر۔ کچھ لوگ ایسی زندگی گزارتے ہیں کہ زندگی کو اُن سے گِھن آتی ہے لیکن خامنہ ای جیسے لوگ جب زندہ ہوں تو زندگی ان پر رشک کرتی ہے اور جب مریں تو موت بھی اشک بہاتی ہو گی
جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے اس جاں کی تو کوئی بات نہیں