Retweet if you would like an open trial of Wheeler Dealer Mohsin Naqvi & his crony IG Punjab for Murder, Torture, Kidnappings, Ransacking & Interference in Electoral Process.
They ran character assassination campaigns of ppl based on fake cases but will themselves be sentenced for their own real crimes.
Dear @elonmusk General election in Pakistan is going to be held on February 8th, internet will be shut down by the fascist government so we request you to provide us star link access for one day….!!
#StarlinkForPakistan
تمام تر ہتکھنڈے اپنا لینے کے بعد منصوبہ سازوں کو اندازہ ہوچکا ہے کہ عوام کا فیصلہ تبدیل کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ کسی نا کسی شکل میں تحریکِ انصاف کو کھیل کا حصہ رکھنا بھی مجبوری ہے تاکہ دنیا انتخابات کی شفافیت پر زیادہ سوال نہ اٹھائے لیکن لندن پلان کی کامیابی اور بیرونی آقاؤں کے ساتھ کیے وعدوں اور ذاتی مفادات کا تحفظ بھی مطلوب ہے۔ اس لیے بشری بی بی کےذریعے خان صاحب کو درج ذیل شرائط پہنچانے کی کوشش کی گئی؛
۱- مقتدرہ کے معتوب قرار دیے گئے افراد (جن میں میرا نام سرِ فہرست تھا) تحریری معافی مانگیں اور ہمیشہ کے لیے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلیں۔ ان کے خاندان کے افراد میں سے کسی کو آگے لایا جاسکتا ہے لیکن وہ خود دوبارہ سیاست میں حصہ نہیں لیں گے۔
۲- عمران خان اگلے تین سال بنی گالہ میں مقید رہیں گے اور پارٹی یا انتخابات جیتنے کی نتیجے میں بننے والی تحریکِ انصاف کی حکومت کو کسی قسم کا کوئ مشورہ سیاسی، یا حکومتی امور سے متعلق نہیں دے سکیں گے۔
۳- عمران خان کو تین نام دیے جائیں گے جن میں سے کسی ایک کو وہ اگلا وزیر اعظم نامزد کردیں گے، اور عوام میں تاثر یہی دیا جائیگا کہ یہ فیصلہ عمران خان کی جانب سے کیا گیا۔ ایک سال تک اِس حکومت کی کارکردگی کو جانچا جائیگا اور اُس کے بعد عمران خان اور تحریک انصاف کے مستقبل کا فیصلہ کیا جائیگا۔
بشری بی بی کی جانب سے خان صاحب تک اِن میں سے کوئ بھی شرط پہنچانے سے انکار کیا گیا جس کے بعد سے انہیں دباؤ میں لانے کے لیے تمام تر میڈیا اور ریاستی مشینری کا استعمال بروئے کار لایا جارہا ہے۔
میرے پاکستانیو میں جانتا ہوں آپ باشعور ہیں اور ان تینوں شرائط سے مطلوب نتائج کا اندازہ خود لگا سکتے ہیں! آپ یہ بھی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان شرائط کو نا ماننے کی صورت میں ان کو کِن نتائج کی دھمکیاں دی گئی ہونگی اور اُن پر کس رفتار سے عملدرآمد جاری ہے۔
آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ اِس وقت خان صاحب اور ان کی اہلیہ اُن کے نرغے میں ہیں۔ اور آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ کا شعور ان کے کسی انتہائ اقدام کے راستے کی اکلوتی رکاوٹ ہے۔حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے فی الحال میرا اس سے زیادہ کہنا مناسب نہیں۔ اس وقت ضروری ہے کہ آپ اپنا فوکس ۸ فروری پر رکھیں، اور اپنی آنکھیں اور کان کھلیں رکھیں۔
آپ کا لیڈر اللہ کے بعد آپ کے بھروسے یہ صعوبتیں جھیل رہا ہے۔
سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی سزا کا فیصلہ پوری قوم کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔جب فیصلے عدل و انصاف کی بجائے پسند و ناپسند کی بنیاد پر ہونے لگیں تو معاشرے میں آئین اور قانون اپنی حیثیت کھو بیٹھتے ہیں،اور لاقانونیت راج کرتی ہے۔ عوام کو عدالت کے کسی بھی فیصلے پر مشتعل ہونے کی بجائے ہوشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دانش و بصیرت کے دامن کو مضبوطی سے تھامے رکھنا ہوگا۔ اپنی توجہ 8 فروری کے انتخابات پر مرکوز رکھیں۔ ووٹ کی طاقت سے عالمی اسٹیبلشمنٹ اور ان کے آلہ کاروں کو شکست دیں جو ملک کی داخلی خودمختاری اور آزاد خارجہ پالیسی کو اپنی خواہشات کے تابع رکھنا چاہتے ہیں۔ اس وقت ملک کے ہر باشعور شہری کا واحد ہدف انتخابات کے روز ووٹ کی بلاتاخیر کاسٹ اور اس کی حفاظت کو یقینی بناناہوناچاہیئے۔ہم اس ملک کے پُرامن شہری اور محافظ ہیں۔ ان لٹیروں اور وطن فروشوں سے ملک کو بچانے کے لیے اپنے ووٹ کی طاقت کو استعمال کریں گے،ان شاءاللہ
بادشاہ ہذیان بک رہا ہے۔ عمران خان نے مرنا ہوتا تو ۴ نومبر کو مر جاتا۔ بادشاہ جانتا ہے اس کی فرعونیت کو خدائ کا شائبہ بھی ہوتا تو وہ ۱۸ مارچ کو مرجاتا۔ اور کچھ نہ سہی وہ تب مرجاتا جب اُس نے اُس کے ہیلی کاپٹر میں غلط تیل بھروایا۔ تب مرجاتا جب اپنے پیادوں کے زریعے اسے وہ بلٹ پروف دی کہ جس کی وائیرنگ میں گڑبڑ کردی تھی۔ بادشاہ کو بھی یاد ہے ہر وہ موقع جب اس کے بچھائے ہر جال سے وہ اس اعتماد سے نکلا کہ بادشاہ کی اپنی رگوں میں سنسنی دوڑ گئی۔بادشاہ جانتا ہے کہ عمران خان اب مر کر بھی نہیں مریگا وہ جہاں کھڑا ہے وہاں موت اُسے جاوداں کردیگی۔ مگر بادشاہ یہ حقیقت جھٹلا رہا ہے کیونکہ خوف اُسے اپنی موت کا ہے، داؤ پہ جو لگی ہے وہ اُس کی ریت پر کھڑی خدائ ہے کہ جس کی بنیادوں میں وہ چونٹیاں گھر کر گئیں ہیں جنہیں وہ پوروں میں مسل کر نکل جایا کرتا تھا۔ اب وہ چاہتا ہے کہ ان بنیادوں میں پانی چھوڑ دے۔ وہ سوچتا ہے ایسا کرنے سے چونٹیاں بوکھلا جائینگی۔ ڈر جائینگی۔ مر جائینگی۔ بادشاہ عمران خان کےبغض میں یہ بھول بیٹھا ہے کہ چونٹیوں کو پر بھی لگ جاتے ہیں اور کیسے نمرود کی خدائ ایک اڑتے کیڑے کی بدولت دیواروں سے ٹکریں مارتے مارتے ختم ہوگئی تھی۔
ہم جو اِن کی نظر میں حشرات ہیں۔۔ کیڑے مکوڑے۔۔ چونٹیاں۔۔یہ ہماری زندگی موت کے فیصلے کرتے ہیں۔ ہمارے سامنے دانا پکڑ کر ہمیں اس کے گرد گھماتے ہیں۔۔ دوڑاتے ہیں۔ جی چاہے تو کچل دیتے ہیں۔ جی چاہے تو مسل دیتے ہیں۔ ہمارے گِرد نمک کے دائرے کھینچ کر ہماری حدیں مقرر کرتے ہیں۔ ہمیں اپنی اوقات میں رکھتے ہیں۔ یہ بھول جاتے ہیں کہ جب حبس بہت بڑھ جائے تو آسمان برس پڑتا ہے اور جب آسمان برستا ہے تو چونٹیوں کو بھی پر لگ جاتے ہیں۔
بادشاہ اب بھی عمران خان کو اپنا مقابل سمجھ رہا ہے۔ بادشاہ سوچتا ہے اس کو ختم کردیا تو شاید وہ بچ جائے۔ بادشاہ نہیں جانتا کہ اس کے پھیلائے گھٹن میں جو دیمک پل رہا ہے وہ اسی کے وجود کو چاٹ رہا ہے۔بادشاہ کو اپنے پیروں کے گرد گھیرا ڈالتی چونٹیاں کم تر لگتی ہیں وہ سوچتا ہے انہیں تو ایک آن میں کچل دیگا۔ وہ نہیں جانتا کہ اس کی اونچی ناک کے نیچے اس کا دیمک لگا وجود گرنے کو ہے۔ ‘بس ایک عمران خان مرجائے تو وہ سب سنبھال لے گا’۔
بادشاہ کا تکبر اسے بھلا بیٹھا ہے کہ وہ انسان ہے اور انسانوں کو خدائ کا دعوی راس نہیں آتا۔
“All means of removing me from the political landscape were used. There were two assassination attempts on my life.” @ImranKhanPTI writes from prison that his party is being unfairly muzzled, in a guest essay for The Economist https://t.co/fjxBaqJ87B