Only joined to Follow PTI and Our PM Imran Khan. Proud Pushtoon, supporter of Imran Khan. Patent holder, Serial Entrepreneur, Business owner, Investor.
کیا آپ قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال صاحب کے بعد پاکستان کا قومی ہیرو عمران خان کو تسلیم کرتے ہیں ؟
آج اس ٹویٹ پر آنے والے رسپانس سے اندازہ ہو جائے گا ۔۔۔
...
#حقیقی_آزادی_لے_کر_رہیں_گے
بریکنگ نیوز 🚨: پائرس مورگن نے عمران خان سے تاریخی گفتگو اپنے شو میں چلا دی. میں موت کے خوف کو شکست دے کر ساست میں آیا ہوں، عمران خان کے تاریخی الفاظ 🔥
خبردار اسکو ریٹویٹ کیے بغیر کوئی نہ گزرے 🚨
صحافی ثاقب بشیر کا بڑا انکشاف ۔۔
آج سے دو تین ہفتے پہلے بیرسٹر گوہر علی خان نے 9 مئی کیسز میں سزاؤں کا معاملہ رکھا تو عمران خان نے کہا کہ " نو ڈیل ، کوئی مذاکرات نہیں ۔۔ آپکو پہلے بھی میں نے کہا تھا کہ یہ یہ چیزیں نہ لیکر آیا کریں ۔ آپ کھل کر احتجاج کریں ۔احتجاج کے ذریعے ہی حل نکلنا ہے آپ احتجاج نہیں کرینگے تو یہ آپکو جیلوں میں ڈالتے رہینگے۔۔ میں دو سال سے جیل میں ہوں کیا ہو گیا ہے؟ تو جیلوں سے نہ ڈریں" ۔۔
عمران خان بڑے straight تھے کہ جیلوں سے نہ ڈریں اور احتجاج کریں ۔۔
@saqibbashir156
باجوڑ امن کے لئے نکلنے والوں کو سلام۔
میرے پاکستانیو آپ کو اندازہ نہیں کہ مارٹر گولو، گن شیپ ہیلی کاپٹروں اور ڈرونز کے سائے میں امن کی آواز اٹھانا کتنا مشکل ہے۔ بندوق کی نالی کے سامنے عدم تشدد کا نعرہ بلند کرنے کے لیے کتنی جرات درکار ہوتی ہے۔ امن کے لئے متحد کرنے والے بغیر اشتہار اور بینر پوسٹر کے مہم کیسے چلاتے ہیں۔ جب “ریاست” ہی امن کے بجائے جنگ کا فیصلہ کر چکی ہو تو پھر جنگ روکنا اور اپنے گھر بچانا کتنا مشکل ٹاسک ہے۔ اس لیے آپ سے درخواست ہے کہ امن کا ساتھ دو اور جو ساتھی یہ مشکل ترین کام کر رہے ہیں ان کی آواز بنو۔ اگر یہ کامیاب ہو گئے تو ان کی کوشش آپ کے گھروں کو بھی اس آگ سے بچا لے گی جس کی تپش نے ہمارے گھر راکھ کیے تھے تو جھلسے آپ کے آنگن بھی تھے۔
دوسرا اہم معاملہ کہ امن تحریک اور جرگوں کی امن کے لیے لاکھوں کی تعداد میں مارچز دیکھ کر اب اپنے مقاصد کے لئے ان ہی ناموں (جرگہ وغیرہ) کو قانون سازی اور میڈیا بیانیہ کے لئے استعمال کا سلسلہ شروع ہو رہا ہے۔ ہم نے زمانہ طالب علمی میں آپریشن اور ڈالری جنگ کے خلاف آواز اٹھائی اور امن کا نعرہ بلند کیا تو فوج نے امن کے نام پر امن کمیٹیز بنا دیں جن کی حقیقت پختونخواہ کا ہر شہری جانتا ہے۔ حال ہی میں ہم نے جرگے کر کے امن تحریک سے نئی جنگ کا منصوبہ مالاکنڈ میں ناکام بنایا اور اسی طرز پر اب ہر ضلع میں امن کے قیام کے لئے جرگے کر کے امن مارچز کیے تو آئی ایس آئی اور فوج اب وفاق کی طرف سے قانون سازی سے لے کر آپریشن کے لیے راہ ہموار کرنے اور ہمارے جنازوں تک کے لیے جرگہ کا نام استعمال کرنے لگی ہے۔ نام نہیں طریقہ کار بدلو۔ پالیسی بدلو۔ یہ کھیل بند کر دو۔ ہمارا قومی جرگہ وہی ہے جو امن کا پرچم تھامے اس ڈالری جنگ کے خلاف نکل رہا ہے۔ اس کے علاوہ سابقہ فاٹا کے لیے نئی قانون سازی میں جرگہ کا عنوان دے کر یا کسی شہری پر گولی چلانے کے بعد سیف ہاوس میں پانچ افراد سے مل کر میڈیا کو جرگے کے ٹکرز جاری کرکے آپ اس کو ہماری قوم کا فیصلہ نہیں کہہ سکتے۔
امن تحریک، قومی جرگے کا بیانیہ واضح دو ٹوک اور لاکھوں لوگوں کی موجودگی میں بیچ چوک گونج رہا ہے کہ آپریشن نا منظور، ڈالری جنگ نا منظور، وسائل پر قبضہ نامنظور، نیا تجربہ نا منظور۔ یہ بھی قوم نوٹ فرما لے کہ امن اور جرگے کے نام پر مختلف آوازوں کو فوج کی طرف سے ہدایات مل گئی ہے لہذا تمام ساتھی آنکھ اور کان کھلے رکھیں، اپنی تحریک کو تمام سیاسی و نظریاتی وابستگیوں سے بالاتر رکھنا ہے۔ امن کی آوازوں کو دھمکیوں اور ٹارگٹ کلنگ کے بعد اب تقسیم کی کوشش بھی تیز ہے سو متحد رہیں تقسیم کی صورت یہ اپنے منصوبوں میں کامیاب ہوں گے۔ اسلام آباد مارچ کے حوالے سے تین اضلاع کے قومی جرگوں کا فیصلہ آگیا ہے باقی جرگوں کے فیصلے کے بعد حتمی اعلان کیا جائے گا، اسلام آباد مارچ بھی امن کے پرچم کے سائے تلے ہوگا اور سیاست سے بالاتر ہوگا۔
تیسری بات صوبائی اسمبلی کا اجلاس بلایا گیا ہے میں تمام اراکین اسمبلی کو یاد دلاتا چلوں کہ جب دہشت گردی کی اس نئی جنگ کو ہم پر تھوپنے کا آغاز ہوا تو پی ٹی آئی نمائندوں کو نشانہ بنانا بھی اس کا حصہ تھا جس کا آغاز ملک لیاقت علی پر قاتلانہ حملے سے ہوا جس میں وہ شدید زخمی اور ان کے خاندان کے افراد شہید ہوئے۔ ہم نے مشکل ترین حالات میں تحریک چلائی، اس وقت بہت سارے اراکین کو دھمکیاں مل چکی تھیں خوف کے بادل منڈلا رہے تھے لیکن میں نے خود کو بے گھر کیا اور آج آپ سمیت الحمد اللہ لاکھوں لوگ اپنے گھر میں محفوظ ہیں۔ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ جن علاقوں میں آج امن ہے یہ آپ کے پاس امانت ہے اور اس کی حفاظت آپ کی زمہ داری اور جہاں یہ آگ پھیل چکی اس آگ کو بجھانا اور قوم کا ساتھ دینا آپ کا فرض ہے۔ آپریشن، ڈرون حملے اور ڈالری جنگ کے خلاف اقدام اٹھانا آپ کی ذمہ داری ہے کیونکہ عمران خان کا موقف واضح ہے اور ان کے نام پر آپ کو ووٹ ملا۔ اس لیے واضح طور پر بتا دوں کہ امن پر کوئی سمجھوتہ نہیں، قوم پر کوئی سمجھوتہ نہیں۔
پرسوں ہی میں نے کہا تھا کہ کمٹمنٹس پورے کرنے کے لیے مافیہ نے آپریشن کا ارادہ کر لیا ہے اور آج آپ باجوڑ کے مناظر دیکھ رہے ہیں۔اب آپ کو چند دن بعد ٹی وی پر دکھایا جائے گا کہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے، اتنی تعداد میں خوارج جہنم واصل وغیرہ۔ ہمارے معصوم بے گناہ پاکستانی جن کو کرفیو کے نام پر گولی ماری گئی ہو یا جن کے گھروں پر مارٹر گولہ گرا ہو اس کا بھی بیانیہ تیار ہے اور اس کا مظاہرہ آپ نے کل دیکھا کہ ڈرون کے بعد مارٹر گولہ جس سے معصوم بچی شہید ہوئی اس کو بھی شر پسندوں اور خوارج کے کھاتے میں ڈالا گیا، کیمروں کے سامنے فوج کی گولیوں سے شہید کیے گئے معصوموں کو بھی کسی اور کے کھاتے میں ڈالا گیا۔ لیکن اہم ترین بات یہ ہے کہ دہشت گردی کے اس نئے کھیل کو ہر لمحہ ہر پل نہ صرف میں نے بے نقاب کیا بلکہ دو دفعہ سیکورٹی اداروں ریاست اور شرپسندوں کے گٹھ جوڑ سے کھیلے جانے والے اس کھیل کو مالاکنڈ ریجن سوات دیر بونیر شانگلہ مالاکنڈ میں ناکام بھی بنایا۔ مگر ہم روٹی کے پھیر میں ایسے الجھے ہیں کہ جب تک اپنے سر پر بندوق نہ تن جائے، جب تک اپنی چادر نہ چھنے، جب تک خود کا آنگن نہ راکھ ہو بولنا عبث بے کار ہی لگتا ہے جو ایسا نہیں تو اے میرے لوگو کچھ تو بولو؟ سوال تو اٹھاؤ؟ کیا آپ کو اسلام آباد پنڈی پشاور ہر جگہ بتایا نہیں تھا کہ ابھی ریاست میرے دعووں پر کہہ رہی ہے کہ پروپیگنڈا ہے لیکن کچھ عرصے بعد کہیں گے کہ شرپسند آئے، حملے ہوئے، پھر آپریشن کی بات ہوگی، پھر ہمارے لوگ بے گھر ہوں گے، جنازے اٹھیں گے، پھر ہمارے ہی شہر میں ہمارے گلے میں نمبر پلیٹ ڈال کر ہم سے پوچھیں گے کہ کہاں سے آئے ہو؟
کیوں میرے پاکستانیو! بتایا نہیں تھا کیا، اب بھی سمجھ نہیں آرہی؟ آپ سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتا ہوں کہ اپنے امن اپنے ملک اپنے ہم وطنو کا ساتھ دو کیونکہ ایک مرتبہ پھر؛ لگے گی آگ تو آئیں گے گھر سب ہی زد میں۔۔ جنازے اٹھیں گے تو سب کے اٹھیں گے اور یاد رکھیں مارٹر گولہ بہت سمجھدار ہوتا ہے یہ گرتا ہی عام لوگو کے گھر ہے دہشت گرد اس سے “کلمے کی طاقت” کی وجہ سے محفوظ رہتے ہیں۔ اور آپ محض گنتی بن کر رہ جاتے ہیں۔
آپ کو سمجھ آجانی چاہیے کہ یہ عمران خان کو رہا نہیں کرنا چاہتے۔ کوئی بھی اگر آپ کو کہے کہ عمران خان رہا ہونے لگے ہیں تو وہ عمران خان کا دشمن ہے۔ وہ یہ نہیں چاہتے کہ تحریک چلے، وہ جان بوجھ کر شیطانی کرتے ہیں، علیمہ خان