ہنزہ میں عمران خان کی فتح کا جشن منانے ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے ہیں، پورا ہنزہ جلسہ گاہ بن چکا ہے
اگر کسی کی خواہش ہے کہ وہ نتائج تبدیل کرے تو بہتر ہے کہ ایسی گھٹیا خواہش کو دل میں ہی دفن کرلے ورنہ نتائج خوفناک ہوں گے
جب آخری درخت بھی کٹ جاٸے گا، آخری مچھلی بھی پکڑ لی جاٸے گی، اور آخری دریا بھی آلودہ کر دیا جاٸے گا۔۔
جب تمام فضا زہر آلود ہو جاٸے گی۔ تو انسان کے ساتھ دیگر جاندار کیسے زندہ رہ پاٸیں گے؟؟؟
تب آپ کو احساس ہو گا اب بہت دیر ہو چکی۔
اور یہ احساس بھی ہو گا کہ بینکوں میں رکھے کرنسی نوٹ نہ تو آپ کھا سکتے ہیں ، اور نہ پی سکتے ہیں۔
اب بھی وقت ہے۔۔
درختوں کے ساتھ دوستانہ رویہ رکھنے کی بے حد ضرورت ہے ہمیں ، نٸے درخت لگانے اور انہیں پروان چڑھانے کی ضرورت ہے ۔۔
اپنی آنے والی نسلوں کے لیے بہترین تحفہ جو آپ دے سکتے ہیں ، وہ درخت ہیں۔🌳
درخت لگاٸیے، 🌳 نسلیں بچاٸیے
درخت لگانا ہمارے نبي پاک رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت ہے ۔۔
فلسطینی شہری: "میرے پاس دستاویزات ہیں، یہ میرا گھر ہے۔"
• اسرائیلی وزیر بن گویر: "مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ 2 گھنٹوں کے اندر یہاں سے چلے جاؤ، ورنہ مار دیے جاؤ گے۔"
کیا اس ظلم کو دیکھنے اور خاموش رہنے والی انسانیت بھی اس ظلم میں شریک نہیں سمجھی جائے گی؟
- IMF کے مطابق پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی 5300 ارب روپے کی کرپشن گزشتہ 4 سال میں ہوئی
- پاکستان کی تاریخ میں پچھلے ساٹھ سالوں میں سب سے کم ترین بیرونی سرمایہ کاری 2022 سے 2026 میں ہوئی
- پاکستان کی تاریخ کا سب سے زیادہ ٹیکس 50 ہزار ارب روپے پچھلے چار سالوں میں عوام سے لیا گیا
- پاکستانیوں نے سب سے بڑی تعداد میں ملک پچھلے تین سالوں میں چھوڑا
- پچھلے تین سالوں میں دہشتگردی نے بیس سالہ ریکارڈ توڑ دیا
- پچھلے تین سالوں میں سب سے بڑی تعداد میں تقریباً 79 فارن کمپنیوں نے پاکستان میں اپنا کاروبار بند کر دیا
- پاکستانی پاسپورٹ تاریخ کی بدترین رینکنگ میں صومالیہ سے بھی نیچے جا گرا۔
- گزشتہ 4 سالوں میں 57،000 ارب کا قرضہ لیا لگا کہاں پتہ نہیں۔
ہم کس کے دامن پہ اپنا
لہو تلاش کریں ۔۔۔۔۔۔۔؟
😢😭💔
جہانگیر ترین کی فرعونیت ۔۔۔۔۔
جہانگیر ترین کے فارم کے سامنے رہنے والے غریب لوگوں کی زندگی اجیرن بنا دی گئی جب بھی کوئی گھر سے باہر نکلتا ہے فارم ہاؤس کے گارڈز اسلحہ لے کے پہنچ جاتے مار پیٹ گالیاں نکالنے کے جاتے ہیں ۔۔۔۔
اور بیٹا انکا سوشل میڈیا پے نیک پروین بنا ہوا
انور مقصود صاحب کو
اسلام آباد جا کر حالات دیکھنے کی ضرورت نہیں،
کیونکہ اس ملک میں کردار
بدلتے ہیں، کہانی نہیں !
گزشتہ پینتالیس برس سے وہ
جس نظام پر طنز لکھ رہے ہیں،
وہ نظام اتنا بے حس ہے کہ
ہر طنز کو سچ ثابت کرنے کے لیے
اگلا واقعہ خود تخلیق
کر دیتا ہے۔
یہاں مسائل بدلنے کے بجائے
نسلوں میں منتقل ہوتے ہیں،
اس لیے آئینہ دکھانے والے کو
منظر دیکھنے نہیں،
صرف یادداشت رکھنے کی ضرورت
ہوتی ہے۔
بلاول بھٹو گلگت بلتستان پہنچا ہے،کیا اسکو صوبہ بدر کیا جائے گا؟
کیا اس سے این او سی مانگا جائے گا؟
پی ٹی آئی رہنماؤں کو تو صوبہ بدر کیا گیا اور این او سی مانگا گیا تھا۔
اب؟